اسلام آباد: پاکستان کے پہلے اکنامک سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ملک کا موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور اس کے ذریعے عوامی مسائل کا حل ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک ایسے نظام کو گھسیٹ رہا ہے جو اب عملی طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو آئندہ دس برس بعد بھی ملک انہی مسائل سے دوچار ہوگا اور لوگ اسی طرح اپنی مشکلات بیان کر رہے ہوں گے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
انہوں نے واضح کیا کہ وہ جمہوریت کے مضبوط حامی ہیں، تاہم جمہوریت کے اندر بھی مختلف طرزِ حکمرانی موجود ہیں اور وقت کا تقاضا ہے کہ موجودہ نظام میں ضروری اصلاحات کی جائیں، نہ کہ ہر قیمت پر اسی فرسودہ ڈھانچے کو برقرار رکھا جائے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ عوام کو انصاف، بنیادی سہولیات اور حکومتی خدمات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق نئے انتظامی یونٹس یا صوبے قائم کیے بغیر مؤثر طرزِ حکمرانی ممکن نہیں۔
انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک میز پر بیٹھیں اور ملک کے انتظامی و آئینی نظام میں اصلاحات کے لیے متفقہ لائحہ عمل طے کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف وقتی اقدامات یا ’’فائر فائٹنگ‘‘ سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ نظام کو ازسرِنو ترتیب دینا ہوگا۔
محسن نقوی نے وزیراعظم شہباز شریف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ دن رات محنت کر رہے ہیں اور کئی کئی گھنٹے کام کرتے ہیں، تاہم صرف ایک فرد کی محنت سے ملک کے مسائل حل نہیں ہوں گے جب تک بنیادی نظام کو درست نہیں کیا جاتا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
انہوں نے کاروباری برادری پر بھی زور دیا کہ وہ صرف انتخابات میں مالی معاونت تک محدود نہ رہے بلکہ ملک میں نظام کی اصلاح کے لیے بھی مؤثر آواز بلند کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروباری طبقہ انتظامی صلاحیت، معیشت اور ترقی کے حوالے سے قیمتی تجربہ رکھتا ہے، اس لیے اسے قومی پالیسی سازی میں نمایاں کردار ادا کرنا چاہیے۔
نوجوانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ انہیں عارضی مراعات، ٹیبلیٹس یا معمولی وظائف نہیں بلکہ میرٹ پر ملازمتیں، انصاف اور مساوی مواقع درکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نوجوانوں کو مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔
محسن نقوی نے وفاقی مالیاتی نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا ہر بجٹ خسارے اور قرضوں کی بنیاد پر بنایا جاتا ہے، جبکہ قرض لے کر نظام چلانے کی پالیسی مستقل حل نہیں بلکہ معاشی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے قیام کے وقت 14 صوبوں سے آغاز کیا تھا جو اب 29 ہو چکے ہیں، جبکہ انڈونیشیا میں بھی وقت کے ساتھ نئے انتظامی یونٹس قائم کیے گئے۔ ان کے مطابق پاکستان کو بھی اپنے انتظامی ڈھانچے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا تاکہ عوام تک اختیارات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکے۔
وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ، جامعات، میڈیا، وکلا اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ نئے انتظامی یونٹس اور نظامی اصلاحات پر قومی سطح پر کھلی بحث کا آغاز کریں اور عوام کی رائے کو مقدم رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام اپنے قریب اختیارات کا مرکز چاہتے ہیں تو اس مطالبے کو سنجیدگی سے قبول کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے نوجوان اس معاملے پر انتہائی حساس ہیں اور ان کی خواہشات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ انہیں انصاف، میرٹ اور روزگار کے مساوی مواقع فراہم کرے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
محسن نقوی نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے چیمبرز آف کامرس کی جانب سے امن و امان سے متعلق دی جانے والی تجاویز پر ان کے ساتھ بیٹھ کر کام کرنے کی بھی پیشکش کی اور کہا کہ حکومت ہر ایسی تجویز کا خیرمقدم کرے گی جو ملک میں امن اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا سبب بنے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک اہم موقع پر کھڑا ہے، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات پسِ پشت ڈال کر ملک کے بنیادی نظام کی اصلاح پر متفق ہونا ہوگا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ کاروباری برادری، وکلا اور دیگر متعلقہ حلقوں کے ساتھ مل کر ہر اس اقدام کی حمایت کریں گے جو پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ ریاست بنانے میں معاون ثابت ہو۔
