fbpx

فردوس کا فسانہ

تحریر: طاہرے گونیش

آشنا مناظر سے نظر چرا کر جانا بھی خود آگاہی کے مہم کا حصہ ہوتا ہے۔ ترک زبان کا محاورہ ہے کہ آپ اپنے گاؤں میں بیٹھ کر پیغمبر نہیں بن سکتے۔ کچھ اس محاورے کے ذہن میں چلتے، کچھ ناساز طبیعت کے رہتے، پیغمبری تو کجا بیماری کے باوصف باکو شہر سے یوں نکلنا پڑا جیسے خلد سے آدم نکلے۔لیکن ہم بصد رغبت و رضا نکلے تھے نکالے نہ گئے تھے۔ سفر کاہے کا تھا۔ کوہ قاف کا تھا یعنی دیو جن پری خضر و لقمان کا جو قاعدہ پڑھا کئے تھے اب اس کو عملی جامہ پہنانا تھا۔کہ یہ سب کردار ذرا سامنے تو آئیں، ہمیں بتائیں تو سہی کہ ابھی عورت کا عالمی دن آنے والا ہے، ویلنٹائن  ڈے گزر چکا ہے۔ میرا جنم دن بھی سر پر ہے، رمضان بھی آیا جاتاہے۔ کیا کیا جائے؟رجب اور شعبان تو یہ پہلو میں بیٹھے ہیں۔ مسائل کا حل بتائیں یا ہمیں پتھر کا بنائیں کہ کسی کوہ کے دامن میں پڑے  رہیں۔ نہ صورت کی فکر ہوگی نہ سیرت کی ۔ دنیا پہ پڑے خاک۔ ہم ہوگئے حساب سے پاک! لیکن ابھی پاپوش و پوشاک کے جھنجھٹ سے آزاد ہونے والے کہاں تھے؟ ابھی تو سفر کرنا تھا ،سفرجسے سقر یعنی جہنم کہا گیا ہے کہ اس کی تلخی اس کی شیرینی سے بڑھ کر ہوتی ہے ۔ سو ہم بھی ایام کا ذائقہ لینے کے درپے رہے۔

سفر شروع ہوا۔ بنام خدا۔ مگر موسیقی کا سہارا بھی لینا پڑا، باکو کی طویل و لا متناہی ٹریفک اچھے بھلے معقول انسان کو دیوانہ بنا دیتی ہے۔ اور پھر ہم کون سے فرزانے  تھے ہمیں بھی طیش آگیا کہ خداوندیہ سکول کاہے کھول دئے! ابھی یہ مکتب کا فیضان چند ماہ اور منقطع رہتا تو ہمارا بھلا ہوجاتا۔جدھر رخ کرتے رستہ کھلا ملتا، لیکن اب تو آدمی کم ہیں گاڑیاں زیادہ ہیں۔یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ رستہ کھلا ملتا۔ ایک گھنٹہ تو باکو کی سڑکوں پر ضائع ہوا۔باکو سے ناک کی سیدھ میں چلتے رہیں تو ۔گوبوستان  کا قصبہ آتا ہے اور شماخہ  نامی چھوٹاسا شہر بھی۔ شماخہ کے اندر گاڑی داخل ہو  تو مناظر  آپ کو گاڑی سے  باہر نکلنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔یہ مقناطیسی طاقت ان ننھے پھولوں کی تھی مجھے باہر نکل کر معلوم پڑا ،جو میرے قدموں میں صورت قالین بچھے ہوئے تھے۔ یہ جنگلی زعفران یا crocus تھے۔ ان کے رنگ اتنے خوشنما تھے کہ میرا دل ان کلیوں نے اپنی مٹھی میں کر لیا۔ اب میں دیوانہ وار اس گل زار میں چل رہی تھی تصاویر لے رہی تھی ۔ اور رد کرتی جارہی تھی مجھے کوئی عکس ان کا مناسب زاویے سے مل نہیں رہا تھا۔ آنکھ پر ہی بھروسہ کر رہی تھی پھر دیر تک ان گلابی، پیلے، ارغوانی اور اودی پھولوں کو نظر میں سماتی اور حافظت میں بٹھاتی رہی ان  کے اندر کھینچی گئی زر دانوں والی  مہین پٹیوں کو تکتی رہی۔ کیا نقاشی تھی کیا کاریگری تھی۔

فتبارك اللہ احسن الخالقين

ابھی میں سبزہ و گل کے درمیان رونق افروز تھی اور سڑک پر دوڑتی گاڑیوں اور کنارے پر بے ڈھنگی چال چلتی گایوں کو دیکھتی اور بھیڑوں کے ریوڑ سے جدا بھاگنے کے منظر سے لطف اندوز ہو رہی تھی کہ سامنے دائیں طرف ترک پرچم نظر آیا۔پھر یاد آیا  کہ پہلی جنگ عظیم  کے بعد یہاں کی آزادی کی جنگ لڑنے ترک سپاہ بھی آئی تھی۔ اس قفقازی اسلامی لشکر کے سربراہ نوری پاشا ( آذری میں نورو پاشا)تھے جو انور پاشا کے بھائی تھے۔ جنھوں نے باکو شہر کو آرمینیا، برطانیہ اور روس کے چنگل سے چھڑایا تھا یہ شاید ان  میں سے کسی ایک سپاہی کا مزار ہو۔ اور میرا شک یقین میں بدلا۔

 ایک بہت ہی بہترین صاف ستھرے  میدان میں، میں  دروازہ  کھول کر داخل ہوئی ۔ سامنے سیمنٹ سے  بنی کتاب کے دو ورق کھلے تھے۔ ایک پر ترکی کے ملی شاعر  مہمت عاکف ارصوئے کے مصرعے اور دوسری جانب قرآن کے شہداء کے بارے آیت تحریر تھی۔

اور وسط میں ترک اور آذری پرچم بہار دکھا رہے تھے پہلو میں پھولوں کی کیاریاں استقبال کر رہی تھیں۔ ذرا سی اونچائی پر دو تین سیڑھیاں چڑھ کر قبر نظر آ رہی تھی جو کلاسیک ترک طرز پر بنی تھی۔ لمبی اور باریک یعنی لحد کھدی ہوئی تھی۔ اوپر سوکھتے ہوئے گلاب کسی کی آنے کی نشانی تھے۔ میں دعا کرکے انھیں شاداب تو نہ کر سکی لیکن شہید کی روح کو شاد ضرور کرکے الٹے قدموں لوٹی۔

