انقرہ میں ایک دن

تحریر: عارف الحق عارف

ترکیہ کے دورے کے دوران ایک رات کےلئے ہم انقرہ ٹھرے اور ترکیہ  کے سرکاری ٹی وی ٹی آرٹی کے ہیڈ کوارٹر اور قلعہ انقرہ کا دورہ کیا اور اپنے دوست فرقان حمید بھائی کی مہمان نوازی کا جہاں لطف اٹھایا وہیں سری نگر کے مایہ ناز صحافی اور مصنف افتخار گیلانی سے ملاقات کی دیرینہ خواہش بھی پوری ہوئی۔

فرقان حمید گزشتہ ۳۰ برسوں سے ترکیہ  میں ہیں۔بڑے تجربہ کار صحافی اور ترکیہ اور اردو کے ادیب اور ترکیہ  اردو اور اردو ترکیہ ڈکشنری کے مصنف ہیں۔ اس ڈکشنری کی تقریب رونمائی میں پاکستان اور ترکیہ  دونوں کے صدور آصف علی زردای اور عبداللہ گل نے مشترکہ طور پر مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی تھی۔

یہ بھی پہلی بار تھا کہ کسی مصنف کی کسی کتاب کی تقریب رونمائی دو ملکوں کے صدور مشترکہ طور پر کریں۔

اس سے مصنف اور اس کی تصنیف کی عظمت و تکریم کا اظہار ہوتا ہے۔

وہ پہلے پاکستانی ہیں، جنہوں نے ترکیہ  زبان اور لٹریچر میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ ان کی پاکستان اور ترکیہ کو ایک دوسرے سے قریب لانے کےلئے بڑی خدمات ہیں۔ ترکیہ اور ترک زبان سے ان کو والہانہ لگاؤ ہے۔ ان کا تعلق راولپنڈی سے ہے۔پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد انہوں نے 1984 سے 1988 تک نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ماڈرن لینگویجز میں ترکیہ  زبان کو پڑھایا۔اسی دوران ریڈیو پاکستان میں بھی ترکیہ زبان کے مترجم اور اناؤنسر کے فرائض انجام دیتے رہے۔1988 میں ان کو ترکیہ میں اعلی تعلیم کےلئے اسکالر شپ مل گیااور انقرہ یونیورسٹی سے ماسٹر اور پی ایچ کی ڈگری لی۔

1993 میں انہوں نے ترک زبان اورلٹریچر میں ڈاکٹریٹ کر لیا اور اسی یونیورسٹی میں تدریس شروع کردی اس کے ساتھ ہی ترکیہ کے سرکاری ٹی وی ٹی آر ٹی کی اردو سروس میں بھی کام کرنے لگے۔انہوں نے 2004 سے 2007 تک انقرہ یونیورسٹی میں انگریزی کے استاد کی حیثیت سے بھی کام کیا۔

اس کے ساتھ ساتھ وہ 1995 سے 2007 تک پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی اور بی بی سی میں نامہ نگار کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔

2006 سے جنگ گروپ میں جنگ اور جیو کے نامہ نگار اور کالم نگار ہیں۔وہ ہر ہفتے ترکیہ  کے حالات پر معلومات افزا کالم لکھتے اور اپنے قارئین کو آگاہ رکھتے ہیں۔

وہ ترکیہ سے پاکستان آنے والے سربراہان مملکت اور حکومت اور دیگر اعلی شخصیات اور پاکستان سے ترکیہ کا دورہ کرنے والے سربراہان مملکت اور حکومت کی ترجمانی کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔جن میں عبدللہ گل، طیب ایردوان، انگین آلتان، عبدالرحمن غازی،آصف علی زرداری،بینظیر بھٹو،سید یوسف رضا گیلانی، جنرل مشرف، نواز شریف، شہباز شریف اور عمران خان شامل ہیں۔

وہ نہائت نفیس طبیعت کے مالک اور بڑے مہمان نواز ہیں۔ان سے ہماری دوستی کئی برسوں پر محیط ہے۔انہوں نے ہماری مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

افتخار گیلانی کا تعلق سری نگر سے ہے اور وہ انڈیا کے ایوارڈ یافتہ مایہ نازصحافی،کالم نگار اور مصنف ہیں۔وہ گزشتہ تین عشروں سے مسلسل صحافتی میدان میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔

