ترک اور امریکی وزرائے خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ، مشرقی بحیرہ روم تنازعے پر بات چیت

ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی جس میں مشرقی بحیرہ روم کے تنازعے پر تبادلہ خیال کیا۔

ترک شمالی قبرص کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ گذشتہ ہفتے امریکی وزیر خارجہ نے جنوبی یونانی قبرص کا دورہ کیا تھا جس میں اسلحے کی خریداری پر عائد پابندیاں ختم ہونے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا تھا۔

ترکی نے مطالبہ کیا ہے کہ مائیک پومپیو شمالی ترک قبرص کا بھی دورہ کریں اور اس پر اسلحے کی خریداری پر عائد پابندیاں بھی ختم کی جائیں۔

دو قبرصوں میں سے ایک سے اسلحے کی پابندی ختم کرنا جانبدارانہ فیصلہ ہے۔

مشرقی بحیرہ روم میں اس وقت قدرتی وسائل کے حوالے سے کئی ممالک میں تنازعہ چل رہا ہے جس میں سب سے بڑی کشیدگی یونان اور ترکی کے درمیان ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب کو مشرقی بحیرہ روم تنازعے میں ترک موقف سے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی بحیرہ روم میں ترکی کی سمندری حدود دیگر تمام ممالک کے مقابلے میں سب سے بڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی اور شمالی ترک قبرص کا مشرقی بحیرہ روم کے قدرتی وسائل میں ایک بڑا حق ہے جس پر ترکی کسی صورت دستبردار نہیں ہو گا۔

ترکی نے واضح کیا کہ مشرقی بحیرہ روم تنازعے کو بات چیت سے حل کرنے کی پیشکش کی گئی ہے لیکن یونان کسی طور پر بھی مذاکرات کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔

Read Previous

خود مختار اور جمہوری افغانستان کی حمایت پر ترکی کا شکریہ، افغان وزیر خارجہ

Read Next

کیا ہم کورونا وائرس سے اب محفوظ ہیں؟

Leave a Reply