fbpx

آذربائیجان کے سفیرعلی علیزادہ کے ساتھ ترکی اردو کا خصوصی انٹرویو

آذربائیجان میں کاراباخ کی فتح کا جشن ابھی تک جاری ہے۔ آرمینیا کے ساتھ جنگ میں ترکی اور پاکستان نے آذربائیجان کی کھل کر حمایت کی جس کے لئے دونوں ملکوں کے مشکور ہیں۔

ترکی اردو کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں آذربائیجان کے پاکستان میں سفیر علی علیزادہ نے کہا کہ ترکی اور آذربائیجان

کی محبت کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ اس کے لئے آپ کو دونوں ملکوں کا دورہ کرنے کی ضرورت ہے۔

ترکی اردو

آذربائجان کی قوم کتنا خوش ہے اور فتح کا جشن کیسے منارہی ہے ؟

آذربائیجان کے سفیرعلی علیزادہ

سب سے پہلے تو میں آپ کو اپنی طرف سے اور ایمبسی کی جانب سے  سلام پیش کرتا ہوں اور خوش آمدید کہتا ہوں ۔ظاہر سی بات ہے کہ  یہ آذربائیجان کے لیے اور پوری قوم کے لیے ایک خاص موقع ہے۔ ہم نے 30 سال تک آرمینیا کے قبضے میں رہنے والے علاقے آزاد کروا لیے ہیں۔ آج 25 نومبر کو ہم نے کیلبیجر  کا علاقہ آزاد کروا لیا ہے اور یہ ہماری قوم کے لیے فخر اور خوشی کا مقام ہے۔ جیسے جیسے ہم اپنے علاقے واپس لے رہے ہیں ویسے ویسے ہماری خوشی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جیسا کہ میں نے آپ کو پہلے بتایا کہ آج ہم نے کیلبیجر کا علاقہ آزاد کروایا ہے جس پر ہماری قوم بے حد خوش ہے۔

ترکی اردو

آرمینیا اور آذربائجان کے درمیان بون آف کونٹینشن وجہ تنازعہ کیا صرف نگوروکاراباخ ہی ہے یا اور بھی معاملات ہیں ؟

آذربائیجان کے سفیرعلی علیزادہ

ہمارے آرمینا کے ساتھ تنارعے کی وجہ ناگورنو کاراباخ کا ہی علاقہ ہے جیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں کہ آرمینا نے 30 سال سے ناگورنو کاراباخ اور اس کے اطراف کے علاقوں پر قبضہ کیا ہوا تھا۔

اگر تاریخ پر نظر دوڑائی  جائے تو پتا چلتا ہے کہ کاراباخ آذربائیجان کا علاقہ ہے جس کی  17 ویں صدی میں پناہ علی خان نے بنیاد رکھی۔

19 ویں صدی میں آرمینیا کے باشندوں کو آذر بائیجان کے علاقوں میں بھجوایا گیا اور    تین مختلف قراردادوں کے تحت آرمینیا    آذربائیجا ن کے علاقوں پر  قابض ہونے لگے۔ آرمینیا نے سویت یونین کی حمایت سے  کئی مرتبہ ان علاقوں کی ملکیت کا وعوی کیا ۔وہاں موجود آذری باشندوں پر  دو صدیوں سے ظلم ڈھائے جا رہے تھے اورہماری قوم دو صدیوں سے اس ظلم و بربریت کو برداشت کر رہے تھے۔

آذربائیجان کی آزادی کے بعد 1990 میں آرمینیا سویت یونین کے تعاون سے آذربائیجان  کے ناگورنوکاراباخ  سمیت دیگر علاقوں پر قابض ہونے لگا۔

ہمارا آرمینیا کے ساتھ اصل مسئلہ ناگورنا کاراباخ اور اطراف کے علاقوں کا تھا اور جیسا کہ ہمارے صدر نے کہا کہ ہمارا آرمینا  کے ساتھ مسئلہ نہیں ہے ہمارا مسئلہ صرف وہ علاقے ہیں جن پر آرمینیا قابض ہے۔

ہماری لڑائی صرف اپنے علاقوں کو آزاد کروانے کے لیے تھی۔

ترکی اردو

نوگوروکاراباغ کیا علاقہ ہے یہ کتنا اہم تھا آذربائجان کیلئے ؟ اس علاقے کی بودو باش رہن سہن موسم اور لوگوں کے بارے کچھ بتائے ؟