انڈیا کے بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز کے بیورو چیف رہے ہیں۔برصغیر پاک و ہند اور مشرق وسطی کی سیاست ان کی صحافت کا مرکز و محور ہے۔2019 سے وہ ترکیہ میں ہیں اور اس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولہ کے بین الاقوامی ڈویژن میں کام کرتے ہیں اور ایشیا بحر الکاہل، امریکہ، مشرق وسطی، افریقہ اور یوروپ کے امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ترکیہ آنے سے پہلے وہ انڈیا کے ڈیلی نیوز اینلیسز ( ڈی این اے) اخبار کے تضویراتی امور کے ایڈیٹر تھے۔یہ اخبار بیک وقت دہلی،بمبئی، پونا، بنگلور، اِندور اور جےپور سے شائع ہوتا ہے۔

گیلانی صاحب نے تہلکا ڈاٹ کام، کشمیر ٹائمز میں بھی کام کیا ہے۔ وہ پاکستان کے روزنامہ پاکستان اور ڈیلی ٹائمز کے بھی دہلی میں نمائندے رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ روزنامہ دنیا اور روزنامہ 92 کے کالم نگار بھی رہ چکے ہیں وہ سید ابوالاعلی مودودی رح کے جاری کردہ ماہنامہ ترجمان القرآن میں مستقل لکھتے ہیں۔

پاکستان کی جاسوسی کے الزام میں وہ جیل بھی جا چکے ہیں اور انگریزی میں my days in prison لکھ چکے ہیں۔جس کو 2008 میں بھارتی سہتیہ اکیڈمی ایوارڈ دے چکی ہے۔ان کو جنوبی ایشیا میں شورش پر آسٹریلیا کے ایک ریسرچ پروجیکٹ میں شاندار کارکردگی پر مقبوضہ کشمیر کی حکومت نے خصوصی ایوارڈ بھی دیا تھا. ان کو ان کی صحافتی خدمات پر شاہ ولی اللہ ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔وہ صحافت سے متعلق دنیا کے بعض مایہ ناز تھنک ٹیکس کے فیلو کے علاوہ انڈین پارلیمنٹ پریس ایڈوائزری کمیٹی کے ڈپٹی چئرمین اور پریس ایسوسی ایشن کے نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔

لیکن ان کا سب سے بڑا تعارف یہ ہے کہ وہ تحریک آزادی کشمیر کے قائد حریت سید علی گیلانی مرحوم کے داماد ہیں۔ ان سے غائبانہ تعارف تھا اور ملنے کی خواہش تھی جو اب پوری ہوئی۔ان سے فون پر جب بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ وہ ہم سے عرصے سے واقف ہیں۔

ہم سوگوت سے چلے تو مسلسل بارش ہورہی تھی۔اسی حالت میں سفر جاری رہا۔ ہم بس کے ذریعہ رات 8 بجے انقرہ پہنچے تو فرقان بھائی ٹی آرٹی کے ہیڈ کوارٹر میں مہمانوں کے ساتھ ہمارے منتظر تھے۔ ہم ٹیکسی سے وہاں آئے تو انہوں نے مین گیٹ پر ہمارا استقبال کیا۔

ہم وہیں سے سیدھے ہمیں ٹی آر ٹی کے ریسٹورنٹ میں آگئے جہاں افتخار گیلانی اور اسی ادارے کے ایڈیٹر شفیق صاحب اور مظہر صاحب بھی ہمارا انتظار کررہے تھے۔ ان تینوں سے پہلی بار ملاقات ہورہی گھی۔لیکن جب بات چیت شروع ہوئی تو کئی مشترکہ ڈاک خانے مل گئے اور ایسا لگا کہ ہم سب ایک دوسرے کو پہلے سے اچھی طرح جانتے ہیں۔ رات کو دیر تک ہماری گپ شپ جاری رہی اور پھرفرقان ہمیں اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے۔ وہاں ایک بار پھر ترکی چائے کا دور اور گپ شپ 12 بجے رات تک جاری رہی۔ صبح فرقان بھائی نے ہمارے لئے ازخود مزیدار ناشتہ تیار کیا اور ہماری اس بات کو غلط ثابت کردیا کہ ہم ہی اچھے کھانے اور ناشتہ بنا تے ہیں۔ معلوم ہوا کہ وہ تو بڑے اچھے اچھے کھانے بھی بنا لیتے ہیں۔وہ اتوار کو بھی بھی ڈیوٹی پر تھےاس لئے گھر سے کچھ خبریں تیار کیں اور پھر وہ ہمیں لے کر اپنے دفتر ٹی آر ٹی آگئے۔دوپہر کا کھانا ٹی آر ٹی کی ایک بڑی کنٹین میں کھایا، جس میں بیک وقت کئی سو افراد کھانا کھا سکتے ہیں۔اس سے فارغ ہوئے تو وہ ہمیں ٹی آر ٹی کا ٹی وی نیوز اسٹوڈیو دکھا نے لے گئے۔ہمیں اس کرسی پر بٹھایا، جہاں نیوز ریڈرز ترکی میں خبریں پڑھتے ہیں۔ہم نے اس کا ایڈیٹنگ روم بھی دیکھا۔فرقان بھائی نے اپنے دفتر میں تین بجے کے بلیٹن کی اردو خبریں تیار کیں اور اسٹوڈیو جا کر خود ان کو نشر کیا۔

