شبانہ ایاز- انقرہ
ترکیہ میں ایک ٹی وی ڈرامہ ایک بار پھر اُس نظریاتی کشمکش کو زندہ کر رہا ہے جو کئی دہائیوں سے ملک کی سیاست، معاشرت اور ریاستی شناخت کا مرکزی موضوع رہی ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی پر نشر ہونے والا ڈرامہ شولے سینن ہیکایین صرف ایک تاریخی شخصیت کی زندگی کی کہانی نہیں بلکہ ترکیہ کے دو بڑے نظریاتی دھڑوں کے درمیان جاری ثقافتی اور سیاسی بحث کا نیا میدان بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
یہ ڈرامہ معروف مصنفہ اور سماجی کارکن شعلہ یوکسل شینلر کی زندگی پر مبنی ہے، جنہیں ترکیہ میں محافظہ کار اور مذہبی طبقے کی خواتین کی جدوجہد کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے تو دوسری طرف سیکولر اور کمالسٹ حلقے اس ڈرامے کو تاریخ کے ایک مخصوص بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
ترکیہ کی سیاست کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ یہاں اصل تقسیم صرف سیاسی جماعتوں کی نہیں بلکہ دو مختلف نظریات کی ہے۔
ایک طرف وہ طبقہ ہے جو مذہبی آزادیوں، حجاب کے حق اور عثمانی و اسلامی ورثے کو ترکیہ کی شناخت کا بنیادی حصہ سمجھتا ہے۔
دوسری جانب سیکولر اور کمالسٹ حلقے ہیں جو جدید جمہوریہ کے بانی مصطفی کمال اتاترک کے نظریۂ لائیکیت کو ریاست کی بنیاد قرار دیتے ہیں اور مذہب کے سیاست میں بڑھتے کردار پر تحفظات رکھتے ہیں۔
شولے سینن ہیکایین انہی دو بیانیوں کے درمیان واقع ہے۔
1960 اور 1970 کی دہائیوں میں شعلہ یوکسل شینلر ترکیہ میں مذہبی شناخت اور حجاب کے حق کے لیے ایک نمایاں آواز بن کر سامنے آئیں۔
انہوں نے اپنے مضامین، تقاریر اور سماجی سرگرمیوں کے ذریعے مسلم خواتین کو فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔ اُس دور میں جب ریاستی اداروں اور جامعات میں حجاب پر سخت پابندیاں نافذ تھیں، شینلر کی تحریک بہت سے مذہبی خاندانوں کے لیے امید کی علامت بن گئی۔
1970 سے 1980 کی دہائی کے دوران انہوں نے حجاب کی پابندیوں کے خلاف کتابیں لکھیں، کالم لکھے اور ناولز تحریر کیے۔ اس جرأت مندانہ جدوجہد کے بدلے میں انہیں نہ صرف سماجی دباؤ بلکہ جیل” بھی جانا پڑا اور سخت ریاستی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم یہ تمام مشکلات انہیں اپنے موقف سے نہ ہٹا سکیں۔
2019 میں شعلہ یوکسل شینلر کا انتقال ہوا ان کی وفات پر ترکیہ کے صدر طیب ایردوان نے خود ان کے جنازے کی امامت کی، جو اس بات کی علامت تھی کہ محافظہ کار حلقوں میں ان کا مقام کتنا بلند تھا۔
انہیں ریاستی دباؤ، عدالتی مقدمات اور مختلف پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے محافظہ کار حلقے انہیں حجاب کی جدوجہد کی علمبردار قرار دیتے ہیں۔
ڈرامے کی نشریات کے حوالے سے ایک اور پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ جہاں ایک طرف اپوزیشن حلقے اس ڈرامے پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں، وہیں ترکیہ کے معروف اسٹریمنگ پلیٹ فارم پر شعلہ یوکسل شینلر کی زندگی پر ڈرامے کی نشریات نے لبرل حلقوں میں بحث کو مزید تیز کر دیا ہے، جس سے دونوں طرف کے نظریاتی اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
سیکولر اپوزیشن، خصوصاً ریپبلکن پیپلز پارٹی سے وابستہ حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ ڈرامہ ایک غیرجانبدار تاریخی پیشکش نہیں۔
ترکیہ کے ابلاغیاتی اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ جب کوئی ریاستی نشریاتی ادارہ کسی ایک نظریے کی تاریخی شخصیت کو مرکزی موضوع بناتا ہے تو یہ سوال فطری طور پر اٹھتا ہے کہ یہ پیشکش کس تناظر میں اور کس مقصد سے کی جا رہی ہے۔ یہ سوال کسی ایک فریق کا نہیں بلکہ میڈیا کے غیرجانبدارانہ کردار سے متعلق ایک عمومی اصول ہے۔
