اسلام آباد میں پاکستان یتیم نگہداشت منصوبے کے تحت 25 یتیم اور مستحق بچوں کو اپریل تا مئی 2026 کے تعلیمی وظائف فراہم کر دیے گئے۔ یہ فلاحی اقدام ترکیہ دیانت فاؤنڈیشن، ترکیہ ادارۂ امورِ مذہبیہ اور اسلام آباد دینی خدمات مشاورت کے باہمی تعاون سے مکمل کیا گیا، جبکہ تقریب کی نگرانی ڈاکٹر ٹی اے جی، مشیرِ دینی خدمات، نے کی۔
اس پروگرام کا مقصد ایسے یتیم بچوں کی مالی اور تعلیمی معاونت کرنا ہے جو مشکلات کے باوجود اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وظائف کی تقسیم کے دوران بچوں اور ان کے اہلِ خانہ کے چہروں پر خوشی، اعتماد اور امید واضح طور پر محسوس کی گئی۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ تعلیم ہی وہ طاقت ہے جو محروم بچوں کو بہتر مستقبل، خوداعتمادی اور معاشرتی ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
ترکیہ دیانت فاؤنڈیشن دنیا بھر میں انسانیت کی خدمت، یتیم بچوں کی کفالت، تعلیم اور سماجی بہبود کے منصوبوں کے حوالے سے ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ پاکستان میں بھی یہ ادارہ مسلسل فلاحی سرگرمیوں میں مصروفِ عمل ہے اور مختلف شہروں میں مستحق خاندانوں، طلبہ اور یتیم بچوں کی مدد کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ اسلام آباد میں 25 بچوں کو وظائف کی فراہمی بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دی جا رہی ہے۔

تقریب کے دوران منتظمین نے کہا کہ یتیم بچوں کی سرپرستی اور تعلیم پر سرمایہ کاری دراصل معاشرے کے مستقبل کو مضبوط بنانے کے مترادف ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف بچوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لاتے ہیں بلکہ معاشرے میں ہمدردی، بھائی چارے اور احساسِ ذمہ داری کے جذبے کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات ہمیشہ سے مثالی رہے ہیں، اور ترکیہ کی جانب سے پاکستان میں جاری فلاحی منصوبے دونوں ممالک کے درمیان محبت، اعتماد اور اسلامی اخوت کی مضبوط علامت سمجھے جاتے ہیں۔ عوامی و سماجی حلقوں نے بھی اس اقدام کو بے حد سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں ایسے منصوبوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ یتیم اور مستحق بچے اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

“پاکستان یتیم نگہداشت منصوبہ” کے تحت یتیم بچوں کو وظائف کی فراہمی بلاشبہ ایک ایسا روشن قدم ہے جس نے نہ صرف بچوں کے تعلیمی خوابوں کو نئی امید دی بلکہ انسانیت اور خدمتِ خلق کے جذبے کو بھی مزید مضبوط کیا ہے۔
