چین کے سرکاری دورے پر موجود وزیرِ اعظم شہباز شریف نے چینی صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقات کی، جس میں پاک چین تعلقات، اقتصادی تعاون، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور بالخصوص مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس سے قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف کی چینی وزیرِ اعظم سے بھی اہم ملاقات ہوئی تھی۔
بیجنگ میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران پاکستان اور چین نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں پر بھی اتفاق کیا گیا۔
چینی صدر شی جن پنگ نے موجودہ خلیجی بحران کے دوران پاکستان کے متوازن اور ذمہ دارانہ سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا اعتراف کیا۔ چینی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات، سفارتکاری اور سیاسی حل ہی خطے کو بڑے تصادم سے بچا سکتے ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملاقات کے دوران کہا کہ دنیا اس وقت خلیجی بحران کے باعث ایک انتہائی نازک مرحلے سے گزر رہی ہے، جبکہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن کے فروغ کے لیے خلوص نیت سے سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔
انہوں نے بتایا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کے ہمراہ ایرانی، امریکی اور خلیجی قیادت سے مسلسل رابطے رکھے، جن کے ذریعے جنگ بندی، مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کو آگے بڑھایا گیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں کسی بھی بڑے تصادم سے بچنے اور امن کے قیام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے اس موقع پر چینی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چین نے نہ صرف پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کی بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔
ملاقاتوں کے دوران پاک چین اقتصادی تعاون، سی پیک منصوبوں کی رفتار، سرمایہ کاری اور دوطرفہ تجارتی تعلقات پر بھی گفتگو کی گئی۔ دونوں ممالک کی قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور چین ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
سیاسی و سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہیں جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال عالمی سیاست اور معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہے، جبکہ پاکستان خود کو خطے میں ایک متحرک سفارتی کردار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