وہ جنگلی زعفران مجھے کھینچ رہے تھے۔ اتنی تنہائی اتنی خاموشی تھی۔ اوپر پہاڑ کی چوٹیوں پر ہلکی برف بھی نظر آ رہی تھی۔اور سورج تپش رکھتا تھا۔ میں نے اس مزار کے احاطے سے عقیدت کے ساتھ نکلنا چاہا لیکن پھول کہہ رہے تھے ہمیں بھی شریک سفر کرو پھر خدا کے بعد مجھے ان جنگلی پھولوں کے لئے جھکنا ہی پڑا۔ اور یہ کیا میری شرٹ کی تو جھولی ہی نہ تھی جسے بھرتی۔ لیکن سر پر ٹوپی تھی اور کوٹ کی جیب بھی۔ سو میں نے کسی ماہر فصل کاٹنے والی کی طرح ان سے ٹوپی اور جیب بھری اب میرے چہرے پر قوس قزح کے رنگ بکھرنے لگے تھے اتنی خوشی ہو رہی تھی لیکن دل کو ساغر صدیقی کا  یہ شعر کاٹ بھی رہا تھا کہ

یاد رکھنا ہماری تربت کو

قرض ہے تم پہ چار پھولوں کا’

خیر جیسے روم کے تریوی فاؤنٹین میں ڈالے  گئےسکے آپ کو واپس بلاتے ہیں ایسے ہی یہ پھول مجھے بھی یہاں رکھنے آنا ہوگا۔ میں  یہ سوچ کر وہاں سے کوچ کر گئی کیونکہ ہماری منزل گیبیلہ  نامی خوبصورت برف زار تھی۔ اب گاڑی کی رفتار کچھ تیز ہوئی تو نفوس کم ہونے لگے درخت بڑھنے لگے برف زیادہ نظر آنے لگی۔ بھیڑ بکریاں اور گائے بیل متواتر نظر آنے لگے۔ گزر چکی خزاں نے درختوں سے پتے چھین لئے تھے تو جاڑے نے برف اوڑھا دی تھی شاخوں کو۔ یہ سب دیکھ کر خیال گزرا کہ انسان اوپر پہنچتا ہے چوڑا ہو جاتا ہے لیکن یہ درخت پتلے ہو جاتے ہیں۔

 اور ان شاخوں کے بیچ گاڑی کا گزرنا جیسے جنت ارضی کا سماں تھا۔ مجھے اتنی خوشی محسوس ہو رہی تھی جیسے گاڑی کے آگے بڑھنے سے دکھ پیچھے رہ رہے تھے۔ اور ہم انبساط کی وادی میں داخل ہو رہے تھے۔ یہاں بھی جا بجا مسافر خانے، قہوہ خانے ، مے خانے ، تندور سب کھلے تھے۔ فواکہات سے بنی املی کی طرز پر سوغاتیں اور تازہ میوے ،جنگلی  پھولوں والی شہد کے  چھتے، تازہ پانی کی مچھلی اور پھول یہ سب فروخت ہو رہے تھے راہ میں جیسے کسی غریب کا گھر نیلام ہو رہا ہو یعنی سستے داموں۔

ہم نے ان سے صرف نظر کیا کہ ہماری نظر سنگ میل پر تھی۔ تقریبا  چار گھنٹے بعد برف سے ڈھکی سڑکوں پر اوندھے پڑے مٹکوں  والی سرزمین نظر آئی تو ادراک ہوا یہی گیبیلہ ہے یا معبود! یہ اتنے  زیادہ مٹکے، صراحیاں  یہاں کون رکھ گیا ہے؟جواب ملا شہر کی بلدیہ۔

خیر ہم بلندی کی جانب گامزن تھے اور دھوپ ان پیڑوں پر پڑ رہی تھی جن کو صنوبر کہا جاتا ہے، ترک زبان میں ‘چام  آعاچ’ یا پھر اردو میں چلغوزے کے درخت سمجھ لیجئے۔ مجھے تو ایسا لگ رہا تھا کہ استنبول کا کوئی بلند کونہ لے کر اسے خاموشی سے سجایا گیا ہے۔ بس یہاں خاموشی اور خوب صورتی اور نفاست زیادہ تھی۔ آخر کو کوہ قاف کا دامن تھا۔ کوئی معمولی بات تو نہ تھی۔ ہماری بکنگ یہاں کے پانچ ستاروں والے ہوٹل جسے صحیح معنوں میں چوٹی کا ہوٹل کہا جا سکتا تھا میں تھی۔ اس ہوٹل کا اسم گرامی تھا ‘طوفان داع’ یعنی طوفان والا پہاڑ، اور سچ میں ادھر برف کا طوفان نازل ہوتا تھا۔ نظارہ تھا کہ مبہوت کیے ہوئے تھا۔ اندر جانا بھی بہشت سے کم نہ تھا باہر تو خیر تھا ہی کوہ قاف۔ اب ہم کس دل سے اندر  گئے یہ خدا جانتا ہے یا وہ سرد ہوائیں جنھوں نے مجھے چار سویٹر پہننے پر مجبور کیا تھا۔ اندر گئے اچھی خاصی رقم عملے کو تھما کر چابی لی۔ دیکھیں کلید بھی ملی تو کتنے مول دے کر۔ زندگی بھی ایسی ہی ہے برفاب و خزاں بار رشتوں سے گزار کر خراج وصول کر کے پھر چابی دیتی ہے مسرت کی چابی۔چین کی چابی، کامیابی کی چابی۔

خیر کمرے میں جا کر سستی نے گھیرا تو بھوک نے بھی اوپر کھانے کے ہال میں پہنچا کر دم لیا ۔ کھانا پیسوں سے لینا تھا کمرے کے اخراجات میں صرف ناشتہ تھا اور تین عدد چائے وائے تھی۔ مینیو بالکل پسند نہ آیا کہ یہی کچھ تو باکو میں بھی دستیاب تھا۔ ہم کچھ نیا چاہتے تھے لیکن کوہ قاف میں تو نظارے ہوتے ہیں کھانے کا کوئی بندوبست نہیں۔ خیر کسی طرح معمول کے مینیو میں سے کھانے چننے پڑے تو انتخابی پرچی یاد آئی کہ کس طرح برے امیدواروں  میں سے کم برے کو چنا جاتا ہے۔ کوہ قاف کے بازوؤں  میں نیند کی وادی میں گم ہونا کیسے غم کو نکال باہر کرتا ہے ذہن سے یہ اس دن معلوم ہوا۔ تو کیا کوہ قاف غم کا علاج ہے۔ بالکل ہے ! دل سے صدا آئی۔ اگلی صبح ہوئی تو ناشتے کی میز پر پہنچے،  جہاں ہم سے پہلے چند عرب سفارتکاروں  کے خاندان اور بدتمیز بچے اودھم مچائے ہوئے تھے۔ اور اپنی قابوں میں وسعت اور بھوک سے زیادہ اشیاء  چن لائے تھے۔

