سرائیوو: بوسنیا و ہرزیگووینا میں سربرینیسا نسل کشی کی 31ویں برسی کے موقع پر منعقدہ سالانہ امن مارچ میں 7 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ مختلف ممالک سے آنے والے شرکاء، زندہ بچ جانے والے متاثرین، شہداء کے اہلِ خانہ، سفارت کاروں، مذہبی رہنماؤں اور عالمی شخصیات نے سربرینیسا-پوٹوچاری یادگاری مرکز پہنچ کر 1995 کے سانحے میں شہید ہونے والے آٹھ ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر حال ہی میں شناخت ہونے والے 10 مزید متاثرین کو بھی سپردِ خاک کیا گیا۔
امن مارچ ہر سال اُن راستوں پر منعقد کیا جاتا ہے جن پر 1995 میں ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں نے جان بچانے کی کوشش کی تھی۔ آج یہی سفر اُن متاثرین کی یاد، انصاف کے مطالبے اور آئندہ نسلوں کو اس المیے سے آگاہ رکھنے کی علامت بن چکا ہے۔
امن مارچ کے شرکاء کے لیے ترکیہ کے تعاون و رابطہ ادارے ٹیکا (TİKA) نے بھی مختلف سہولیات فراہم کیں۔ ادارے کی جانب سے مارچ کے مختلف مقامات پر پینے کے پانی، طبی امداد، آرام گاہوں اور دیگر بنیادی سہولیات کا انتظام کیا گیا تاکہ مختلف ممالک سے آنے والے ہزاروں شرکاء اپنا سفر محفوظ اور سہولت کے ساتھ مکمل کر سکیں۔ ٹیکا گزشتہ کئی برسوں سے سربرینیسا امن مارچ اور برسی کی تقریبات میں انسانی و تنظیمی معاونت فراہم کرتا آ رہا ہے۔
11 جولائی 1995 کو بوسنیائی سرب افواج نے اقوامِ متحدہ کی جانب سے محفوظ علاقہ قرار دیے گئے سربرینیسا پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد چند ہی روز میں آٹھ ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمان مردوں اور کم عمر لڑکوں کو قتل کر دیا گیا۔ یہ سانحہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ میں ہونے والی بدترین نسل کشی تصور کیا جاتا ہے۔
بوسنیا و ہرزیگووینا کی صدارتی کونسل کے چیئرمین ڈینس بیچیرووچ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی حقیقت کو محفوظ رکھنا ہی مستقبل کے امن اور استحکام کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تاریخ کو مسخ یا فراموش کر دیا گیا تو آئندہ نسلیں بھی اس کے نتائج بھگتیں گی۔
بوسنیا میں نیدرلینڈز کے سفیر ہینک فان ڈین ڈول نے کہا کہ نسل کشی جیسے جرائم کی روک تھام کے لیے تعلیم سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق سربرینیسا میموریل سینٹر، متاثرہ خاندانوں اور زندہ بچ جانے والوں کی جدوجہد کو نئی نسل تک پہنچانا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ہر سال 11 جولائی کو اُن متاثرین کی تدفین کی جاتی ہے جن کی باقیات اجتماعی قبروں سے برآمد ہونے کے بعد شناخت کی جاتی ہیں۔ حکام کے مطابق ایک ہزار سے زائد افراد اب بھی لاپتا ہیں اور ان کی باقیات کی تلاش جاری ہے۔
برسی کے موقع پر مختلف عالمی رہنماؤں نے بھی اپنے پیغامات جاری کیے۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے سربرینیسا کے قتلِ عام کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو ایسے مظالم کی روک تھام اور انصاف کے قیام کے لیے متحد رہنا چاہیے۔ لندن کے میئر صادق خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ سربرینیسا کے متاثرین کو یاد کرنا صرف ماضی کو یاد کرنا نہیں بلکہ نفرت، تشدد اور انسانیت کو تقسیم کرنے والے نظریات کے خلاف کھڑے ہونے کے عزم کی تجدید بھی ہے۔
1992 سے 1995 تک جاری رہنے والی بوسنیائی جنگ میں ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔ حالیہ دنوں میں متعدد انسانی حقوق کے کارکنوں نے سربرینیسا نسل کشی اور غزہ میں جاری جنگ کے دوران پیش آنے والے انسانی المیوں کے درمیان مماثلت کا بھی ذکر کیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر کینتھ روتھ نے کہا کہ سربرینیسا کے ذمہ داروں کو تو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا، مگر دنیا کے دیگر تنازعات میں ہونے والے مبینہ جرائم کے ذمہ داروں کا احتساب اب بھی ایک بڑا سوال ہے۔
سربرینیسا کی 31ویں برسی ایک مرتبہ پھر اس عہد کی تجدید بن گئی کہ نفرت، تعصب اور نسل کشی جیسے جرائم کے خلاف اجتماعی شعور، تاریخی سچائی کا تحفظ اور انصاف کا مطالبہ ہی پائیدار امن کی بنیاد ہے۔
