پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتے سفارتی و اقتصادی تعاون کے تناظر میں اعلیٰ سطحی رابطوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا رواں سال روس کا دورہ متوقع ہے، جبکہ 2027 میں پاکستان میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر روسی صدر ولادیمیر پوتن کی پاکستان آمد کا بھی امکان ہے۔
روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف رواں سال کی آخری سہ ماہی، یعنی اکتوبر یا نومبر 2026 میں روس کا دورہ کریں گے۔ یہ دورہ پہلے مارچ میں ہونا طے پایا تھا، تاہم مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔ سفیر فیصل نیاز ترمذی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف روس کی تاریخ اور ثقافت سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں اور سوویت یونین کے دور سے روس کا دورہ کرتے رہے ہیں۔
متوقع دورے میں وزیراعظم ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ جائیں گے، جہاں صنعتی ترقی، توانائی، تجارت اور سکیورٹی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں متعدد اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔
اس اہم دورے اور دونوں ممالک کے بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل منظرنامے پر بات کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوتن نے حال ہی میں ایک بین الاقوامی فورم پر پاکستان کی خودمختاری کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ "پاکستان ایک بڑا، آزاد اور خود مختار ملک ہے جس کے دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ کثیر الجہتی تعلقات ہیں، اور روس اسلام آباد کے ساتھ حقیقی معنوں میں باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی و تکنیکی روابط کو مزید گہرا کرنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہے۔”
جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی صدر پوتن کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقاتوں میں روس کے ساتھ تعلقات کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے واضح کر چکے ہیں کہ "ہم روس کے ساتھ بہت مضبوط تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ تعلقات خطے کی ترقی، خوشحالی اور بہتری کے لیے معاون ثابت ہوں گے، پاکستان روس کے ساتھ اپنے آزاد اور مضبوط دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔”
پاکستان ستمبر 2026 میں کرغزستان سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کی کونسل کی صدارت باضابطہ طور پر سنبھالے گا۔ پاکستان 2027 میں SCO کے سربراہی اجلاس کی میزبانی اسلام آباد میں کرے گا، جہاں رکن ممالک کے سربراہان کی شرکت متوقع ہے۔
اسی اجلاس کے موقع پر روسی صدر ولادیمیر پوتن کی پاکستان آمد کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پوتن کی ممکنہ آمد دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے سیاسی، معاشی اور سفارتی روابط کے تناظر میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
حکومتِ پاکستان نے 2027 کے SCO سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے، جن میں سکیورٹی، ٹرانسپورٹ، رہائش اور دیگر انتظامی امور شامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کا متوقع دورۂ روس اور بعد ازاں صدر پوتن کی ممکنہ پاکستان آمد، پاک روس تعلقات کو مزید وسعت دینے اور دوطرفہ تعاون کو عملی شکل دینے کے اہم مواقع بن سکتے ہیں۔