ہم نے قطار میں لگ کر اپنا ناشتہ وصول کیا جن میں  چند دانے زیتون، انڈے کا مینیمن  جو آذربائیجان  کے لوگوں کو بالکل بنانا نہیں آتا، اور کچھ کھیرے، ٹماٹر اور پیدے کا سلائس اور چائے اور پھر بعد میں ایک میٹھا لے کر تناول اور نوش کیا۔

بعد ازاں باہر کی سیر کو تیار ہوئے۔  پہلے تو ہوٹل  کے باہر بنے سکیننگ ریزارٹ دیکھنے نکلے یہ 1900 میٹرز کی بلندی پر واقع ہے۔ جہاں کیبل کار کے ذریعے ٹکٹ لے کر آیا جایا جا سکتا ہے مگر کیا کہتے ہیں اس بلندی کے لئے۔قابل دید اور ناقابل فراموش۔ اس بلندی پر چڑھتے ہوئے بے شک کان بند ہوجائیں لیکن آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ اس قدر حسین نظارے ہوتے ہیں۔ برف میں دبا جنگل جہاں آج کل برف کا راج تھا ہر ڈال پر ۔ اوپر پہنچے تو ایک ریسٹورانٹ  تھا جہاں دھند سے اٹے پس منظر میں بیٹھ کر چائے پینا تو لذت ہائے دو جہاں سے افضل ہے۔  اور دھند بھی ایسی جیسے کہ کوہ قاف کے شایان شان ہوتی ہے جیسے ہوا میں کسی نے سلیمانی سفوف چھڑک کر ان پہاڑوں کے درد کا مداوا کرنا چاہا ہو۔وہاں میں نے تھائم  اور لیموں والی چائے منگوائی اور چیز کیک کے ساتھ پی۔ اور اس دوران مجھے ترجمہ کرنا تھا۔ یہ بھی شاید نہیں یقینا ہی ورلڈ ریکارڈ ہوگا کہ اس بلندی پر میں ترجمہ کرنے والی واحد خاتون مترجم ہوں۔

 کیا ہے کہ مترجم وہ قابل رحم انسان ہوتا ہے جسے جہاں  کے کار دراز  و مختصر عمر سے چند پل بھی چرانے نہیں دیا جاتا۔

چند لمحات  اور مناظر کو عکس بند کرنے اور لطف اندوز ہونے کے بعد واپسی کی راہ لی۔ کہ نیچے تو آنا تھا۔ عروج کا لطف لیا تو پستی کی طرف بھی بخوشی جانا تھا۔ اور وہ پستی  بھی کیا پستی تھی۔ خوش نما اور دلفریب برفانی رازوں کی امین۔ یہ برف کا جنگل نیچے برف کے صحرا میں بدلتا ہوا ہمیں نیچے بلا رہا تھا ۔ نیچے گرما گرم آلو کے سپائرل طرز والے چپس کھائے۔اور جمی ہوئی جھیل کا نظارہ کیا  جو ہمارے کمرے کی کھڑی سے نظر آتی تھی۔ جب اتنے بہترین نظارے ہیں میں نے سوچا ، تو پھر ہمارے کمرے میں دو عدد ٹیلی وژن رکھنے سے ہوٹل والوں کی کیا مراد ہے؟ انھی خیالات کے ساتھ تیار ہوکر باہر نکلی  تو میرے قدموں میں ایک انتہائی خوبصورت  پرندہ مرا ہوا پڑا تھا، اس کے پر ادھر ادھر بکھرے ہوئے تھے۔

وہ پرندہ جو مرگیا تھا، اسے برف کو بدن سونپتے اندازہ نہ تھا کہ اتنی حسین جگہ موت واقع ہوگی۔ اگر اس کے بال و پر کو اندازہ ہوتا کہ وہ اتنے حسین خطے میں مرے گا تو وہ دیوانہ وار پرواز کرتا اور سرما پر کئی بہاریں قربان کر دیتا۔

گاڑی میں اینٹی فریز ڈلوا کر سفر شروع ہوا۔ ہماری منزل ‘ییدی  گوزیل شالالہ’ یعنی  ‘سات خوبصورت  آب شاریں’ تھی۔ وہاں پہنچے تو راستے میں دو گایوں کو دست و سینگ دیکھا یعنی لڑتے ہوئے اور اوپر تین پرچم لٹک رہے تھے پاکستان، ترکی اور آذربائیجان۔اب ہم کو یہ غم تھا کہ تصویر کس کی لیں پرچموں کی یا الجھتی ہوئی گایوں کی۔ہم آگے بڑھے اور آب شار تک پہنچ گئے مگر  داخلی دروازے پر بندر ہاتھ میں لئے لڑکے سے سامنا ہوا وہ چاہتا تھا کہ ہم اس کے ساتھ تصاویر لے کر اس کو مالا مال کر دیں۔ میری آنکھ میں زخم تھا جو چھپائے نہ چھپ رہا تھا اور میں بھی اپنے زخم چھپانے کے حق میں نہیں ہوں، اگر بیماری ہے تو ہے اسے شفایابی ہونے تک شرمندگی کے ساتھ نہیں بلکہ عزم اور حوصلے کے ساتھ لئے چلتی ہوں۔ سو لڑکا غریب کچھ ششدر ہوا اس کی نگاہ میرے شوہر پر پڑی کچھ سوچ کر اس نے سر جھٹکا کیونکہ وہ میرے گرد بازو حمائل کر چکے تھے۔ لڑکا سوچ رہا ہوگا کہ صاحب نے تو نہیں ان کو زخمی کیا  لیکن خود ہی ان کے مہربان چہرے اور رویے سے اس خیال کی گویا نفی کی۔ میری آنکھ کا زخم میری اپنی بے احتیاطی اور استطاعت سے زیادہ کام کرنے اور بوجھ کی وجہ سے بنا تھا۔جو خون کے موٹے قطرے کی صورت آنکھ میں جما ہوا تھا۔

