پاکستان کو بچانے کا ایک ہی راستہ ہے،صاف اورشفاف الیکشن،سابق وزیر اعظم عمران خان

چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب تک ملک میں سیاسی بحران ہے معیشت مزید نیچے جائے گی، ہمارے پاس ایک ہی راستہ بچا ہے کہ صاف اور شفاف انتخابات کروائیں، اس الیکشن کمشنر پر ہمیں کوئی اعتماد نہیں ہے، الیکشن کمشنر کو استعفیٰ دینا چاہیے۔

عوام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ جس طرح پنجاب کے عوام ووٹ ڈالنے کے لیے نکلے ہیں میں شکریہ بھی ادا کرتا ہوں اور خراج تحسین بھی پیش کرتا ہوں، یہ ملک کے لیے خوش آئند ہے، میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا وقت آیا ہے کہ ہم سب کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ عوام کو اپنے نظریے کی سمجھ آ گئی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے پنجاب کےضمنی انتخابات میں اپنی مہم کے درمیان اپنی قوم کو صرف ایک ہی چیز بتائی کہ پاکستان کا مطلب اور تیرا میرا رشتہ کیا لا الہ الا اللہ، یہ پاکستان کا نظریہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ایک فلسفے کا نام ہے، جس دن ہم اسے سمجھ گئے اپنا نظریہ سمجھ جائیں گے، جس دن ہم نظریہ سمجھ جائیں گے تو یہ قوم عظیم بن جائے گی، قوم نظریے کے بغیر نہیں بن سکتی وہ عوام کا ہجوم ہوتا ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ بیرونی سازش کے تحت ہمارے اوپر امپورٹڈ حکومت مسلط کی گئی تو عوام نے پوچھنا شروع کیا کہ قائداعظم نے ہمیں ہندؤں کی غلامی سی نجات دلائی تھی تو ہم کسی اور کی غلامی کے لیے تیار نہیں ہیں، جس طرح یہ لوگ ہم پر مسلط کیے گئے، میں نے اپنی قوم میں شعور و بیداری دیکھی، میں اس لیے خوش ہوں کہ ہم اللہ کے فضل سے قوم بننے جارہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ جب ہم قوم بن جائیں گے تو قرضوں سمیت جتنے بھی مسئلے ہیں یہ حل ہونا شروع ہو جائیں گے، ملک کی اشرافیہ نے ملک سے باہر کیوں فلیٹ خریدے ہوئے ہیں، اپنا پیسہ باہر کیوں رکھا ہوا ہے؟ کیونکہ یہ لوگ پاکستان پر اعتماد ہی نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے کبھی سنا ہے کہ برطانیہ، فرانس یا یورپ اپنے پیسے ملک سے باہر رکھیں، اور اپنے بچوں کو دوسرے ملک کا شہری بنا دیں، ملک کے رہنما کہتے ہیں کہ ہم پاکستان کے لیے مرنے کو تیار ہیں اور جائیدادیں ہم نے باہر رکھی ہوئی ہیں، عیدیں، چھٹیاں سب کچھ باہر مناتے ہیں، علاج، شاپنگ باہر کرتے ہیں، ایسے قوم نہیں بن سکتی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ میں قوم کے اندر بیداری دیکھ رہا ہوں، قائد اعظم نے جس طرح اپنی خراب صحت کے باوجود انتھک جدوجہد کی، اور ڈاکٹروں کو بھی پتہ نہیں چلنے دیا کہ وہ بیمار ہیں کہ کہیں مخالفین کو نہ پتہ چل جائے، اس طرح کی قربانیوں سے ملک بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو فخر کرنا چاہیے کہ جس طرح لوگ نکلے اور جس طرح خواتین نکلیں، اور نوجوان نکلے یہ نیا پاکستان ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب ہماری حکومت تھی تو مصنوعی سیاسی بحران پیدا کیا گیا، پاکستان کے اقتصادی جائزے کے مطابق 17 سال کے بعد پاکستان کی معیشت نے سب سے زیادہ ترقی ہماری حکومت کے آخری دو سالوں میں کی ہے، تیسرے سال شرح نمو 5.6 فیصد اور چوتھے سال 6 فیصد تھی، ملک کے تمام معاشی اعشاریے بہتر تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑی چیز انڈسٹری ہوتی ہے، جب بڑی صنعتیں ترقی کرتی ہیں تو ٹیکس میں اضافہ ہوتا ہے، ملک کی دولت میں اضافہ ہوتا ہے، ہمارے دور میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ ریکارڈ سطح سے بڑھ رہی تھی، 60 فیصد آبادی کا انحصار زراعت پر ہوتا ہے، دو سال میں 4 فصلوں کی ریکارڈ پیداوا ہوئی، کسانوں کو سالوں اتنا پیسا نہیں ملا تھا جتنا ہمارے دور میں ملا۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ گنے کے کاشتکاروں کو 180 روپے کا ریٹ بھی پورا نہیں ملتا تھا اور پیسے ایک ایک سال میں ملتے تھے، ہم نے قانون بنا کر ان کو سب سے زیادہ پیسا دلوایا، موٹرسائیکلوں کی ریکارڈ فروخت ہوئی اس کا مطلب تھا کہ وہاں پر پیسہ گیا۔