آذربائیجان کے سفیرعلی علیزادہ

جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ کاراباخ کی 1747 میں پناہ علی خان کی جانب سے بنیاد رکھی گئی۔ پناہ  علی خان ترک تھا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کاراباخ آذربائیجان کا ہی علاقہ ہے۔

اس کی بنیاد رکھے جانے کے بعد  سے یہاں آذری اور ترک لوگ آباد ہیں  اور یہاں کی ثقافت اور ورثہ بھی ترک دنیا سے مطابقت رکھتا ہے۔

سیاسی  عمل کے ذریعے سویت یونین کے تعاون سے  خصوصی پالیسیوں کے تحت آرمینیا نے کاراباخ کے علاقے میں  آرمینین باشندوں کو بھجوایا ۔  اسی پالیسی  کے تحت اس علاقے میں آرمینین باشندوں کی اکثریت کی گئی لیکن آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے باوجود  وہاں آذری اور ترک ثقافت قائم رہی۔ ناگورنوکاراباخ سے تعلق رکھنے والی بے شمار  آذری  نامور شحصیات موجود ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں ہمارے ہی لوگ آباد تھے جبکہ آرمینیا کی کسی  شحصیت کا تعلق اس علاقے سے نہیں ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ زمین آذربائیجان کا ہی  حصہ ہے ہمارے آباو اجداد سے لے کر آج تک یہاں پر   ہم نے آذری ثقافت اور ورثہ  ہی دیکھاہے۔

ترکی اردو

آزربائجان اور آرمینیا کی جنگ میں دو طرفہ کیا نقصان رہےہیں ؟

آذربائیجان کے سفیرعلی علیزادہ

اس جنگ کے آغاز سے ہی آرمینیا  اکسانے اور  جنگی جرائم  کا موجب رہا ہے اورلگاتار انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرتا رہا ہے۔ آرمینیا نے  علاقے میں موجود  رہائشی مقامات پر بمباری کرنا اور  شہریوں کو ظلم کا نشانہ بنانا جاری رکھا جو کہ جینیوا کنونشن کے قوانین کی خلاف ورزی ہے اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔ جتنے دن جنگ جاری رہی آرمینیا نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رکھیں۔

جنگ کے مرکزی علاقوں کے علاوہ گانجا سمیت دوسرے بڑے شہروں میں بھی شہری علاقوں پر  راکٹ حملے کیے گئے  جس کے نتیجے میں 94 شہری شہید ہوئے اور ہزاروں زخمی ہوئے۔

پوری دنیا اور  بین الاقوامی تنظیموں کی مداخلت کے باوجود آرمینیا نے شہری علاقوں کو نشانہ بنانا جاری رکھا۔

ہم بے حد خوش ہیں یہ کی  اب جنگ کا خاتما ہو کر  ہم امن  کی طرف جارہے ہیں اور اس سلسلے میں معاہدوں پر بھی دونوں جانب سے دستحط کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ آرمینیا نے اپنی فوج میں دہشتگردوں کو بھی شامل کیا ہوا تھا جو کہ جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ کچھ ایسے فوٹچ بھی سامنے آئے ہیں جن میں یہ واضح طور  دیکھا جا سکتا ہے کہ آرمینیا نے اس جنگ  میں کم عمر بچوں کا بھی استعمال کیا   ۔

آرمینیا نے اس جنگ میں بے شمار جنگی جرائم سر زد کیے ہیں اور ان  کی تحقیقات جاری ہیں جس کا آرمینیا کو جواب دینا ہو گا۔

ترکی اردو

آرمینیا نے انسانی حقوق کی  بدترین خلاف ورزی کی ہے جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے کیا  آذربائجان پر بھی اس طرح کے الزامات عائد ہوئے ؟  

آذربائیجان کے سفیرعلی علیزادہ

ترکی ہمارا برادر ملک ہے اور آذربائیجان کی پوری قوم ترکی سے محبت کرتی ہے جیسا کہ ہمارے لیڈر کا کہنا ہے کہ ” دو ملک ایک قوم” ترکی ہمارے لیے بھائی ملک ہے اور ہم ایک ہی قوم ہیں۔