بندر اس سمے  مجھے اپنا باوا ہی لگا تھا۔ کیونکہ میں بھی فر کی ٹوپی والا کوٹ پہنے ہوئی تھی۔ آگے شہد و شربت فروش نے گھیر لیا کہ ہم سے بھی سودا طے کرو کچھ اسے واپسی تک ٹالا۔ لیکن تابکے۔ یہ آبشار کیا تھی کسی ہالی وڈ فلم کا مصنوعی منظر یا سیٹ لگ رہی تھی۔

اتنا حسین کہ

 too good  to be true

والی بات صادق آئے۔ اس کو اوپر تک دیکھنے کے لئے فلک بوس سیڑھیاں بنی تھیں جنھیں شیکسپیئر  نے sky kissing stairs

  کہا تھا۔

اب ہم اوپر جا رہے تھے اور پانی نیچے بہتا جا رہا تھا۔ اور میرا دل تو دھڑکن دھڑکن اس خوب صورتی پر فدا ہوا جا رہا تھا۔ درخت اتنے اونچے تھے جتنے کہ میرے حوصلے تھے۔ اور زمین اتنی نیچے رہ گئی تھی جتنا کسی حاسد کا ظرف ہوتا ہے۔ تصاویر بناتی، سیڑھیوں  پر پھسلتی سنبھلتی چلتی میں اوپر پہنچی تو مجھے لگا  کہ ایک قلم ہو اور کاغذوں کا انبار ہو اور بس میں ہوں اور لکھتی جاؤں۔ کچھ بھی جنت کا تصور ہی سہی۔ ہر شخص کے جنت کا تصور انفرادی اور جدا گانہ ہو تا ہے۔کسی کے خیال میں بسی جنت میں سکون و عافیت، کسی میں خوش رنگ پھول، خوش الحان پرندے، پیڑ، پھول ہوتے ہیں ۔ تو کسی کی جنت  زمردیں پتھر والی ہوتی ہے اور کسی کی جنت کو محض محبوب کی موجودگی کافی و شافی ہوتی ہے۔ میرے اپنے خیال میں جنت مختلف ہونی چاہیے۔ جنت کا اجتماعی خیال میرے نزدیک حس جمال کی اہانت ہے۔ آپ کی جنت کے ساتھ مسئلہ تب ہوتا ہے جہاں جھیل تو ہو لیکن بطخ نہ تیرتے ہوں۔ آڑو کے پیڑ بنا شگوفوں کے اداس کھڑے ہوں۔

ایک جنت کا تصور دس سال قبل میں نے نوعمری  میں مدینہ کی مسجد نبوی والی لائبریری میں تحریر کیا تھا۔ مجھے آج بھی اس فنی اعتبار سے کمزور لیکن حوالہ جات سے بھرپور تحریر پر ناز ہے۔  کیونکہ کچھ راز کسی سے شریک نہیں کئے جاتے  کہ وہ آپ کی الماری اور آپ کے راز ہوتے ہیں۔ اور رازوں پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے ورنہ کوئی بھی کم ظرف انھیں بیچ چوراہے آپ کے منہ پر مار کر بے وقعت کر سکتا ہے۔  میں کتنی ہی دیر اس منظر کے سحر میں رہی مجھے لگا جیسے یہاں جادو چلتا ہے فسوں بولتا ہے، پرندے سردی سے مر بھی سکتے ہیں لیکن یہاں کی خاموشی اثر رکھتی ہے یہ بہتا پانی اثر رکھتا ہے۔

وہ گیلے پیڑ جن پر سبز کائی جمی تھی جسے میں نے مخملیں گھاس قرار دیا تھا۔ جسے ترک زبان میں ‘ یوصون ‘ کہا جاتا ہے وہ درختوں پر مالک پر بن کر سوار تھی ۔انھی بلند و بالا پیڑوں سے کچھ ڈھیٹ لیکن خوب رو بیلیں بھی لپٹی تھیں یوں جیسے عہد و پیماں کسی عاشق کے دل کے گرد لپٹے ہوتے ہیں۔ ان پیڑوں کی بالائی شاخوں کے بازوؤں  میں برف بھری تھی۔

وہ درخت جنھوں نے بیلوں کے ہار پہنے تھے۔کتنے معتبر سے کھڑے تھے۔ پانی کو رستہ دے رہے تھے۔ آپ نے برف کا جنگل دیکھا ہے؟ جہاں تخیل آگ جلائے آتش تاپ رہی ہوتی ہے۔ دیو، جن ،پری کو چھوڑیئے آپ تتلی کے خاندان کو لڑی میں پرو کر یہاں لٹکائیں یہ ہے کوہ قاف گیلی مٹی کی خوشبو میرے نتھنوں  سے ٹکرا کر مجھے سر شار کر رہی تھی شام ہونے کو آئی لیکن میرا دل نہ کیا یہاں سے جانے کو۔ لیکن جیسے ہر کمالے را زوالے،  مجھے نیچے آنا پڑا،  وقت کی تنگی کے باعث۔ کہ کسی اور جگہ بھی جانا تھا۔ کیسی بے بسی تھی ابھی تو اس پھپھوندی کو بھی محسوس کرنا تھا جو درختوں کی اوٹ میں جم رہی تھی۔ اور کیسے کیسے رنگ بکھرے تھے برف ان رنگوں کو ڈھک نہ پائی تھی۔

ایسی بلندی پر ایسی خوبصورتی بالکل کسی کوہ قاف چوٹی پر ہی ہوسکتی تھی۔ اور اس بلندی اور خوبصورتی  کو کم از کم میرا قلم نہیں گرفت میں لا سکتا میں کونسی ترکی کی ‘اولیاءچلیبی'(مشہور ترین ترک سفرنامہ نگار) جنھوں نے خواب میں حضور نبی اکرم صل الله عليه وآله وسلم  کو دیکھا تو کہا کہ ‘شفاعت یا رسول  اللہ’،  لیکن زبان پھسلی اور منہ سے نکلا ‘سیاحت یا رسول  اللہ’، سو وہ سیاحت کرتے رہے تمام عمر اور تقریبا دنیا کا ہر کونہ چھان مارا۔) ،یا پھر پاکستان کی ‘مستنصر حسین تارڑ ‘ (اردو کے مقبول سفرنامہ نگار) تھی جسے فطرت کے بیان کا ہنر آتا ہے۔ مجھے تو غصہ ہی آتا ہے اس  بیاں سے باہر بے بسی پر۔

