اسرائیل میں عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کا معاملہ غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہے۔ ابتدائی انتخابی جائزوں کے مطابق وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے حکومتی اتحاد اور اپوزیشن، دونوں میں سے کوئی بھی پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔ ووٹوں کی گنتی کے دوران نیتن یاہو کا اتحاد آگے دکھائی دیا، تاہم حکومت بنانے کے لیے درکار نشستیں حاصل کرنے کی صورتِ حال واضح نہیں۔
اسرائیلی پارلیمان، کنیسٹ، میں مجموعی طور پر 120 نشستیں ہیں اور حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستوں کی حمایت ضروری ہے۔ ابتدائی جائزوں میں نیتن یاہو کے اتحاد کو 51 سے 52 نشستیں، جبکہ اپوزیشن کے اتحاد کو 49 سے 51 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔ اس طرح دونوں بڑے سیاسی اتحاد مطلوبہ اکثریت سے پیچھے رہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
28 اکتوبر کو سامنے آنے والی جزوی گنتی کے مطابق، تقریباً 55 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک نیتن یاہو کے حامی اتحاد کو 56، اپوزیشن کو 49 اور عرب جماعتوں کو 15 نشستیں ملتی دکھائی دیں۔ ووٹوں کی گنتی جاری ہونے کے باعث ان اعداد میں تبدیلی ممکن ہے، اس لیے حتمی صورتِ حال سرکاری نتائج مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔

نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ انفرادی جماعتوں میں سب سے آگے دکھائی دی، لیکن سب سے بڑی جماعت ہونا پارلیمانی اکثریت کی ضمانت نہیں۔ انہیں حکومت برقرار رکھنے کے لیے دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔ دوسری جانب اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ نے انتخابی نتائج کو تبدیلی کے حق میں عوامی پیغام قرار دیا، تاہم اپوزیشن کو بھی حکومت بنانے کے لیے اتحادی جماعتوں کی حمایت درکار ہے۔
عرب جماعتوں کی ممکنہ نشستیں حکومت سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ابتدائی انتخابی جائزوں میں ان جماعتوں کو مجموعی طور پر 17 سے 19 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ اگر کوئی بھی بڑا اتحاد 61 نشستوں تک نہ پہنچ سکا تو عرب جماعتوں کی حمایت یا پارلیمانی تعاون فیصلہ کن اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔ تاہم، ان جماعتوں کے ساتھ حکومتی اتحاد کے معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں کے تحفظات مذاکرات کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح تقریباً 77.7 فیصد رہی، جو دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں بلند ترین شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران غزہ کی جنگ، ایران اور لبنان سے متعلق علاقائی کشیدگی اور اسرائیل کی سلامتی جیسے معاملات بھی اہم موضوعات رہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
اب صدر اسحاق ہرزوگ سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کسی امیدوار کو حکومت بنانے کی دعوت دے سکتے ہیں۔ نامزد امیدوار کو پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے مختلف جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی۔ حکومت سازی کے لیے 28 دن کی مدت دی جا سکتی ہے، جس میں ضرورت کے مطابق مزید 14 دن کی توسیع ممکن ہے۔ اگر کوئی امیدوار مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر سکا تو سیاسی تعطل برقرار رہ سکتا ہے اور نئے انتخابات کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
حتمی نتائج اور اتحادی مذاکرات طے کریں گے کہ نیتن یاہو اقتدار برقرار رکھنے کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل کر پاتے ہیں یا اپوزیشن نئی حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہوتی ہے۔
