وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف چار روزہ سرکاری دورے پر چین روانہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ چینی قیادت، سرمایہ کاروں اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی معروف کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقاتیں کریں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس دورے کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی، تجارتی، زرعی، ٹیکنالوجی اور صنعتی تعاون کو مزید فروغ دینا ہے، جبکہ سی پیک فیز ٹو کے مختلف منصوبوں پر بھی پیش رفت متوقع ہے۔
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیرِ آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی بھی ان کے ہمراہ چین روانہ ہوئے ہیں۔
وزیرِ اعظم اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں ہانگژو پہنچیں گے، جہاں وہ ژجیانگ صوبے کی قیادت سے ملاقات کریں گے۔ اس دوران وزیرِ اعظم سی پیک فیز ٹو کے تحت پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے مابین تعاون کے فروغ کے لیے منعقدہ بزنس فورم میں شرکت کریں گے۔ فورم میں توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، زراعت اور صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری اور اشتراک کے متعدد منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
دورے کے دوران مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی متوقع ہیں، جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید مستحکم بنانا ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف چین کی معروف ای کامرس اور ٹیکنالوجی کمپنی ’’علی بابا‘‘ کے ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی کریں گے، جہاں ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس، مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو کی جائے گی۔
بعد ازاں وزیرِ اعظم بیجنگ روانہ ہوں گے، جہاں ان کی چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیرِ اعظم لی چیانگ سے اہم ملاقاتیں ہوں گی۔ ان ملاقاتوں میں پاک چین دوطرفہ تعلقات، علاقائی و عالمی صورتحال، تجارتی شراکت داری، سرمایہ کاری اور سی پیک کے دوسرے مرحلے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
وزیرِ اعظم پاک چین سفارتی تعلقات کے پچہترویں سال کی تقریبات میں بھی شرکت کریں گے۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دوستی، تزویراتی شراکت داری اور اقتصادی تعاون کے نئے امکانات پر روشنی ڈالی جائے گی۔
دورۂ چین کے دوران وزیرِ اعظم معروف چینی کمپنیوں کے سربراہان اور سرمایہ کاروں سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جبکہ ’’چائنا اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز‘‘ کے دورے کے دوران زرعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، فوڈ سیکیورٹی اور زرعی ترقی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔
دفتر خارجہ کے مطابق وزیرِ اعظم کا یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، سرمایہ کاری میں اضافے اور سی پیک فیز ٹو کے تحت صنعتی، زرعی اور ٹیکنالوجی شعبوں میں نئی راہیں کھولنے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