نیچے اترے تو شربت فروش کے دام میں پھنسے۔ اس نے چند مقامی پھولوں ‘مالینا’ اور ‘یمیشین’ سے بنے مربے اور اخروٹ والے شہد خریدنے پر ہمیں مجبور کیا۔ جب زیادہ پیسے مانگے تو میں نے بھی رعایت مانگی اس نے بطور ہدیہ ایک بوتل گلاب کا رس جو چائے کو ذائقہ بخشتا ہے وہ دیا۔اب ہم نوخور نامی گاؤں میں داخل ہوئے یہ دو تین چیزوں کے لئے مشہور ہے۔ ایک تو یہاں کے  قریبی علاقے  ‘ویندام’ سے بہادر سپوت  مرحوم  جنرل جناب پولاد ہاشموف کا خاندان  تعلق  رکھتا ہے۔ جن کو جولائی 2020 میں آرمینیا نے جاسوسی کرکے شہید کر دیا تھا۔

 جو اتنا بڑا قومی نقصان تھا آذربائیجان  کے لئے جسے عوام نے سہنا گوارا نہیں کیا اور پھر حالات اتنے کشیدہ ہوئے کہ باقاعدہ خونریز جنگ ہوئی اور بڑی تباہی ہوئی۔ لیکن آذربائیجان  نے فتح حاصل کی،  آذری  فوج کے جوانوں کے خون کے بدلے  اپنے مقبوضہ علاقے آزاد کروا کر مال غنیمت بھی سمیٹا۔ اس مشکل  وقت میں آزربائیجان کو پاکستان اور ترکی کی لفظی اور سفارتی حمایت بھی حاصل رہی۔

مال غنیمت کی نمائش کے لئے باقاعدہ  قومی سطح کی پر شکوہ تقریب ہوئی جس میں مہمان خصوصی ترک صدر جناب رجب طیب ایردوان اور ان کی بیگم خاتون اول امینہ ایردوان تھے۔ میں نے اس نمائش کو اپنے کیمرے میں محفوظ کیا تھا مگر وہ ولولہ اس کے لئے کوئی ریکارڈنگ کا آلہ ابھی دستیاب نہیں۔دن کی طرح بات بھی پھیل گئی دیکھیں۔ تو جنرل پولاد اور ایک جھیل جسے نوخور جھیل کہا جاتا ہے اس کی وجہ سے یہ گاؤں  مشہور ہے۔ اور ایک ہوٹل بھی جس کا نام  ‘شینو پیلس’ ہے۔ یہاں خواص ٹھہرتے ہیں اور اپنی تعطیلات گزارتے ہیں اور  یہ بہت ہی مہنگا ہوٹل ہے لہذا جز صبر دیگر چارہ نیست۔

خیر ہم شام ڈھلے نوخور جھیل دیکھنے پہنچے اور وہاں چند بابے اور بوڑھے گھوڑے موجود تھے ایک خاتون کو دیکھ کر وہ گھوڑا ایسا بدکا کہ پھر اس خاتون کو بھاگنا پڑا جب ہم قریب گئے تو بالکل مؤدب  ہو کر کھڑا ہوگیا۔ مجھے اس سفر سے پیشتر اور اس سفر سے لے کر اب تک یہی احساس مایوس اور خوش بھی کئے جا رہا ہے کہ آخر کاہے کو جانور مجھے پیار کرتے ہیں جب کہ انسان بیزار رہتے ہیں۔ یہ کیسا راز ہے لیکن میں اس سے خوش ہوں۔ خیر چند مقامی سوغاتیں خریدنے کے بعد جھیل دیکھنے میں مگن ہوئے۔ جھیل اس قدر پھیلی ہوئی تھی جس قدر میری حیرانی۔ اس حیرانی کے حصار سے میں تب نکلی جب تین عدد مرغابیوں نے اپنے پنجوں کے بل پانی میں تیراکی کرکے میری توجہ حاصل کی۔ مجھے ان کو اس طرح دیکھنا بہت ہی بھلا نظارہ معلوم ہوا۔ پھر میرا بھی تیراکی کا دل کیا لیکن یہ موت کے مترادف تھا اتنی ٹھنڈ اور اتنی گہری جھیل مجھےتو تابوت میں سلا دیتی۔ سو کشتی والے بابے سے  اس سفر کے دام طے کئے اس نے دس منٹ کے حساب سے دس منات لئے۔اور ہم جھیل کا ایک کنارہ دیکھ آئے۔ اب مرغابیوں کی برابری کرکے بڑا سکون ملا۔  

شام ڈھل چکی تھی۔ پیٹ بھی خالی ہونے کا اشارہ دے رہا تھا ایک جھیل کے دو کنارے غربت و امارت کے گواہ تھے۔ ہم نے غریب خانے پر کھانا تناول کرنا پسند کیا۔ سو ہم بھاگے ایک جھونپڑی نما ہٹ میں اور کھانا منگوایا۔

واپس ہوٹل پہنچے۔ اور رات کو شروع ہونے والی برف باری اگلے دن کی شام تک بھی تھمنے کا نام ہی نہ لے رہی تھی ۔ نتیجتا صبح تک اس قدر برف پڑی  کہ راستے ہی مسدود کر دیئے ۔ اب ہم شہر کے اندر جا نہیں سکتے تھے سو اس ہوٹل میں ہی رہنا تھا۔ مجھے گرم پتھروں سے آنکھ کے بالائی حصے پر ٹکور کروانا تھا تاکہ اندر منجمد خون منتشر ہوجائے  ،ایک خاتون ملازمہ  وہ بھی بڑی مشاقی سے کر کے میرے درد کا درمان ثابت ہو رہی تھی۔خیر یہ دن اندر ہی گزرا۔ اگلے دن شہر کے داخلی مقامات کی سیر طے تھی۔ کس قدر امارت کا مظہر کس قدر غریب شہر تھا گیبیلہ  جہاں سارے امراء کی دولت ہر قدم پر بکھری پڑی تھی۔ یہ بڑے بڑے ولاز، بینگلوز، ہٹس، ہوٹل، ریستوران  اس قدر عیش و عشرت کا سامان۔ یہ جنت نہیں تو جنت کیا ہوگی بھلا۔

اب یہ جنت برف سے ڈھکی پڑی تھی۔ ایک جانب کوئی دریا کسی نہر کہ مانند رواں تھا ۔ کہیں کہیں جم بھی چکا تھا۔ بچوں کے پارک ویران پڑے تھے۔ سیاح تھے ہی نہیں۔ لاک ڈاؤن کے بعد  معاشی طور پر دھکا لگا تھا یہاں سرمایہ صرف کرنے والوں کو۔ خیر اب زندگی رواں ہوچکی تھی لیکن شہر منجمد تھا۔ میرے لئے سب سے زیادہ خوبصورتی کا مظہر مقامی چیری کے درخت تھے جن کو زوعال  کہا جاتا ہے۔ جن کے پیلےپھول مجھے کوئی کہانی سناتے ہوئے لگتے ہیں۔ جیسے ابھی ابھی پریاں ان پر اپنے پر پھیلا کر گئی ہوں ۔ جیسے ان کے لباس سے چند زر دانے ان پیڑوں پر پڑ گئے ہوں۔

