Turkiya-Logo-top

سڑکیں اور تعلیمی ادارے بند، اعلیٰ افسران تبدیلخیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد صورتحال کیا ہے؟

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد نئی انتظامیہ نے صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ دوسری جانب پیر کو صوبائی دارالحکومت پشاور میں بیشتر سڑکیں اور تعلیمی ادارے بند رہے، جبکہ راستوں کی بندش کے باعث سرکاری دفاتر میں حاضری بھی متاثر ہوئی۔

گورنر راج نافذ ہونے کے بعد چیف سیکریٹری سمیت پولیس اور انتظامیہ کے متعدد اعلیٰ افسران کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ صوبے میں نئے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور پولیس افسران کی تقرریاں بھی کی گئی ہیں۔

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، صوبائی اسمبلی کے سپیکر اور کئی وزرا کو حراست میں لیا گیا ہے۔ بعض وزرا کو ان کی رہائش گاہوں سے گرفتار کر کے نامعلوم مقامات پر منتقل کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

پشاور کے بعض علاقوں میں تحریک انصاف کے کارکنوں نے گورنر راج کے خلاف احتجاج کی کوشش کی، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انہیں منتشر کر دیا۔ ضلع خیبر کے علاقوں باڑہ اور جمرود میں بھی کارکن احتجاج کے لیے نکلے، جبکہ جمرود میں متعدد افراد کو گرفتار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

امن و امان کے لیے ایپکس کمیٹی کا اجلاس

گورنر راج کے نفاذ کے بعد پشاور میں ایپکس کمیٹی اور 11 رکنی مشاورتی کونسل کے اجلاس ہوئے۔ ان میں گورنر فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، کور کمانڈر پشاور اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاسوں میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

حکام نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھنے، پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کو مزید نفری اور ضروری آلات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ مختلف اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

بارہ اضلاع کے لیے الگ سیکریٹریٹ قائم

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع کے انتظامی اور سکیورٹی امور کے لیے سابق فاٹا سیکریٹریٹ کی طرز پر ایک الگ انتظامی نظام قائم کیا ہے۔

ان میں آٹھ ضم شدہ قبائلی اضلاع اور چار بندوبستی اضلاع شامل ہیں۔ اس نظام کے تحت الگ ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل تعینات کیے جائیں گے، جو انتظامی اور سکیورٹی اقدامات کی نگرانی کریں گے۔

آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت صوبے میں فوج کو سول انتظامیہ کی مدد کے لیے تعینات کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر امیر مقام نے پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی جائیں گی اور عوام کو درپیش مسائل حل کیے جائیں گے۔

ان کے مطابق ایک دو روز میں سڑکوں سے کنٹینرز ہٹا کر راستے کھول دیے جائیں گے۔دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ بار نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے جمہوری عمل کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد جہاں وفاقی حکومت امن و امان کی بحالی کے لیے اقدامات کر رہی ہے، وہیں تحریک انصاف اور دیگر سیاسی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے کے آئینی اور جمہوری اثرات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

Read Previous

اسلام آباد میں پاکستان، ترکیہ سمیت آٹھ اسلامی ممالک کے معاشی اتحاد ڈی-8 کا مشاورتی اجلاس

Leave a Reply