اس جنگ کے دوران بھی ترکی کا سیاسی اور سفارتی تعاون ہم نے ہر لمحہ محسوس کیا اور  ترکی نے جنگی محاز پر بھی ہمارا بھرپور ساتھ دیا جس پر ہم فخر بھی محسوس کرتے ہیں اور خوشی بھی۔

ترکی اور آذربائیجان کے برادر انہ تعلقات کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے  اس تعلق کو محسوس کرنے کے لیے آپ کو آذربائیجا ن اور ترکی جانا چائیے۔

جنگ کے دوران ہمارے تعلقات مزید مضبوط و مستحکم ہوئے اور  ہمارا اتحاد دنیا کے سامنے آیا  اور دنیا کو پتہ چلا کہ ترکی آذربائیجان کے ساتھ ہے اور آذربائیجان کے ساتھ رہے گا ۔ہمارے لیے یہ بات باعث مسرت ہے اور ہم ترکی کے شکر گزار ہیں۔

ترکی اردو

ترکی  نے اس جنگ میں فوجی عسکری طور پر کتنا ساتھ دیا ہے اور آپ کے ترکی سے تعلقات کی نوعیت کیا ہے ؟

آذربائیجان کے سفیرعلی علیزادہ

ترکی کے بعد دوسرے نمبر پر جس ملک نے ہمیں سب سے زیادہ سپورٹ کیا وہ پاکستان ہے۔ تنازعہ کے آغاز سے پاکستان کی حکومت نے آرمینیا کے آذربائیجان پرحملے کی مذمت کی اور  آرمینیا کے طرف سے آذربائیجان کے رہائشی علاقوں پر حملوں کے خلاف آواز اٹھائی۔

44 دنوں تک جاری اس جنگ میں بھی پاکستان نے ہر لمحہ سفارتی اور سیاسی طور پر آذربائیجان کو  تعاون فراہم کیا اور ہماری اس حق کے لیے لڑائی میں ہمارا ساتھ دیا۔ حکومتی اور عسکری سمیت ہر محاذ پر  براد ملک پاکستان ہمارے ساتھ تھا اور ہماری قوم نے اسے محسوس بھی  کیا۔

میں خود بطور سفیر یہاں رہتے ہوئے  پاکستانی قوم کی جانب سےمحبت اور ہمدری محسوس کر رہا ہوں ۔ اور یہ ہمارے لیے نہایت فخر کی بات ہے۔  میں یہ کہوں گا کہ  یہ سب آذربائیجان کی قوم نے بھی دیکھا اور محسوس کیا اور یہ ہمارے لیے تعلقات مزید بہتر کرنے کا موقع ہے۔

ترکی اردو

پاکستان کے کردار کو س نظر سے دیکھتے ہیں ؟ پاکستان نے اس جنگ میں آپ کا کتنا ساتھ دیا ؟

آذربائیجان کے سفیرعلی علیزادہ

آرمینیا کی آذربائیجان کے خلاف  اس جارحیت نے پا کستان، ترکی اور  آذربائیجان کو بھی ایک کر دیا ہے۔ اس جنگ نے تینوں ملکوں کے درمیان یکجہتی کو مستحکم کیا اور دونوں برادر ممالک کی  آرمینیا کے غیر قانونی حملوں کی شدید مذمت کرنا اور ہر محاذ   پر  ہمارا ساتھ دینا باقی ملکوں کے لیے بھی مثال ہے۔

آذربائیجان کی اپنی زمین واپس لینے کے لیے اس حق کی لڑائی میں ان مما لک کا کردار بھی نہایت اہم رہا۔

یقینا آپ نے بھی سوشل میڈیا اور  ٹی وی پر دیکھا ہو گا کہ آذربائیجان میں ہر جگہ پاکستانی، ترک اور آذری جھنڈے ایک ساتھ لگائے گئے جو کہ آذری قوم کا ان ممالک کے لیے محبت کے اظہار کا ذریعہ ہے۔

میرے خیال سے مشکل حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونا اور تعاون فراہم کرنا  نہایت اہم ہے اور اس سے ممالک کے درمیان یکجہتی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ انشاالللہ یہ یکجہتی  مستقبل میں مزید مضبوط و مستحکم ہو گی۔

ترکی اردو

آزربائجان کی سڑکوں پر ترکی اور پاکستان کے پرچم بھی دکھائی دئے دو قومیں ایک ملک تین قومیں ایک ملک کے سلوگن بھی سوشل مِڈی اپر نظر آتے رہے آذری عوام قدر شناس معلوم ہوتی ہے ؟