خاموشی،  سکوت،  محویت تھی ہر طرف۔ خوبصورتی تو اس قدر تھی کہ مجھے اپنے قدم ہی بد صورت لگ رہے تھے جو وہاں سکوت کو توڑ رہے تھے۔ لیکن میں اس سکوت کو نہ توڑتی تو یہ فردوس کا فسانہ میرے دماغ میں نہ گونجتا اور آپ نہ پڑھ رہے ہوتے ابھی۔ خیر برف سے خود کو بچانے چاکلیٹ کی طمع میں ایک دکان میں داخل ہوئے اب جونہی باہر آئے تو دیکھا ایک کتا بے قرار سا وہاں کھڑا ہے۔ جیسے آنکھوں سے بولتا ہو کہ مجھے ابھی کچھ کھلاؤ میں برف میں خوراک نہیں ڈھونڈ پا رہا۔ میں نے اپنے شریک حیات کو اشارہ کیا کہ وہ چند پیکٹ کتوں والی خوراک خرید کر لائے تب تک میں اسے تسلی دیتی رہوں گی۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ اب کچھ نہ کچھ ملے گا ادھر میں ہلتی ادھر وہ ہلتا۔ دم ہلاتا آنکھیں مزید باہر نکالتا وہ بے صبرا ہوتا جا رہا تھا جب خوراک کے پیکٹ آگئے میں نے ایک طرف لے جا کر اسے کھلانا  چاہا تو وہ کھلا پیکٹ میرے ہاتھ سے جھپٹ کر بھاگا اور چند قدم دور کھانے لگا۔ مجھے اس پر حیرت اور پیار دونوں آیا۔

 اب آگے سفر شروع کیا کہ ہمیں ایک پارک دیکھنا تھا جو ظریفہ علیایفا کے نام پر ہے یعنی آذربائیجان  کے صدر الہام علیوف  کی ماں کے نام پر۔ کیا شاندار پارک ہے وہاں بھی یہ مٹی کی صراحیاں برف میں پڑی تھیں۔ یہ صراحیاں دراصل خوراک کا زیر زمین ذخیرہ کرنے کے لئے فریج کے طور پر کام آتی تھیں۔  پھر  قدیم شاعرہ خورشید بانو ناتوان کا دراز قد مجسمہ دیکھا ۔ واقعی آذری قوم اپنے ہیروز اور ادباء شعراء  کو کیا دلچسپ خراج عقیدت پیش کرتی ہے کہ رشک آتا ہے ۔ تھوڑی دور جا کر ایک برف میں لیٹی ہوئی کتیا نظر آئی جو برف پر منہ مار رہی تھی۔ میں نے پیکٹ دکھا کر اسے پاس بلایا۔ وہ چند قدم آگے آئی کچھ میں آگے گئی تو وہ خوراک کا پیکٹ دیکھ کر اس قدر اونچا اونچا بھونکنے لگی کہ مجھے لگا مجھے ابھی کاٹ لے گی یا پھر اس کو بھوک ہی نہیں لگی۔ یہ میری بھول تھی وہ خوشی سے چلا رہی تھی اتنی چلا رہی تھی کہ سمجھ آگئی کہ آسمان سر پر اٹھانا کسے کہتے ہیں۔ میں نے پیکٹ کھولا  تو وہ بیتابی سے آگے آئی اور سارا کھانا کھا گئی۔ مجھے اس کی شکر گزار آنکھیں  اب بھی یاد ہیں۔ عجیب سی حالت میں، میں مڑتی ہوئی  بل کھاتی ہوئی برف سے ڈھکی سڑک کو دیکھے جا رہی تھی۔شام کو کھانے کی جگہ ہم نے مشہور گیبیلہ  خانلار  کے قدیم ریستوران کو چنا تھا۔  

یہ ایک جنت نظیر ریستوران ہے بلکہ ریستوران کیا یہ ایک بہشت بر زمین ہے۔ اس کے اندر جا کر آپ کو لگے گا کہ نظارے کروں یا پیٹ پوجا کروں کہ دونوں لازم ہیں۔آمد کا مقصد ہی پورا کر دیتے ہیں یہ نظارے۔ اس قدر خوبصورتی سے چند لالٹینین ، چرمہائے حیوانات  اور پھول لٹکے ہوئے ہیں کہ بس آدمی دیکھتا رہ جائے،  لکڑی سے بنے کیبنز کے بیچ بہتا پانی ، صنوبر  کے برف سے ڈھکے درخت۔ اور بھول بھلیوں والے رستے اور ست رنگی روشنی کا انتظام اور شاہ بلوط اور چنار کے دراز  قامت درخت ۔ پھر دیگچی میں بنا ہوا  شوربے  والا دیسی مرغ کا سالن، طشت میں دھرے خوش ذائقہ کباب اور پیالیوں میں دھری چائے۔ یہ کسی بہشت بریں کی داستان نہیں بلکہ کوہ قاف کی حقیقت ہے۔ رات گئے  یہاں سے ہوٹل پہنچے۔ پھر اگلی صبح روانگی ہوئی شیکی شہر کے لئے جہاں کا حلوہ اور گوشت والی ‘پیتی ‘ ڈش  بہت مشہور ہے۔ آدھے گھنٹے کی مسافت پر موجود اس شہر سے قبل ہمیں چوکور  گیبیلہ یعنی چھوٹے گیبیلہ  میں ایک میوزیم کا بھی دورہ کرنا تھا ۔یہاں البان رہتے تھے۔ ان کا گاؤں اور ان کی قبل از اسلام اور زرتشتی عہد کی بھی اشیاء  موجود ہیں۔ یہ بلندی پر واقع ایک ایسی جگہ ہے جہاں ایک قلعہ  ہوا کرتا تھا۔ زلزلے نے اس کے برج گرادیے تو تعمیر میں پھر نہ آسکی۔ وہ برج جنھیں منگول بھی نہ گرا سکے دست الہی کی ایک دستک یعنی زمین کی جنبش نے زمین بوس کر دئے۔ اب صرف ملبہ  پڑا ہے اور ملبے کی حفاظت کے لئے ایک ادارہ قائم ہے۔ میوزیم میں صفوی دور کی مہر بھی میری دلچسپی کا باعث بنی رہی۔اور کچھ قدیم زیورات۔ میں اس دور کے انسانوں کا ذوق دیکھ کر دنگ رہ گئی۔ لیکن اول و آخر فنا ، باطن و ظاہر فنا۔