وہ ہمیں ترکیہ ٹیلیویژن کے اس سیکشن میں بھی لے گئے جہاں سے دنیا کی 14 زبانوں میں دنیا بھر میں خبریں نشر کی جاتی ہیں۔وہاں ہماری ملاقات چین کے علاقے اویگر سے تعلق رکھنے صحافی میر کلام کاشغری سے ہوئی اور ان سے وہاں کے مسلمانوں کے حالات دریافت کئے۔انہوں نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے صرف اتنا کہاکہ حالات مزید خراب ہو چکے ہیں اور اب منظم نسل کشی کی جارہی ہے۔اللہ تعالی ان مظلوم مسلمانوں کی حفاظت کرے۔انسانی حقوق کی عالمی تینظیموں کو اس نسل کشی اور ظلم و زیادتی کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیئے۔

ہم ٹی آر ٹی کے دفتر سے فارغ ہوئے تو ہمارا رخ صدیوں پرانے قلعہ انقرہ کی طرف تھا۔یہ قلعہ ساتویں صدی قبل مسیح کے زمانے کا ہے۔جو انقرہ شہر کے درمیان بہت بلند پہاڑی پر تعمیر گیا گیا۔اس قلعے سے چاروں طرف شہر کا بہت ہی خوب صورت منظر نظر آتا ہے۔اس کو دیکھنے کےلئے سیاحوں کا جم غفیر موجود تھا۔اس کی چوٹی تک جانے کےلئے بڑی چڑھائی چڑھنا پڑتی ہے۔ہمارے گائیڈ اور فرقان حمید نے بہت روکا کہ آپ اتنی بلندی تک نہیں جاسکیں گے لیکن ہم نے ہمت کی اور اللہ تعالی کے فضل و کرم سے چوٹی پر پہنچ ہی گئے۔ اس قلعہ میں حملہ آوروں کو روکنے کےلئے بڑے بڑے ٹاور اور مورچے بنائے گئے ہیں۔قلعہ کئی جگہوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر آیا لیکن اس کا پیشتر حصہ اپنی اصل حالت میں موجود ہے اور سات سو سال قبل مسیح کے طرز تعمیر کا اچھا نمونہ پیش کرتا ہے۔یہ قلعہ رومن، بزنطینی، سلجوک اور عثمانیوں جیسی اپنے اپنے زمانے کی طاقت ور ترین ایمپائرز کے دبدبے اور جبروت کی شاہد رہ چکاہے۔یہ بڑی طاقتیں تو مرور زمانہ کے ساتھ ختم ہو گئیں لیکن یہ قلعہ اب بھی موجود ہے اور ان کے تزک و احتشام اور جبر وجبروت اور ان کی طاقت کا مذاق اڑا رہا ہے اور یہ پیغام دے رہا ہے کہ باقی رہنے والی ذات صرف اللہ تعالی کی ہے۔

انقرہ کا دورہ ہمارے پروگرام کا حصہ نہیں تھا لیکن فرقان حمید بھائی اور افتخار گیلانی سے ملاقات کی دبی دبی خواہش کی بنا پر ہم نے ایک دن وہاں ٹھہرنے کا پروگرام بناہی لیا، اس لئے وقت بڑا کم تھااور ہم اس کے دیگر تفریح اور تاریخی مقامات نہ دیکھ سکے۔

Read Previous

آذربائیجان:بین الاقوامی چیریٹی بازار 22 اکتوبر کو باکو میں منعقد کیا جائے گا

Read Next

ہمارے غم میں شریک ہونے پر تمام دوست ممالک کا شکر گزار ہوں ، صد ایردوان

Leave a Reply