انہوں نے کہا کہ صنعت اور زراعت ٹھیک جارہی تھی، ٹیکسٹائل سیکٹر میں تمام تر ریکارڈز ٹوٹ گئے، فیصل آباد میں ٹیکسٹائل سیکٹر کو مزدور نہیں ملتے تھے، اس دور میں ہماری برآمدات اور ترسیلات زر بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، ملک میں ڈالر آرہے تھے۔

انہوں نے کہا ملک کا مستقبل ٹیکنالوجی سے وابستہ ہے، ہم نے آئی ٹی سیکٹر کو مراعات دیں جس کے سبب دو سالوں میں آئی ٹی کی برآمدات میں بڑھیں، ہم صحیح راستے پر نکل چلے تھے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ یہ کہتے ہیں کہ ہم آئی ایم ایف میں جانے کے لیے مجبور ہیں، ہم ڈھائی سال آئی ایم ایف پروگرام میں رہے، ہم بھی مجبور تھے، اسی طرح یہ حکومت تھی کہ مہنگائی عالمی سطح پر ہوئی ہے حالانکہ عالمی طور پر مہنگائی پچھلے سال گرمیوں سے شروع ہو چکی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم جب کہتے تھے کہ مہنگائی عالمی مسئلہ ہے تو یہ لوگ کہتے تھے کہ مہنگائی مارچ کریں گے، آئی ایم ایف پروگرام میں ہونے کے باوجود تمام چیزیں مثبت تھیں، ہم پاکستان کو اس کے نظریے کے مطابق اسلامی فلاحی ریاست کی طرف لے کر جارہے تھے، پہلی بار ہیلتھ کارڈ دیا جس سے کسی بھی ہسپتال میں جا کر 10 لاکھ روپے تک کا علاج کروا سکتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ تحفیفِ غربت کے احساس پروگرام کو بین الاقومی طور پر سراہا گیا، سٹینفورڈ یونیورسٹی نے تحقیق کرکے فیصلہ کیا کہ پاکستان کو احساس پروگرام فلاحی ریاست کی طرف لے کر جا رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح کامیاب جوان پروگرام کے تحت نچلے طبقے کو 20 لاکھ تک قرضے فراہم کررہے تھے تاکہ لوگ کاروبار کرسکیں، کسان پیسہ لگا سکیں، ہم گھر بنانے کے لیے سود کے بغیر قرضے دے رہے تھے، یہ تمام چیزیں چل رہی تھیں کہ سازش کرکے ہماری حکومت گرائی گئی۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں اور شوکت ترین سمجھا رہے تھے کہ اس وقت جو صورتحال ہے اگر سیاسی بحران آیا تو معیشت نہیں سنبھالی جائے گی، ہم نے ان لوگوں کو آگاہ کیا جو لوگ اس کو روک سکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کی بہتری کا اشاریہ برآمدات ہوتی ہیں، جس سے ڈالر آتے ہیں اور دولت پیدا ہوتی ہے، مسلم لیگ (ن) کے پانچ سالہ دور میں برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا، اسی طرح ان کے دوسرے دور 1997 سے 1999 کے درمیان بھی برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حکومت میں آتے کے ساتھ ہی اپنے کرپشن کے کیسز معاف کروانے کی کوشش کی، اسمبلی سے بل پاس کروا دیے جو میں کل سپریم کورٹ میں چلینج کررہا ہوں، اس کے تحت اسمبلی میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو 11 سو ارب روپے کی کرپشن معاف ہونے جا رہی ہے، یہ لوگ اسی لیے اقتدار میں آئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح ایف آئی اے میں شہباز شریف اور ان کے بیٹے کے خلاف 16 ارب روپے کا کیس ہے یہ وہ بھی معاف کروانے جا رہے تھے، آج بلومبرگ کے مطابق پاکستان چوتھے نمبر ہے جو دیوالیہ ہونے جارہا ہے، سری لنکا اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے، اسی طرح موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ منفی کر دی ہے، ہمارے دور میں منفی سے مثبت کردی تھی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے سب سے زیادہ خطرہ واپڈا کا ہے، واپڈا ڈیم بنانے کے لیے خود قرضے لیتی تھی، اس کی ریٹنگ گر گئی ہے، اب واپڈا کو ڈیم بنانے کے لیے قرضے نہیں ملیں گے جبکہ ملک میں پچاس سال کے بعد ڈیم بننے جا رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جب سے یہ حکومت میں آئے ہیں، ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر آدھے ہو گئے ہیں، پاکستانی روپے کی قدر میں 28 روپے کی کمی ہو چکی ہے، جس طرح کے حالات ہیں اگر ہم نے سبق نہ سیکھا، جب تک ملک میں سیاسی بحران ہے معیشت مزید نیچے جائے گی، اور خطرہ ہے کہ حالات اس طرف نہ پہنچ جائیں کہ سب کے ہاتھ سے ہی نہ نکل جائیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے پاس ایک ہی راستہ بچا ہے اور وہ ہے صاف اور شفاف انتخابات کروانے کا۔

