انقرہ:نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات کو حقیقی فوجی صلاحیتوں میں تبدیل کریں تاکہ اتحاد کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس 2026 سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مارک روٹے نے کہا کہ اتحادی ممالک کو اپنے دفاعی بجٹ کو جدید میزائل نظام، فضائی دفاع، انٹرسیپٹرز اور دیگر عسکری ضروریات پر خرچ کرنا چاہیے تاکہ نیٹو کی دفاعی استعداد مزید مضبوط ہو۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
انہوں نے 2026 کے نیٹو سربراہی اجلاس کی میزبانی پر ترکیہ اور صدر رجب طیب اردوان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کے لیے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کی مستقبل کی سکیورٹی حکمت عملی میں ترکیہ کا کردار انتہائی اہم ہے اور اس کا جغرافیائی محل وقوع اتحاد کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
نیٹو کے رکن ممالک کے سربراہانِ مملکت اور حکومت 7 اور 8 جولائی کو انقرہ میں ہونے والے دو روزہ سربراہی اجلاس میں شریک ہوں گے۔ اجلاس میں گزشتہ سال طے کیے گئے دفاعی اخراجات کے اہداف پر عمل درآمد، یوکرین کے لیے جاری فوجی معاونت، دفاعی صنعت کی پیداواری صلاحیت میں اضافے اور اتحاد کی مجموعی دفاعی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے اور ٹرانس اٹلانٹک اتحادیوں کے درمیان دفاعی ذمہ داریوں کی تقسیم پر بھی نئی بحث چھڑی ہوئی ہے۔ توقع ہے کہ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی بھی اجلاس کی بعض سرگرمیوں میں شرکت کریں گے، جہاں علاقائی سلامتی اور یوکرین کی دفاعی ضروریات اہم موضوعات ہوں گے۔