آذربائیجان کے سفیرعلی علیزادہ

میں 4 سال سے پاکستان میں تعینات ہوں اور  یہاں فرائض انجام دے رہا ہوں۔ جب میں پاکستان آیا تو  میرا نہایت  گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔ پاکستانیوں کی مہمان نوازی اور  سادگی بے مثال ہے جس کا ثبوت ہر موقع پر ملا ہے۔

ترکی اردو

پاکستان کے کے کن شہروں اور علاقوں کا وزٹ کرچکے ہیں کونسی جگہ زیادہ پسند آئی ؟

آذربائیجان کے سفیرعلی علیزادہ

ان چار سالوں کے دوران میں نے اسلام آباد کے علاوہ مختلف شہروں کا وزٹ کیا ہے بلکہ  یہ کہوں گا کہ میں گلگت بلتستان سمیت پاکستان کے ہر صوبے کا دورہ کر چکا ہوں۔ پاکستان کی خوبصورتی  دیکھی یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی دیکھی ہر جگہ ہمارا پر جوش انداز میں استقبال کیا گیا۔ پاکستانیوں کی آذربائیجان کے لیے محبت دیکھنے کا بھی موقع ملا۔

پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے اور  پاکستانی ہمارے بھائیوں کی طرح ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی کوششیں جاری  ہیں۔

ترکی اردو

پاکستانی کھانوں میں آپ کن ڈشنز کو زیادہ پسند کرتے ہیں ؟

آذربائیجان کے سفیرعلی علیزادہ

پاکستانی کھانوں کی بے شمار  اقسام ہیں ہر صوبے کی اپنی اپنی خاص ڈش ہے۔  میں ایک جگہ جاتا ہوں تو کہتاہوں یہاں کا کھانا بہت لذیذ ہے اور جب دوسری جگہ جاتا ہوں تو وہاں کا کھانا اس سے بھی زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔

پاکستانی کھانے آذربائیجان کے کھانوں  سے ملتے جلتے ہیں اس لیے ہم روزمرہ میں بھی پاکستانی کھانے کھاتے ہیں۔

ترکی اردو

پاکستان اور آذربائجان میں تجارتی تعلقات کس نوعیت کے ہیں اور دو طرفہ تجارت میں کن چیزوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے ؟  

آذربائیجان کے سفیرعلی علیزادہ

ہمارے پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات بہت اچھے ہیں۔  آذربائیجان اور پاکستان ایک دوسرے کی ہر طرح سے مدد کے لیے  ہمیشہ تیار رہتے ہیں ۔ تجارت کی بات کی جائے تو دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں کمی کی وجہ سرحدوں کا نہ ملنا ہے۔ ایک خطے سے دوسرے  خطے میں معلومات کا تبادلہ نہایت اہم ہے اس سلسلے میں ایمبیسی اپنا کردار ادا کر رہی ہے پاکستان میں کاروبار کے حوالے سے معیشت میں اتار چڑھاو کے حوالے سے اور آذربائیجان سے تجارت کے حوالے سے۔

ہماری کو شش ہے کہ دونوں ممالک میں  تعاون کو فروغ  ملے۔ تجارتی حجم میں بھی ہر سال اضافہ ہو رہا ہے لیکن اس سال وبا کی وجہ سے تجارت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے امید ہے کہ وبا کے بعد اس میں مزید اضافہ ہو گا۔

بے شمار  منصوبوں کا آغاز بھی کیا گیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس سے ہمارے تجارتی تعلقات بہتر ہوں گے۔پاکستان کے  متعددشعبوں میں آذری مصنوعات سے مستعفیض  ہوا جا سکتا ہے ہم سیمینارز  اور کارباری حلقوں میں تجارت کے فروغ کے لیے کوششیں کرتے رہتے ہیں۔

پاکستانی  کاروباری افراد  کو ہم  آذری صنعت، زراعت اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے آگاہ کرتے رہتے ہیں ۔ آذری مصنوعات کی درآمد سے پاکستان کے مختلف شعبوں میں بہتری آ سکتی ہے۔ آذری مصنوعات کو پاکستان میں متعارف کروانے کا بھی کام ہم کر  رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستانی مصنوعات کو بھی آذربائیجان میں متٍعارف کروانے پر  بھی ہماری توجہ ہے۔