ان حلقوں کے بنیادی اعتراضات یہ ہیں کہ ڈرامے میں تاریخ کو ایک مخصوص نظریاتی زاویے سے پیش کیا گیا ہے۔ جمہوریہ کے ابتدائی دور اور سیکولر اصلاحات کے بارے میں یک طرفہ تاثر دیا جا رہا ہے۔ مذہبی نقطہ نظر کو مثبت اور سیکولر ریاستی پالیسیوں کو منفی انداز میں دکھایا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اسے یک طرفہ تاریخی بیانیہ قرار دیا۔ یہ بیانات متعلقہ افراد کے ذاتی خیالات ہیں اور ان سے اس رپورٹ کا اتفاق یا اختلاف نہیں۔
حکومت اور محافظہ کار طبقے کا مؤقف بالکل مختلف ہے۔
ان کے نزدیک یہ ڈرامہ اُن خواتین کی کہانی ہے جن کی قربانیوں اور جدوجہد کو طویل عرصے تک سرکاری تاریخ میں جگہ نہیں دی گئی۔ حکومت حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ڈرامہ ترکیہ کی اُن بیٹیوں کو آواز دیتا ہے جنہیں دہائیوں تک خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا۔
ان کے مطابق یہ ڈرامہ ترکیہ کی سماجی تاریخ کا ایک نظر انداز شدہ باب سامنے لا رہا ہے۔ حجاب پر عائد پابندیوں اور مذہبی طبقے کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے۔ مخالفین دراصل اس لیے ناراض ہیں کیونکہ پہلی مرتبہ ان کی اپنی تاریخ پر تنقیدی نظر ڈالی جا رہی ہے۔
ڈرامے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف شعلہ یوکسل شینلر کی زندگی نہیں دکھائی گئی بلکہ ایک جدید اداکارہ "اوزگے” کی کہانی بھی شامل کی گئی ہے جو شعلہ کے کردار کی تیاری کے دوران اپنے ذاتی، خاندانی اور سماجی مسائل سے دوچار ہوتی ہے۔
اسی نکتے پر ناقدین کا اعتراض سب سے زیادہ ہے۔ ان کے خیال میں ماضی اور حال کو جوڑ کر ایک ایسا پیغام دیا جا رہا ہے جس سے موجودہ سیاسی ماحول اور حکومتی بیانیے کو اخلاقی جواز ملتا ہے۔ یہ تجزیہ ناقدین کا اپنا نقطہ نظر ہے
ترکیہ کے سیاسی اور ثقافتی حلقوں میں یہ بات عام طور پر تسلیم کی جاتی ہے کہ ہر چند سال بعد ایک ایسا ثقافتی واقعہ سامنے آتا ہے جو ترکیہ کی اصل نظریاتی تقسیم کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ یہ ڈرامہ اسی سلسلے کی تازہ کڑی سمجھا جا رہا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ ترکیہ کی شناخت کیا ہے؟ کیا ترکیہ بنیادی طور پر ایک سیکولر جمہوریہ ہے؟ یا ایک ایسی ریاست جو اپنی اسلامی اور عثمانی جڑوں کے ساتھ دوبارہ تعلق جوڑ رہی ہے؟
یہی سوال گزشتہ بیس برس سے ترکی سیاست کا محور ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک ڈرامہ بھی قومی بحث کا موضوع بن جاتا ہے
ڈرامے کی نشریات کے بعد سوشل میڈیا پر واضح تقسیم دیکھنے میں آئی۔
ایک طرف اسے حجاب کی جدوجہد کی سچی داستان قرار دیا گیا، جبکہ دوسری طرف بعض ناقدین نے اسے "نظریاتی طور پر یک رخی پیشکش” قرار دیا۔ یہ تمام تاثرات متعلقہ حلقوں کے اپنے خیالات ہیں اور کسی ایک نقطہ نظر کی توثیق اس رپورٹ کا مقصد نہیں۔
چند اداکاروں اور پروڈکشن ٹیم کے ارکان کو تنقیدی مہمات اور آن لائن ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑا، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ ترکیہ میں ثقافتی مصنوعات بھی اب براہ راست سیاسی تنازعات کا حصہ بن چکی ہیں۔
ترکیہ میں شولے سینن ہیکایین ایک ٹی وی ڈرامے سے کہیں بڑھ کر بن چکا ہے۔ یہ دراصل اُس پرانی بحث کا نیا باب ہے جو حجاب، لائیکیت، مذہبی آزادی، کمالزم اور قومی شناخت کے گرد گھومتی رہی ہے۔
شعلہ یوکسل شینلر کی زندگی پر مبنی یہ ڈرامہ ایک مرتبہ پھر یاد دلا رہا ہے کہ ترکیہ میں تاریخ صرف ماضی کا قصہ نہیں بلکہ آج کی سیاست کا بھی اہم میدان ہے۔ اور شاید اسی لیے ایک ڈرامہ بھی پورے ملک میں اتنی بڑی نظریاتی بحث چھیڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
