Turkiya-Logo-top

کشمیر تنازع کے منصفانہ حل کے لیے پاکستانی سفارت خانے انقرہ اور ترک ادارے ایس ڈی ای کا پینل مباحثہ

یومِ سیاہ کشمیر کی مناسبت سے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں پاکستانی سفارت خانے اور اسٹریٹجک تھنکنگ انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے پینل مباحثے کا انعقاد کیا گیا۔ ’’قبضے کے 79ویں سال میں مسئلہ جموں و کشمیر‘‘ کے عنوان سے ہونے والے مباحثے میں ماہرین نے کشمیر تنازع کے تاریخی، سیاسی اور انسانی پہلوؤں، کشمیری عوام کے حقوق، علاقائی سلامتی اور مسئلے کے منصفانہ و پائیدار حل پر گفتگو کی۔

مباحثے سے ترکیہ میں پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور شائق احمد بھٹو، کراچی میں بھی خدمات انجام دینے والے ترکیہ کے سابق قونصل جنرل جمال سانگو اور مؤرخ و مصنف سنان الہان نے خطاب کیا۔ صحافی اور محقق مہمت اوزترک نے مباحثے کی نظامت کے ساتھ اپنے خیالات کا بھی اظہار کیا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

شائق احمد بھٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر میں پائیدار امن کے قیام کے لیے انصاف، سیاسی جواز اور کشمیری عوام کی بامعنی شرکت ناگزیر ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے تنازع کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی حل میں بین الاقوامی قانون اور کشمیری عوام کی خواہشات کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔

پاکستانی ناظم الامور نے انسانی وقار کے تحفظ، خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بامعنی مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے ترکیہ کی مسلسل حمایت کو سراہا اور سفارتی روابط کے ذریعے مسئلے کے حل کی کوششیں آگے بڑھانے کی اہمیت اجاگر کی۔

ترکیہ کے سابق قونصل جنرل جمال سانگو نے کشمیر تنازع کے تاریخی پس منظر، علاقائی سلامتی پر اس کے اثرات اور کشمیری عوام کو درپیش انسانی مسائل کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے جنگ بندی برقرار رکھنے، پاکستان اور بھارت کے درمیان بامعنی مذاکرات بحال کرنے، بنیادی حقوق کے تحفظ اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون بڑھانے کو اہم سفارتی ترجیحات قرار دیا۔ انہوں نے تنازع کے پُرامن سیاسی حل کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔

مؤرخ اور مصنف سنان الہان نے کشمیر کے تاریخی اور ثقافتی ورثے پر گفتگو کرتے ہوئے وسطی ایشیا اور ترک دنیا کے ساتھ خطے کے دیرینہ روابط کا ذکر کیا۔ انہوں نے مختلف تاریخی ادوار کا جائزہ پیش کیا اور بتایا کہ ثقافتی، مذہبی اور تجارتی تبادلوں نے کشمیر کی منفرد تاریخی شناخت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

صحافی اور محقق مہمت اوزترک نے سندھ طاس معاہدے کی اسٹریٹجک اہمیت اور کشمیر تنازع سے اس کے تعلق پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ آبی وسائل سے متعلق اختلافات کو سیاسی دباؤ کے بجائے مذاکرات، تعاون اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق آبی معاملات میں تعاون اور مکالمہ علاقائی استحکام کے لیے اہم ہیں۔

مباحثے میں اس امر پر زور دیا گیا کہ جموں و کشمیر تنازع کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے سفارتی کوششوں کا تسلسل ضروری ہے۔ شرکا نے کشمیری عوام کے جائز حقوق اور امنگوں کے احترام، بنیادی حقوق کے تحفظ، پاکستان اور بھارت کے درمیان بامعنی مذاکرات اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔

Read Previous

پاکستان تحریکِ انصاف کے پارلیمانی اجلاس میں اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات پر اختلافات، اکثریتی ارکان نے مزید بات چیت کی مخالفت کر دی

Read Next

صدر ایردوان کی میکرون کو عالمی موسمیاتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت، اقوامِ متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل کے انتخاب پر بھی گفتگو

Leave a Reply