 یہ سویت طرز کا خاموش چند ہزار افراد کا گاؤں  ہے۔ جہاں کوئی بلند عمارت نہیں سب کی معاشی حالت یکساں ہے سو نہ کوئی اعلی ہے نہ ادنی ہے۔ یہی بات مجھے ان کا موازنہ بلغاریہ سے کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہاں ہماری گاڑی کے آگے ایک کتا کھڑا ہوگیا۔ اور بہت ہی خالی نظروں سے لیکن پر امید نگاہ سے ہمیں تکنے لگا ۔

میں باہر آئی تو میری ٹانگوں سے لپٹنے لگا۔ میں نے گاڑی سے ویفرز کا پیکٹ نکالا اور اسے ڈالا۔ جسے دیکھتے ہی دیکھتے وہ چٹ کر گیا پھر جانے کیا کچھ ڈالتی رہی میرے بسکٹ تک کھا گیا ۔ لیکن ھل من مزید کا ورد جاری تھا اس کی نگاہوں سے۔ پھر ہم جب واپس جانے لگے تو پھر لاڈ کرنے کو تیار ہوا ۔تب تک گاڑی کا پیچھا کرتا رہا جب تک میں نے شیشہ نیچے کرکے اسے الوداع نہ کہہ دیا ورنہ وہ تو ساتھ جانے کو تیار تھا۔  

ساتھی کتوں کو بھی لے آیا تھا شیخی بگھار کے ۔ مجھے اسے  یوں چھوڑتے ہوئے بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا مگر بعض جگہوں پر بے بسی سی بے بسی ہوتی ہے۔ باکو بہت دور تھا میں اسے کیسے اپنے پاس رکھتی وہاں۔ اتنا دکھ مجھے ماں سے رخصت لیتے ہوئے ہی ہوتا ہے بس۔

 جب ہم شیکی  پہنچے تو راستہ کسی گناہ گار کے مقدر کی طرح ناہموار تھا اور توبہ گار کی تقدیر کی مانند زیر تعمیر تھا۔بعد از ہزار خواری ہوٹل پہنچے تو وہ جو شہر کا سب سے شاندار لیکن ہمارے لئے بہت ہی عامیانہ ہوٹل تھا۔جیسے ترکی سے جارجیا جاتے ہوئے ٹرک ہوٹل ہوتے ہیں۔ چار ستارے والا ہوٹل تھا بہرحال ۔ دو راتیں گزارنی تھیں۔ آرام کے بعد کھانا کھانے پہنچے تو بہت خوبصورت ریستوران میں پیتی آرڈر کی۔ یقین مانیں اسم بامسمی پکوان تھا۔ اس قدر لذیذ کہ بندہ  اپنے معدے کی گنجائش بڑھنے کی دعا کرنے لگ جائے۔ مگر ہاتھ نہ روک پائے۔ میں نے آذربائیجان  کے طول وعرض میں جتنا بھی سفر کیا ہے ہندوشکہ یعنی ٹرکی ضرور کھایا ہے جسے ترک زبان میں ہندی کہتے ہیں اور ہندی زبان میں ترکی پکھشی کہتے ہیں جبکہ عربی میں رومی مرغ کہتے ہیں  و علی ھذا القیاس۔ اس پرندے سے یعنی صرف مجھے ہی مخاصمت نہیں بلکہ

سب ممالک نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ ٹرکی پرندےسے میری دشمنی کی داستان پھر کبھی سہی ۔ابھی  یہ سن لیں کہ شیکی شہر کوئی غیر معمولی شہر نہیں  بس رسول حمزہ توف کے داغستان کے قرب و جوار میں واقع ایک عامیانہ سا گاؤں  نما شہر ہے ۔شیکی شہر کی وجہ سہرت شبکہ کے فن  اور اس  مٹی کے فرزند مشہور آذری شاعر  بختیار وہاب زادہ کی وجہ سے ہے ۔یہ ایسا شہر ہے جہاں مرد و زن کو مساوات حاصل ہے۔ جہاں اس قدر مہربان لوگ رہتے ہیں کہ جن کے دل اور چائے کے پیالے بڑے ہوتے ہیں لیکن کھانے کا بل کم ہوتا ہے ۔ جہاں مسافر پروری یعنی مہمان نوازی ایک طرہ امتیاز ہے۔ جہاں کے دغاباز و دھوکہ باز دکاندار بھی قدرے مہربان ہیں۔ چنانچہ جب ہم میوزیمز کی سیر اور  شیکی کے خان کی سرائے دیکھنے گئے تو خریداری بھی کی کچھ مناظر سے دلداری بھی۔ مجھے تو بس پہاڑوں کے پار داغستان کا چہرہ دیکھنا تھا جسے رسول حمزہ توف نے کس قدر شیریں بیانی سے ہمارے دل و دماغ میں اتار دیا ہے۔ یہاں سے داغستان اتنا قریب ہے کہ  اگر پہاڑ تھوڑے نیچے ہوتے تو سماوار  سے اٹھنے والا دھواں وہاں پہنچتا۔ مجھے حیرت اس وقت بھی ہوئی کہ شیکی جیسے دور دراز شہر میں بھی پاکستانی اور ترکی جھنڈا آذری جھنڈے کے ہمراہ لہرا رہا تھا۔ اس مثالی اخوت کا مظاہرہ تین مسلم برادر ملکوں کو ایک مسرت کی لڑی میں پروئے ہوئے تھا۔ میری لفاظی کو معاف کیجئے کہ میں رسول حمزہ توف کے پڑوس میں تھی اور حسن بیان میری انگلی تھامے ہوئے تھا۔

