Turkiya-Logo-top

ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کا امکان، جدہ میں اہم بیٹھک

ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور تزویراتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے آج سعودی عرب کے شہر جدہ میں ایک اہم سہ فریقی اجلاس ہو رہا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران تینوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط ہونے کا امکان موجود ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال کسی بھی ملک کی جانب سے باضابطہ اعلان یا حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

اجلاس میں سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت کریں گے ذرائع کے مطابق پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی اجلاس میں شریک ہوں گے

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

تینوں ممالک کے درمیان مجوزہ دفاعی تعاون کے حوالے سے گزشتہ تقریباً ایک سال سے مختلف سطحوں پر مشاورت جاری تھی۔ ان مذاکرات کا مقصد بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی سکیورٹی ماحول کے تناظر میں دفاعی تعاون، بحری سلامتی، انٹیلی جنس روابط اور مشترکہ حکمت عملی کو مزید مضبوط بنانا بتایا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر معاہدہ طے پاتا ہے تو یہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو ایک منظم اور ادارہ جاتی شکل دینے کی جانب اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔ تاہم معاہدے کی نوعیت، شرائط، دفاعی ذمہ داریوں اور مشترکہ لائحۂ عمل سے متعلق سرکاری سطح پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

مجوزہ معاہدہ صرف سیاسی تعاون تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس کے ذریعے دفاعی اور عسکری شعبوں میں عملی تعاون کو بھی وسعت دی جا سکتی ہے ممکنہ تعاون میں مشترکہ فوجی مشقیں، دفاعی تربیت، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، دفاعی صنعت میں اشتراک، جدید عسکری ٹیکنالوجی کی منتقلی، دفاعی پیداوار، انسداد دہشت گردی اور بحری سلامتی جیسے اہم شعبے شامل ہو سکتے ہیں۔

پاکستان واحد ایٹمی مسلم ملک ہونے کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ عسکری صلاحیت، انسداد دہشت گردی کے وسیع تجربے اور جدید دفاعی استعداد کے باعث عالمی سطح پر اہم دفاعی شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کئی دہائیوں سے دفاعی تعاون، فوجی تربیت، مشترکہ مشقوں اور انٹیلی جنس روابط کا مضبوط نظام موجود ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بھی دفاعی پیداوار، بحری منصوبوں اور عسکری ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

ترکیہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اپنی دفاعی صنعت میں غیر معمولی ترقی کر چکا ہے۔ ترک ساختہ ڈرونز، میزائل سسٹمز، بکتر بند گاڑیاں اور جنگی بحری جہاز عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں، جبکہ ترکیہ نیٹو کی دوسری بڑی فوج بھی رکھتا ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب دنیا کے سب سے زیادہ دفاعی اخراجات کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور ویژن 2030 کے تحت مقامی دفاعی صنعت کو فروغ دے کر عسکری خود انحصاری کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔

دفاعی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جا رہا ہے کہ اگر نیا سہ فریقی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسے ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے اسٹریٹجک دفاعی تعاون کے معاہدے کی توسیع قرار دیا جا سکتا ہے

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

ذرائع کے مطابق جدہ اجلاس میں بحیرۂ احمر، خلیجِ عدن، باب المندب اور آبنائے ہرمز کی بحری سلامتی بھی اہم ایجنڈے میں شامل رہنے کا امکان ہے۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران ان اہم بحری راستوں پر کشیدگی، تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات اور عالمی تجارت پر پڑنے والے اثرات نے خطے کے ممالک کو نئے سکیورٹی انتظامات پر غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ اجلاس میں مشترکہ بحری گشت، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، سمندری نگرانی، دفاعی ہم آہنگی اور اہم تجارتی بحری راستوں کے تحفظ کے لیے ممکنہ حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

جدہ میں ہونے والا یہ سہ فریقی اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ خطے کی جغرافیائی سیاست، دفاعی تعاون اور مستقبل کی سکیورٹی حکمتِ عملی میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے، جس پر عالمی سفارتی اور دفاعی حلقوں کی گہری نظر ہے۔

Read Previous

جنوبی وزیرستان اور دیر میں سیکیورٹی فورسز کے بڑے آپریشنز، 10 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ و گولہ بارود برآمد: آئی ایس پی آر

Read Next

صدر رجب طیب ایردوان جدہ پہنچ گئے، پاکستان اور سعودی قیادت سے ملاقات کے بعد دفاعی معاہدے کا امکان

Leave a Reply