ترکی مہمان نواز ، پرکشش اور آگے بڑھنے کےمواقعوں کا حامل ملک ہے ،ووڈافون سربراہ

ٹیلی کام جائنٹ کا کہنا ہے کہ ترکی میں انہیں آگے بڑھنے کے بہترین مواقعے، پرکشش نظارے اور بہترین مہمان نوازی دیکھنے کو ملتی ہے۔

ووڈا فون ترکی کے سی ای او کولمین دیگن  نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ترک مارکیٹ سے ملنے والے مثبت ریسپونس کے بعد وہ کبھی بھی ترک مارکیٹ کو چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

ووڈافون ترکی کی مواصلات صنعت کا بہترین کھلاڑی ہے ۔ یہاں تک کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران لوگوں نے ووڈا فون کی خدمات حاصل کرنے کو ترجیح دی ہے۔

کورونا وائرس نے ہمیں اس بات کا خیال دلایا ہے کہ ابلاغ اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو کس طرح کی  مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دیگن کا مزید کہنا تھا کہ ترکی ہمارے گروپ کی سب سے بہترین  مارکیٹ  ہے جہاں سے ہماری کمپنی کو کافی فائدہ پہنچتا ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ وہ جب سے ترکی آئے ہیں انہوں نے 40 صوبوں کا سفر کیا ہے۔وہ جہاں بھی گئے ہیں وہاں کہ لوگوں کو ہمیشہ انہوں نے نئی چیزیں استعمال کرنے کا خواہشمند پایا ہے۔ ہم ترکی میں اپنی با صلاحیت پیشہ ور افراد پر مشتمعل ایک متحرک ٹیم کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

دیگن نے اپنے بیان میں کہا کہ  وبائی مرض کے دوران لوگ  ٹیکنالوجی کو اپنی زندگی میں زیادہ اہمیت دینے لگ  گئے ہیں اب سب کچھ ہی ڈیجیٹلائز ہوگیا ہے۔اس لیے بطور ووڈافون ہم سمجھتے ہیں کہ پوری دنیا کی اقوام کی حمایت میں ہمارا ایک اہم کردار ہے ۔ اس آزمائیشی وقت کے دوران ہم نے تین باتوں کا خاص طور پر خیال رکھا ہے:اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود اور حفاظت، ہماری خدمات کا تسلسل اور اپنے ماحولیاتی نظام کا استحکام۔

دیگن کا یہ بھی کہنا تھا کہ وبائی مرض کے باعث انٹرنیٹ کے استعمال میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ موبائل  کے استعمال میں تقریبا 10 فیصد اور براڈ بینڈ کے استعمال میں تقریبا 60 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 

 دیگن نے ترکی میں  کمپنی کی سرمایہ کاری کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ 2019 -2020  کے مالی سال میں ترکی کی معیشت  اور ڈیجیٹلایئزیشن  کے لیے مجموعی طور پر 1.7 ٹی ایل  بلین کی سر مایہ کا ری کی ہے۔

ہم اس وقت  23.6 ملین موبائل صارفین اور 1.1 ملین براڈ بینڈ صارفین کی خدمت کر رہے ہیں۔ ہم ایک ہی چھت کے نیچے موبائل اور براڈ بینڈ دونوں ٹیکنالوجیز فراہم کرتے ہیں۔

Read Previous

ترک وزیر دفاع کی نیٹو کے ملٹری کمیٹی کے سربراہ جنرل اسٹیوارٹ پیچ سے ملاقات

Read Next

پاکستان میں 15 ستمبر سے تمام تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

Leave a Reply