fbpx
ozIstanbul

28 ستمبر: قابض اسرائیلی فوج کے خلاف فلسطینیوں کی دوسری مزاحمتی تحریک (انتفادہ) کا آغاز

آج سے ٹھیک 20 سال پہلے قابض اسرائیلی فوج کے خلاف فلسطینیوں نے دوسری مزاحمتی تحریک (انتفادہ) شروع کی تھی۔

28 ستمبر 2000 میں اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون کے حکم پر اسرائیلی فوج اور سیکیورٹی فورسز نے الاقصیٰ مسجد پر حملہ کیا اور اس کو نقصان پہنچایا۔ اسرائیلی فوج کے مسجد اقصیٰ پر حملے کے خلاف فلسطینیوں نے دوسری مزاحتمی تحریک (انتفادہ) شروع کی جو پانچ سال جاری رہی۔

ان پانچ برسوں میں 3000 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ اسرائیل کے 1000 فوجی مارے گئے۔

20 سال بعد میں اسرائیل کا مشرقی یروشلم پر قبضہ جاری ہے اور فلطسینیوں کی زندگی پہلے سے زیادہ مشکل اور سنگین ہو گئی ہے۔

اسرائیلی فوج نے کیمپ ڈیوڈ کے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد مسجد اقصیٰ پر حملے شروع کئے جس سے دونوں جانب سے مسلح تصادم شروع ہو گیا۔

ستمبر میں اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون نے مسجد اقصیٰ کا دورہ کیا اور ان کے ساتھ بڑی تعداد میں اسرائیلی فوجی اور شہری موجود تھے۔ اس وقت اسرائیل کی برسر اقتدار سیاسی جماعت لیکود کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کا دورہ مسجد اقصیٰ اس لئے ہے کہ اب آئندہ سے یہودی اس مسجد میں داخل ہو سکتے ہیں اور مسجد اب اسرائیل کے قبضے میں رہے گی۔

ابھی فلسطینی صابرہ اور شتیلا کے مہاجر کیمپوں میں ہونے والے قتل عام کا سوگ منا رہے تھے کہ اسرائیلی فوج نے ایک نیا محاذ کھول دیا جس کے بعد فلسطین میں آگ اور خون کا ایک نیا کھیل شروع ہو گیا۔

پچھلا پڑھیں

ترکی کا سب سے بڑا ٹیکنالوجی اور ایرو اسپیس ایونٹ اپنے اختتام کو پہنچ گیا

اگلا پڑھیں

یہ تتلیاں نہیں مے فلائے ہیں

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے