انقرہ میں پاکستانی سفارت خانے کے زیرِ اہتمام یومِ سیاہ کشمیر کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ترک سیاسی رہنماؤں نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل پر زور دیا۔ مقررین نے ترکیہ کی جانب سے کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
تقریب میں جیوپولیٹیکل فورسائٹ انسٹی ٹیوٹ کے صدر گورائے الپار، سعادت پارٹی کے نائب چیئرمین مصطفیٰ کایا، ترکیہ کے سابق نائب وزیراعظم اور وزیرِ صحت پروفیسر ڈاکٹر رجب آقداغ اور انقرہ میں پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور شائق احمد بھٹو سمیت سفارتی برادری، ترک سیاسی و سماجی شخصیات، دانشوروں، پاکستانی کمیونٹی اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
گورائے الپار نے کشمیری عوام کی جدوجہد کو انسانی وقار اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق سے جوڑتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی آواز کو عالمی سطح پر وہ توجہ نہیں ملی جس کی وہ مستحق ہے۔ انہوں نے کشمیری عوام کی جائز امنگوں کی حمایت اور ان سے یکجہتی کی اہمیت پر زور دیا۔

سعادت پارٹی کے نائب چیئرمین مصطفیٰ کایا نے مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے درمیان مماثلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں تنازعات کا حل پائیدار امن کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کشمیر میں بھارت اور فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی پالیسیوں میں مماثلت کی نشاندہی کی اور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر کشمیری عوام کی جائز جدوجہد کے لیے ترکیہ کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ترکیہ کے سابق نائب وزیراعظم اور وزیرِ صحت پروفیسر ڈاکٹر رجب آقداغ نے دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے انصاف، مکالمے اور عالمی یکجہتی کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔

پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور شائق احمد بھٹو نے 27 اکتوبر 1947 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی تنازعے کو محض نسل در نسل برقرار رہنے کی وجہ سے حل شدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ اس کا حل بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر ترکیہ کی مسلسل حمایت کو سراہا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
شائق احمد بھٹو نے بھارت کی جانب سے اپریل 2025 میں سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل رکھنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں آبی تحفظ اور استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور بین الاقوامی قانون سمیت موجودہ معاہدوں کی پابندی ضروری ہے۔

تقریب میں پاکستان اور ترکیہ کے قومی ترانے پیش کیے گئے، جبکہ مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر اور کشمیری عوام کی طویل جدوجہد پر مبنی دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔
