بچوں کو سکولوں میں جانے کے لیے مجبور نہیں کیا جاے گا

حالات چاہے جیسے بھی ہوں زندگی کبھی نہیں رکتی  اور انسان کو ہر  قسم کے حالاتوں کا سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوتا ہے۔

کورونا وائرس  کے بعد  اس بات میں کوئی  شک نہیں  کے زندگی اب پہلی جیسی نہیں رہی۔لوگوں کا زندگی گزارنے کا رہن سہن  بلکل بدل چکا  ہے۔ جو باتیں جنکو پہلے  غیر ضروری سمجھا جاتا تھا وہ اب ایک صحت مند زندگی گزارنے کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں۔

ترکی بھی اس بات کی گہرائی کو بخوبی سمجھتا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں  زندگی   گزارنے کے لیے جو کام ضروری ہیں ہم انہیں کچھ دیر کے لیے روک تو سکتے ہیں مگر زیادہ دیر تک ان سے بے خبر نہیں رہ سکتے۔

کورونا وائرس  کے پھیلاو کو روکنے کے لیے اور بچوں کو اس سے محفوظ رکھنے کے  لیے سکولوں کو بند کر دیا گیا تھا ۔لیکن اب جیسے جیسے حالات بہتری کی طرف  جا رہے ہیں ویسے ہی زندگی  بھی اپنے نارمل اوقات میں واپس آنا شروع ہوگئی ہے۔

ترکی  میں ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں سکول دوبارہ کھلنے کے لیے تیار ہیں کیونکہ ملک  کورونا وائرس کے خلاف اپنی جدوجہد کو بھر پور طریقے سے جاری رکھے ہوئے ہے۔

حکام نے عوام کو یقین دلایا  ہے  کہ طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ترکی نے تمام تر اقدامات کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ مگر اس سب کے باوجود بھی  والدین  اپنے بچوں کی حفاظت کو لے کر بہت پریشان ہیں۔

وزیر قومی تعلیم زیا  نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ بچوں کو  ذاتی طور پر سکولوں میں جانے کے لیے مجبور نہیں کیا جاے گا۔بچوں تک تعلیم پہنچانا ضروری ہے ناکہ انکی سکول میں حاضری کو بڑھانا۔

وزیر قومی تعلیم کا مزید کہنا تھا کہ   بچوں  پر سکول آنے کے لیے دباو ڈالنا غلط ہوگا کیونکہ ہر شخص موجودہ حالات کو لے کر سخت پریشان ہے ۔

ترکی 21 ستمبر کو سکول کھلنے سے پہلے ہی آن لائن کلاسز کا انعقاد کررہا ہے۔ تاکہ بچے پڑھائی کی نعمت سے استعفادہ حاصل کرسکیں۔

حکومت نے  اسکولوں  میں وبا  کے خلاف  اقدامات کے لیے رہنمائیوں کا ایک سیٹ جاری کردیا ہے جس میں کلاسز میں سماجی دوری اختیار کرنے سے لے کر  طلبہ اور اساتذہ کے ماسک پہنے تک سب چیزیں شامل ہیں۔

ابھی تک اس بات کو واضح  نہیں کیا گیا کہ سکول اپنے نارمل حالات میں کیسے واپس آئیں گے۔

وزیر قومی تعلیم کا کہنا تھا کہ وہ حالات  کے پیش نظر سکول کے اوقات میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ  سکول کے پہلے ہفتے میں بچوں کو  وبائی مرض سے لڑنے اور  اس سے بچاو کے طریقوں سے متعارف کروایا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کے خطرے سے بچوں کو محفوظ رکھا جا سکے ۔

Read Previous

اسرائیلی طیارے کو سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت

Read Next

ترک صدر کا 98 ویں یومِ ظفر کی تقریب سے خطاب

Leave a Reply