جن منصوبو ں کا آغاز کیا گیا ہے ان کے تحت دونوں ممالک میں فری ٹریڈ زونز  کے حوالے سے معلومات کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔  اگر تجارتی تعلقات کو دیکھا جائے تو دفاع اور زارعت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون جاری ہے، پچھلے کچھ سالوں میں سیاحت کے شعبے میں کافی بہتری آئی ہے  پاکستان سے  آذربائیجان جانے والے سیاحوں کی تعداد میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وبا کی وجہ سے فی الحال  تعداد کچھ کم ہوئی ہے امید ہے کہ مستقبل میں حالات مزید بہتر ہوں گے۔

پاکستان سے براہ راست آذربائیجان پروازوں کا آغاز کیا جانا تھا لیکن بد قسمتی سے وبا کہ وجہ سے اسےملتوی کرنا پڑا ۔  امید ہے کہ وبا کے بعد  براہ راست پروازوں کا آغاز کر دیا جائے گا  جس سے نہ صرف سیاحت بلکہ دوسرے شعبوں میں تعاون بھی متوقع ہے۔

انشاالللہ مستقبل میں ہر شعبے میں تعاون میں  اضافہ ہو گا ہماری جانب سے کوششیں جاری ہیں۔

حالیہ   اعدادوشمار کے مطابق آذربائیجان جانے والے پاکستانی سیاحوں کی تعداد میں  خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانیوں کو آذربائیجان کی تاریخ، ثقافت، کھانوں اور ورثہ میں دلچسپی ہے اور یہ پاکستانیوں کو متوجہ کرتے ہیں۔ پاکستانیوں کا آذربائیجان کا انتخاب کرنے کی ایک اور وجہ  دونوں ممالک میں موجود یکسانیت ہے۔

اس کے علاوہ تاریخی مقامات جیسے کہ آذربائیجان کے خطے ناخچیوان میں اصحاب کہف پاکستانی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ مختلف مذاہب کی یادگاروں کا ہونا بھی سیاحوں کو متوجہ کرتا ہے۔ علاوہ ازیں آذربائیجان میں جدید انفراسٹر کچر  بھی سیاحت کی انڈسٹری کے فروغ کا ذریعہ ہے۔

ان  تمام سہولیات کی ہی بدولت پاکستانی آذربائیجان زیادہ جاتے ہیں۔ ایک اور اہم بات جو پاکستانیوں کو آذربائیجان لے جاتی ہے وہ وہاں کے عوام کی پاکستانی بھائیوں کے لیے محبت ہے۔  جب آذری لوگ پاکستان سیاحت کے لیے آتے ہیں انہیں بھی پاکستانی عوام کی طرف سے اتنی ہی محبت اور عزت ملتی ہے۔ یہ وجوہات دونوں ممالک کے درمیان سیاحت کے فروغ کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔

 میں بہت شکر گزرا ہوں ترکی اردو کا انہوں نے جنگ کے دوران پاکستان، ترکی اور آذربائیجان کو  قریب لانے کی کوشش جاری رکھی اور آذربائیجان کی حق کے لیے لڑائی میں حقائق پوری دنیا تک پہنچائے ٓارمینیا کی جارحیت اور انسانی حقوق کی پامالیاں پاکستان اور پوری دنیا میں اردو  بولنے والوں تک پہنچائیں اس سلسلے میں میں آپ کا اور ترکی اردو کی پوری ٹیم  کا بے حد شکرگزار ہوں ۔ میڈیا کا کردار  تعلقات کی بہتری اور خرابی میں نہایت اہم ہوتا ہے۔ میں آپ کے اس پلیٹ فارم سے باقی میڈیا کے اداروں کا بھی شگر گزار ہوں کہ انہوں نے 44 دن تک جاری جنگ میں آذربائیجان کابھر پور ساتھ دیا اور پوری دنیا تک حقائق پہنچانے میں ہماری مدد کی۔

پچھلا پڑھیں

ترکی یوکرین کو جنگی بحری جہاز اور ڈرون طیارے فروخت کرے گا

اگلا پڑھیں

ترکی نے آذربائیجان اور بوسنیا کے لئے امدادی سامان روانہ کر دیا

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے