اسلام آباد: 1995 کی سریبرینیتسا نسل کشی کی یاد میں عالمی یومِ فکر و تعظیم کے موقع پر اسلام آباد میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں پاکستان میں بوسنیا و ہرزیگووینا کے سفیر ایمن کوہوداریویچ نے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بوسنیا کے مشکل ترین دور میں پاکستان کی سفارتی، سیاسی اور انسانی امداد کو قابل ستائش قرار دیا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

تقریب میں پاکستان میں ترکیہ کے سفیر عرفان نذیر اوغلو، سفارت کاروں، سرکاری حکام، ماہرین تعلیم، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور میڈیا سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں بوسنیائی سفیر ایمن کوہوداریویچ نے کہا کہ جولائی 1995 میں آٹھ ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کا منظم قتل عام دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کا بدترین جرم تھا جسے بین الاقوامی عدالتیں باقاعدہ نسل کشی قرار دے چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس سانحے کو تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزر چکا ہے لیکن اس کے زخم آج بھی تازہ ہیں اور ہر سال نئے شناخت ہونے والے متاثرین کو سپردِ خاک کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سال بھی 10 نئے شناخت ہونے والے متاثرین کو سریبرینیتسا کے قریب واقع پوتوچاری میموریل سینٹر میں سپردِ خاک کیا گیا جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد کی باقیات اب بھی لاپتا ہیں۔
ایمن کوہوداریویچ نے بوسنیا کی جنگ کے دوران پاکستان کی حمایت کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف انسانی امداد فراہم کی بلکہ اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر بوسنیا و ہرزیگووینا کے مؤقف کی بھرپور حمایت کی۔ انہوں نے پاکستانی امن دستوں کے کردار کو بھی سراہا جنہوں نے جنگ کے متاثرین کی مدد اور انسانی خدمات میں اہم کردار ادا کیا۔
سریبرینیتسا نسل کشی جولائی 1995 میں بوسنیائی جنگ کے دوران پیش آنے والا وہ المناک واقعہ ہے جسے دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کی بدترین اجتماعی قتل و غارت قرار دیا جاتا ہے۔ اس سانحے میں 8,372 سے زائد بوشنیاک (بوسنیائی مسلمان) مردوں اور لڑکوں کو منظم انداز میں قتل کیا گیا، جبکہ 25 سے 30 ہزار خواتین، بچوں اور بزرگوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سابق یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد بوسنیا و ہرزیگووینا نے آزادی کا اعلان کیا جسے بوسنیائی سرب قیادت نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد بوسنیا میں خونریز جنگ چھڑ گئی، جس کے دوران مختلف علاقوں میں نسلی تطہیر اور بڑے پیمانے پر مظالم کیے گئے۔
1993 میں اقوام متحدہ نے سریبرینیتسا کو محفوظ علاقہ قرار دیا تھا اور وہاں ڈچ امن فوج تعینات کی گئی تھی لیکن جولائی 1995 میں بوسنیائی سرب افواج نے شہر پر قبضہ کر لیا۔

شہر پر قبضے کے بعد ہزاروں مسلمان شہری جان بچانے کے لیے پوتوچاری میں قائم اقوام متحدہ کے اڈے پر پہنچے، مگر بعد ازاں خواتین اور بچوں کو الگ کر دیا گیا جبکہ مردوں اور کم عمر لڑکوں کو مختلف مقامات پر لے جا کر منظم انداز میں قتل کر دیا گیا۔
قتلِ عام کے بعد مقتولین کی لاشیں اجتماعی قبروں میں دفن کی گئیں۔ بعد میں جرم چھپانے کے لیے ان قبروں کو دوبارہ کھود کر باقیات مختلف مقامات پر منتقل کر دی گئیں، جس کے باعث شناخت کا عمل انتہائی پیچیدہ ہو گیا
سابق یوگوسلاویہ کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل (ICTY) اور بعد ازاں بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) نے اپنے فیصلوں میں قرار دیا کہ سریبرینیتسا میں ہونے والا قتلِ عام بین الاقوامی قانون کے تحت نسل کشی تھا۔
اس مقدمے میں بوسنیائی سرب فوج کے کمانڈر راتکو ملاڈیچ اور سیاسی رہنما رادووان کاراڈزیچ سمیت متعدد اعلیٰ عہدیداروں کو نسل کشی اور جنگی جرائم کا مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

جنگ کے خاتمے کے بعد اب تک متاثرین کی باقیات 150 سے زائد مقامات سے برآمد کی جا چکی ہیں، جن میں 77 اجتماعی قبریں شامل ہیں۔ ڈی این اے ٹیکنالوجی کی مدد سے ہزاروں متاثرین کی شناخت کی جا چکی ہے، تاہم ایک ہزار سے زائد افراد کی باقیات اب بھی لاپتا ہیں۔
ہر سال11 جولائی کو پوتوچاری میموریل قبرستان میں نئے شناخت ہونے والے متاثرین کو سپردِ خاک کیا جاتا ہے۔ بعض خاندان نامکمل باقیات کی تدفین مؤخر کر دیتے ہیں تاکہ مستقبل میں ملنے والی مزید باقیات کے ساتھ اپنے پیاروں کو مکمل طور پر دفن کر سکیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
