Turkiya-Logo-top

چار سال سنسرشپ کی رکاوٹیں عبور کرنے کے بعد ستلج فلم ریلیز ہوگئی

ستلج (پہلے Punjab 95 کے نام سے معروف) ہنی ترہن کی ایک متنازع مگر انتہائی طاقتور سیاسی فلم ہے جو طویل سنسر شپ مراحل سے گزرنے کے بعد آخرکار ریلیز ہو گئی ہے۔ چار سال کی قانونی اور سنسرشپ جدوجہد کے بعد یہ فلم Zee5 پر ناظرین کے لیے پیش کر دی گئی ہے۔

یہ فلم ریاستی طاقت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سچ کی تلاش جیسے حساس موضوعات کو نہایت جرات مندانہ انداز میں پیش کرتی ہے۔ کہانی ناظرین کو 1980

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

اور 1990 کی دہائی کے پنجاب میں لے جاتی ہے، جب سیاسی کشیدگی اور عسکریت پسندی اپنے عروج پر تھی۔

فلم ان حالات کی عکاسی کرتی ہے جن میں جبری گمشدگیاں، غیر قانونی حراستیں اور مبینہ طور پر اجتماعی تدفین جیسے سنگین مسائل سامنے آتے ہیں۔ اگرچہ یہ ایک مخصوص تاریخی دور پر مبنی ہے، لیکن اس کا پیغام انسانی حقوق کے عالمی تناظر میں بھی گہری اہمیت رکھتا ہے۔

کہانی انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی سے متاثر ہے، جو ایک بینک افسر کے طور پر اپنے قریبی دوست اور اس کی والدہ کی گمشدگی کے بعد سچ کی تلاش شروع کرتا ہے۔ اس کی یہ تلاش اسے ایک ایسے نظام تک لے جاتی ہے جہاں لاوارث لاشوں اور خفیہ ریکارڈز کے ذریعے ایک خوفناک حقیقت سامنے آتی ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

جیسے جیسے وہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچتا ہے، اسے طاقتور حلقوں کی طرف سے دباؤ اور خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی ذاتی زندگی بھی اس جدوجہد سے متاثر ہوتی ہے، لیکن وہ سچ کی تلاش سے پیچھے نہیں ہٹتا۔

فلم میں دلجیت دوسانجھ نے مرکزی کردار میں غیر معمولی اور حقیقت سے قریب تر اداکاری کی ہے، جس میں انہوں نے جذبات، عزم اور خوف کو انتہائی مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ دیگر کردار بھی کہانی کو مضبوط بناتے ہیں، خاص طور پر پولیس اور تحقیقاتی اداروں سے متعلق مناظر جو کہانی کی شدت میں اضافہ کرتے ہیں۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

اگرچہ کچھ حصے طویل محسوس ہوتے ہیں، لیکن مجموعی طور پر فلم اپنی گرفت برقرار رکھتی ہے اور ناظرین کو آخر تک باندھے رکھتی ہے۔

آخر میں ‘ستلج’ ایک ایسی فلم کے طور پر سامنے آتی ہے جو صرف تفریح نہیں بلکہ ایک طاقتور سیاسی اور انسانی حقوق پر مبنی بیانیہ ہے، جو سچ، طاقت اور انصاف کے درمیان کشمکش کو بے نقاب کرتی ہے۔

Read Previous

پاکستانی ساختہ جے ایف-17 سی بلاک III طیاروں کی آذربائیجان کی فضائی مشقوں میں شرکت

Read Next

نیٹو اجلاس 2026: مارک روٹے کا دفاعی اخراجات کو عملی فوجی صلاحیتوں میں تبدیل کرنے پر زور

Leave a Reply