روس کے وزیرِ داخلہ ولادیمیر کولاکولتسیف وفاقی وزیرِ داخلہ پاکستان محسن نقوی کی دعوت پر چار روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔
یہ کسی بھی روسی وزیرِ داخلہ کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔ اسلام آباد آمد پر وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ان کا استقبال کیا۔
دورے کے دوران روسی وزیرِ داخلہ کی پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتیں متوقع ہیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، سکیورٹی تعاون اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان روابط مضبوط بنانے پر بات چیت ہوگی۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
روسی وزارتِ داخلہ کی ترجمان ارینا وولک کے مطابق، کولاکولتسیف پولیس یونٹس کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے، سرکاری تقریبات میں شرکت کریں گے اور متعلقہ حکام سے ورکنگ ملاقاتیں کریں گے۔ انسدادِ دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام، سائبر کرائم اور پولیس کی تربیت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔
رواں سال جون میں پاکستانی حکام نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان اور روس نے 2030 تک اقتصادی تعاون کے پروگرام پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد دوطرفہ تجارت بڑھانا اور ادائیگیوں سمیت تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ توانائی اور علاقائی رابطوں میں تعاون بھی دونوں ممالک کے مشترکہ ایجنڈے کا
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
حصہ ہے۔
پاکستان اور روس کے درمیان مئی 2026 میں اسٹریٹجک استحکام سے متعلق مشاورتی گروپ کا اجلاس بھی ہوا تھا، جس میں عالمی سلامتی اور انسدادِ پھیلاؤ سمیت امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اس سلسلے میں اگلا اجلاس 2027 میں اسلام آباد میں منعقد کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
چار روزہ دورے کے نتائج، اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور سکیورٹی و اقتصادی تعاون میں آئندہ پیش رفت پر توجہ رہے گی۔ اگر دورے کے دوران کسی نئے معاہدے یا مشترکہ اعلامیے کا اعلان ہوتا ہے تو وہ پاک روس تعلقات میں عملی پیش رفت کا اہم اشارہ ہوگا.
