اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کے پارلیمانی اجلاس میں اسٹیبلشمنٹ سے مزید مذاکرات، مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم اور پارٹی قیادت کی حکمتِ عملی پر اختلافات سامنے آئے۔ 27 اکتوبر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والا اجلاس 7 گھنٹے سے زائد جاری رہا اور اس کی صدارت پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کی۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، سینیٹر علی ظفر اور چیف وہپ ملک عامر ڈوگر بھی اجلاس میں شریک تھے۔
اجلاس میں شریک بعض ارکان کے مطابق، اکثریتی ارکان نے اسٹیبلشمنٹ سے مزید مذاکرات کی مخالفت کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ مزید بات چیت سے پارٹی کی پوزیشن کمزور دکھائی دے سکتی ہے۔ تاہم، تقریباً 15 ارکان نے مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کو قابلِ غور قرار دیا۔ ان کے خیال میں اس اقدام سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور عمران خان کی رہائی کے لیے راستہ نکل سکتا ہے۔ مختلف ذرائع سے سامنے آنے والی اطلاعات میں اس معاملے پر اتفاقِ رائے کی صورتِ حال یکساں بیان نہیں کی گئی۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
اجلاس میں پارٹی قیادت کے کردار اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر انحصار کے حوالے سے بھی تنقید ہوئی۔ بعض ارکان نے سوال اٹھایا کہ پارٹی کے اندر باضابطہ عہدہ نہ رکھنے کے باوجود انہیں اتنے اختیارات کیوں دیے گئے۔ پارٹی قیادت کے کردار پر بھی سوالات کیے گئے۔ یہ اعتراضات اجلاس میں شریک افراد سے منسوب ہیں، پارٹی کا متفقہ مؤقف نہیں۔
اجلاس کے دوران اسد قیصر کی جانب سے پیش کردہ ایک پہلے سے تحریر شدہ اعلامیے پر بھی اختلاف پیدا ہوا۔ بعض ارکان نے اعتراض کیا کہ اس میں ایسے نکات شامل تھے جن پر اجلاس میں گفتگو نہیں ہوئی تھی۔ اس موقع پر فیصل امین گنڈاپور اور بیرسٹر گوہر علی خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد فیصل امین اجلاس سے باہر چلے گئے۔ بعض ذرائع ابلاغ کے مطابق، دیگر ارکان بھی مختلف اوقات میں اجلاس سے باہر گئے۔
رکن قومی اسمبلی مبین عارف جٹ نے جیل میں قید یا روپوش پارٹی رہنماؤں کے حق میں مؤثر آواز نہ اٹھانے پر قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ سینیٹر اعظم سواتی نے بیرسٹر گوہر علی خان اور ان کے ساتھیوں سے عہدے چھوڑنے کا مطالبہ کیا، جبکہ شاہ احد نے بھی قیادت کے طرزِ عمل پر اعتراض کیا۔ رکن قومی اسمبلی شیر علی نے دعویٰ کیا کہ بعض پارٹی رہنماؤں کو پولیس کے سامنے پیش ہونے یا گھروں پر چھاپوں کا سامنا کرنے سے متعلق فون کالز موصول ہو رہی ہیں۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
اجلاس سے متعلق بعض میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ پاکستان تحریکِ انصاف مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کو عمران خان کی رہائی سے مشروط کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔ اسی طرح عمران خان تک رسائی اور ان کے طبی معائنے و علاج کے معاملات کے لیے 6 رکنی اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دینے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ان اطلاعات کے مطابق، کمیٹی میں قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی نمائندگی شامل ہوگی۔
پارٹی کے مؤقف کے مطابق، اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت بھی کی گئی۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی رہائی، عمران خان کے لیے آزاد ڈاکٹروں سے طبی معائنے اور شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج کا مطالبہ بھی دہرایا۔
