کابل: افغانستان میں طالبان حکومت نے شادی، منگنی اور دیگر خاندانی تقریبات سے متعلق ایک نیا ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے خواتین کے میک اپ، پرفیوم، مصنوعی بال (ہیئر ایکسٹینشن) کے استعمال سمیت متعدد رسومات پر پابندی عائد کر دی ہے، جبکہ منگنی میں انگوٹھیوں کے تبادلے کو بھی غیر اسلامی اور مغربی روایت قرار دیا گیا ہے۔
طالبان حکومت کی وزارتِ حج و اوقاف کی جانب سے جاری کیے گئے اس حکم نامے میں ملک بھر کے خطیبوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جمعے کے خطبات میں شادی بیاہ کی تقریبات میں اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد کی اہمیت اجاگر کریں اور ان رسومات کی حوصلہ شکنی کریں جنہیں حکومت نے شریعت کے منافی قرار دیا ہے۔
ہدایت نامے کے مطابق خواتین کے میک اپ، پرفیوم، مصنوعی بال لگانے، جسم نمایاں کرنے والے تنگ لباس پہننے اور شادی کی تیاری کے لیے گھروں سے نکلنے کی بھی ممانعت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دلہن کے حسن کو نمایاں کرنے کے لیے بھنویں بنوانے، چہرے کے غیر ضروری بال صاف کروانے، ہونٹ نمایاں کرنے اور مختلف کاسمیٹکس کے استعمال کو بھی "دھوکے کی ایک شکل” قرار دیا گیا ہے۔
طالبان حکومت نے منگنی کی تقریبات میں دلہا اور دلہن کے درمیان انگوٹھیوں کے تبادلے کو بھی ممنوع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شادی کی انگوٹھی پہننا اسلامی روایت نہیں بلکہ مسیحی اور مغربی ثقافت کا حصہ ہے۔ اسی طرح منگنی کے موقع پر ایک دوسرے کے ہاتھوں پر مہندی لگانے کی رسم پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
نئے حکم نامے میں شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں موسیقی، آتش بازی، مرد و خواتین کے مشترکہ رقص اور دیگر غیر شرعی سرگرمیوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے ان سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں خواتین پر متعدد پابندیاں پہلے ہی نافذ کی جا چکی ہیں، جن میں بیوٹی سیلونز کی بندش بھی شامل ہے، جس کے باعث خواتین کے لیے بیوٹی پارلرز تک رسائی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ شادی، منگنی اور غمی سمیت مختلف تقریبات میں اسلامی تعلیمات پر مکمل عمل نہیں کیا جا رہا، اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام تقریبات کو اسلامی اصولوں اور مقامی مذہبی روایات کے مطابق منعقد کریں۔