کچھ بلندی پر واقع خان سرائے دیکھنا بھی ایک الگ تجربہ ہے یہاں داخلی دروازے کے پاس نظر کے توڑ  کے پودے بیچتی مہربان جھریوں والے چہرے کی مالک بڑھیا کوئی حکیم لقمان کی ہمشیرہ  معلوم ہوتی ہیں۔ وہ دعا دے کر جب رخصت کرتی ہیں تو کوہ قاف کا حسن کچھ اور قیمتی سا اور نکھر سا جاتا ہے۔شاید اس بڑھیا کی دعا ایک تیسری آنکھ عطا کرتی ہے۔ وہ آنکھ جس میں محبت اور مشاہدہ اور ممنونیت سب کچھ ہے۔ خان سرائے کے رہبر بڑے درشت لیکن درست انسان ہیں۔ وہ چونکہ زیادہ باخبر اور پڑھے لکھے ہیں سو مغرور ہونا بنتا ہے۔ لیکن وہی رہبر جو تین زبانیں بولتا ہے اور مجھے ہر سوال پر سخت اور مختصر  جواب دیتا ہے ۔اچانک موم ہوجاتا ہے یہ جان کر کہ مجھے اس سے زیادہ زبانیں آتی ہیں۔ سو اب وہ مسرت کا اظہار اس طرح کرتا ہے کہ  واقعی ایک عالم کے اوپر دوسرا ذی علم ہے۔ اور پھر چلتے ہوئے ہر قدم پر تفصیلی جواب دیتا ہے ان سوالات کے بھی جو میری زبان پر نہیں ہوتے۔ وہ ہر کمرے میں بنے نقش و نگار کے مفاہیم مجھے عطا کرتا ہے ۔جو یہاں تفصیلا و اجمالا  لکھنا تو ممکن نہیں کہ قاری بیزاری کی چادر اوڑھ لیں گے ۔لیکن اتنا کہوں گی کہ منقش شیشوں والی کھڑکیوں کا منقش آرٹ جس کو مقامی زبان میں ‘شبکہ'( عربی میں کھڑکی کو شبکہ کہتے ہیں لیکن یہاں کھڑکیوں  پر بنے نقش و نگار کے فن کو  ) کہا جاتا ہے یہ آرٹ شیکی کے خانوں کو بہت پسند تھا اور جس کے کاریگر آج بھی موجود ہیں۔  

چنانچہ شبکہ کے فن کے نمونے شیکی میں ہر جگہ ملتے ہیں۔بلکہ اس کے سکھانے کے باقاعدہ مراکز ہیں۔ دوسرا شیکی کے خان اپنے محلات کے ہر کمرے کے نقش و نگار دوسرے کمرے سے جدا رکھتے تھے۔ خواتین کے کمرے میں پھول اور پرندے ہوا کرتے تھے۔ اور مہمانوں کے کمرے میں شکاری جانور اور جنگی ساز و سامان اور  مناظر کی کاریگری۔ اور بادشاہ کے اپنے کمرے میں معنی خیز تصاویر ہوا کرتیں جو اسے ہمہ وقت یاد دلاتیں  کہ بادشاہی ہر وقت میسر نہ ہوگی۔ طاقت کے بعد مہربانی کو نہ بھولنا ۔ اژدھا منہ سے آگ برساتاہے لیکن تم پھول برسانا۔ اور فیصلہ یا انصاف یا عدالت والے کمرے میں کوئی بھی نقش نہ ہوتا کہ اسے توجہ بھٹک نہ جائے اور کوئی نا انصافی ہو جائے۔ اور کھڑکیوں کا ذکر کیا ، دروازوں کا ذکر  نہ کرنا تو نا انصافی ہوگی ۔ یہاں محل میں دروازوں کے نقش و نگار پر  بھی خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔ چنانچہ چوبی دروازے بہترین رنگوں سے بنے پھول پتیوں سے آراستہ کیے جاتے۔ جہاں جب

مقفل کرنے کو زنجیر لگائی یا ہٹائی جاتی تو وہ دروازے  کے اوپر کسی پنڈولم  کی طرح لٹکتی اور ہلتی رہتی۔ میں ایسی کڑی در کڑی زنجیروں کی بہت دیوانی ہوں۔ ایک وہ زنجیر بھی تو ہوتی ہے جو بیڑیاں بنا کر پہنا دی جاتی ہے منہ کھولنے پر اور ایک یہ زنجیر نما قفل تھے حفاظت اور آزادی کے لئے۔ کیا تضاد ہے کیا تصنع ہے۔ ایک عہد میں جی کر جب زمانہ حال میں لوٹے اور خان کی سرائے سے نکلے تو سوئے بازار چلے۔  

جس دکان سے چھوٹے سائز کا قرآن خریدا وہاں طیب اردوان اور امینے اردوان بھی خریداری کر چکے تھے۔ خاتون نے مجھے تصاویر دکھا کر فخر کا اظہار کیا جبکہ میں اتفاق سے اس دکان کا انتخاب کر بیٹھی تھی۔ یہاں دکانوں میں اکثر خواتین بیٹھتی ہیں۔ اور بڑی منہ پھٹ ہوتی ہیں مثلا ،ایک دکان سے انار کے پھول چائے میں ڈالنے کے خریدنے لگی تو بڑھیا نے دام طے کرنے تھے۔ میں نے کہا کچھ سستا بھی ہے تو کہتی ہے کہ یہ ‘ات بورنو'( یہ چائے میں ڈالنے کے لئے گلاب کی پتیاں گر جانے کے بعد رہ جانے  والی بیجوں کی  پوٹلی ہوتی ہے،)لے لو ، ‘ات بورنو’ یعنی کتے کی ناک  کیا ہے؟ میں نے آنکھیں گھمائیں ۔اسے تو ہم ‘کوش بورنو ‘ یعنی چڑیا کی ناک کہتے ہیں میں نے کہا تو فی الفور جواب دیا ۔  

‘تم پوچھتی ہو، ات بورنو کیا ہے؟ میں پوچھتی ہوں کوش بورنو کیا ہے؟’ پھر ناچار ہمیں قہقہہ لگانا پڑا۔ شام کا کھانا گاگارین ریستوران سے کھایا،  گاگارین روسی خلانورد تھا جو پہلا انسان تھا خلا میں جانے والا۔ شیکی شہر کو الوداع کہتے دل بڑا بوجھل تھا ۔جسے رستے میں آنے والے ‘گوئےچائے’ نامی قصبہ  جسے اناروں کی جنت بھی کہا جاتا ہے، کے اناروں اور شماخہ کی ساکت جھیل اور بھیڑ چال چلتی ہوئی بھٹکتی ہوئی بھیڑوں نے ہلکا اور پر مسرت کر دیا تھا ۔۔

ozIstanbul

پچھلا پڑھیں

یو اے ای نے شہزادی شیخا لطیفہ کے زندہ ہونے کا ابھی تک کوئی ثبوت نہیں دیا، اقوام متحدہ

اگلا پڑھیں

ترکی میں خواتین مردوں سے زیادہ طویل عمر پاتی ہیں

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے