امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل میں بڑی پیش رفت اور ساتھ ہی سخت تبدیلیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے ساتھ زیرِ غور معاہدے کے مسودے میں بعض نکات کو تبدیل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے اسے مزید سخت شرائط کے ساتھ دوبارہ تیار کرنے کا کہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کے سٹیٹ روم میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے دوران امریکی ٹیم اور ایرانی حکام کے درمیان پہلے سے طے شدہ معاہدے کے مسودے پر نظرثانی کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق شقوں کو مزید سخت اور واضح بنانے پر زور دیا۔
امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیم کے کنٹرول، اس کی نگرانی کے طریقہ کار اور اس کے نفاذ کے وقت سے متعلق نکات میں مزید تفصیلات شامل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ معاہدہ فوری نتیجہ خیز ہونا چاہیے مگر اس میں سکیورٹی پہلوؤں کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہرمز آبنائے کے کھلنے سے متعلق شقوں میں بھی تبدیلی کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ ایران سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ نظرثانی شدہ مسودے پر آئندہ چند دنوں میں جواب دے گا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کو بھیجا گیا ابتدائی مسودہ واپس لے کر اس میں مزید سخت شرائط شامل کرنے کے بعد نیا مسودہ دوبارہ تہران کو بھجوا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ بعض شقوں میں ایرانی اثاثوں کی منجمد رقم کے ممکنہ اجراء کی گنجائش موجود تھی، جسے وہ مناسب نہیں سمجھتے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان سمیت مختلف ثالثی کردار ادا کرنے والے فریقین کے ذریعے جاری مذاکرات کی رفتار سے امریکی صدر مطمئن نہیں ہیں اور وہ جلد از جلد حتمی معاہدہ چاہتے ہیں، تاہم اس کے لیے شرائط کو مزید سخت بنایا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے اس اقدام سے ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل ایک نئے اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں آنے والے دنوں میں دونوں فریقین کے درمیان مزید کشیدگی یا نئی پیش رفت کا امکان موجود ہے۔
