ایران نے امریکہ کی اقتصادی پابندیوں اور مسلح ناکہ بندیوں کو بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے ان کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر اور قائم مقام ناظم الامور غلام حسین درزی نے کہا کہ اقتصادی پابندیاں ’’اقتصادی دہشت گردی‘‘ کی مثال ہیں، جبکہ مسلح طاقت کے ذریعے ناکہ بندی بین الاقوامی قانون کے تحت جارحیت کے زمرے میں آتی ہے۔
غلام حسین درزی نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کیوبا کے خلاف امریکہ کی اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی پابندیاں ختم کرنے سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یک طرفہ پابندیاں خودمختار ریاستوں کے حقوق اور عالمی اقتصادی تعاون کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ان کے مطابق، کسی ملک پر اقتصادی دباؤ ڈال کر اس کی پالیسی تبدیل کرانے کی کوشش ریاستی خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصولوں سے متصادم ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
ایرانی سفیر نے کیوبا کے خلاف طویل عرصے سے جاری امریکی پابندیوں کو اقتصادی دباؤ کی مثال قرار دیتے ہوئے ان کے خاتمے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی پابندیوں کے اثرات عام شہریوں کی زندگی، صحت، خوراک اور ترقی کے مواقع پر پڑتے ہیں۔ ایران نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ یک طرفہ پابندیوں کے بجائے بین الاقوامی قانون، ریاستی خودمختاری اور تعاون کے اصولوں کو ترجیح دی جائے۔
ایران کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان اقتصادی پابندیوں، بحری ناکہ بندی اور علاقائی سلامتی پر اختلافات برقرار ہیں۔ ایران امریکی بحری ناکہ بندی کو بھی غیر قانونی قرار دیتا ہے اور اس کے خاتمے کا مطالبہ کر چکا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ بحری راستوں میں رکاوٹیں عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور ضروری اشیا کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہیں۔
پاکستان اور ترکیہ سمیت خطے کے ممالک نے بھی ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیا ہے۔ 23 اکتوبر کو استنبول میں پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں تنازع کے پُرامن حل، شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ اور آبنائے ہرمز میں محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت کی بحالی پر زور دیا گیا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، جہاں طویل تعطل عالمی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی لیے علاقائی سفارتی کوششوں میں کشیدگی کم کرنے اور بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے کو اہمیت دی جا رہی ہے۔
ایران کا مطالبہ ہے کہ خودمختار ممالک کے خلاف اقتصادی دباؤ اور مسلح ناکہ بندیوں کے بجائے بین الاقوامی قانون اور سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔ پاکستان اور ترکیہ سمیت علاقائی ممالک کی کوششیں بھی اس بات پر مرکوز ہیں کہ تنازع مزید فوجی تصادم میں تبدیل نہ ہو اور اختلافات کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے۔