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح کے انتخابات پنجاب میں کروائے گئے ہیں، اگر آگے اسی طرح کے انتخابات کروانے ہیں، میں یقین دلاتا ہوں کہ اس سے بحران بڑھے گا، ہمیں انتخابات میں ہارانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا، پنجاب کی حکومت کے پاس ہمیں انتخابات میں شکست دینے کے جتنے بھی طریقے تھے وہ انہوں نے استعمال کیے۔

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کو غیر آئینی طور پر پنجاب کا وزیراعلیٰ بننے کی اجازت دی تو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ انتخابات میں کسی بھی قسم کی ریاستی مشینری استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، انہوں نے ہر قسم کی مداخلت کی۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کے متعدد افسران نے پی ایم ایل (ن) کے جیالے بن کر ہمارے خلاف سرگرمیاں کیں، ہم سب یاد ہے، یہ سپریم کورٹ کی توہین تھی۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پنجاب کے ضمنی انتخابات میں مجھے سب سے زیادہ افسوس چیف الیکشن کمشنر پر ہے، انہوں نے بدیانتی کی ہے، اس میں اہلیت بھی نہیں ہے، پتا چلا کہ ٹائپنگ کی غلطی ہوئی اور 40 لاکھ لوگ مر گئے، دنیا میں کہیں اور ایسا ہو جاتا تو اس کو استعفیٰ دینا پڑ جاتا۔

چیف الیکشن کمشنر نے پی ایم ایل (ن) کی جتوانے کی پوری کوشش کی، ہمارے پاس 8 کیسز ہیں جسے لے کر ہم الیکشن کمیشن کے پاس گئے انہوں نے وہ مسترد کردیے، اس کے خلاف ہم 8 بار عدالتوں میں گئے، عدالتوں نے ان کے خلاف فیصلہ دیا، اس کا ملطب تھا کہ الیکشن کمیشن نے جان بوجھ کر ہمارے خلاف فیصلہ دیا تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اس الیکشن کمشنر پر ہمیں کوئی اعتماد نہیں ہے، انہوں نے سینیٹ کا الیکشن کروایا، سپریم کورٹ نے اجازت دی کہ آپ سینیٹ کے ووٹ کی تصدیق کریں، الیکشن کمیشن اور تمام سیاسی جماعتوں کو معلوم ہے کہ سینیٹ کی خفیہ رائے شماری میں پیسہ چلتا ہے، اس الیکشن کمشنر نے اس پر عمل نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ جتنا پیسہ پچھلے سینیٹ کے انتخابات میں چلا اتنی تاریخ میں کبھی نہیں چلا، یوسف رضا گیلانی کا بیٹا پیسے دیتے ہوئے پکڑا گیا، اسی الیکشن کمشنر نے اس کی تحقیقات کی، سوا سال ہوگیا ہے اب تک کوئی ایکشن نہیں لیا۔

عمران خان نے کہا کہ لوگوں میں شعور و بیداری آگئی ہے، اب شعور کا جن بوتل سے نکل آیا ہے اس کو واپس نہیں ڈال سکتے، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کہ بند کمروں میں ملک کے مستقبل کا فیصلہ کر لیں گے، یہ قوم حقیقی آزادی کی طرف چلی گئی ہے، چھبیس سال کی تاریخ میں ایسا جذبہ کبھی نہیں دیکھا۔

انہوں نے کہا میں اب بھی یہی کہہ رہا ہوں کہ اس ملک کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ صاف اور شفاف الیکشن کروائیں، اس الیکشن کمشنر کی موجودگی میں صاف اور شفاف انتخابات کبھی نہیں ہوسکتے، ملک کی سب سے بڑی جماعت کو اس الیکشن کمشنر بھی اعتماد ہی نہیں ہے، الیکشن کمشنر کو استعفیٰ دینا چاہیے، آپ ایک جانبدار آدمی ہیں۔

عمران خان نے کہا ہے کہ کیسے ہم صاف اور شفاف الیکشن کروا کر ملک کو اٹھا سکتے ہیں، ملک میں ایک بار سیاسی استحکام آ جائے، ملک میں آگے بڑھنے کا بہت بڑا پوٹینشل ہے۔

Read Previous

مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں نمازوں کے لیے پرمٹ کی شرط ختم کردی گئی

Read Next

صدر ایردوان ایران پہنچ گئے، صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات

Leave a Reply