پاکستان میں 8 اکتوبر کے زلزلے کو 15 سال گزر گئے، بچھڑنے والوں کا غم آج بھی تازہ ہے

پاکستان کے شمال مشرق میں آزاد جموں کشمیر میں 15 سال پہلے آنے والے شدید زلزلے کی تقریبات دکھ، افسوس اور غم کے ساتھ منائی جا رہی ہیں۔

آج سے ٹھیک 15 سال پہلے 8 اکتوبر 2005 میں آزاد کشمیر میں 7.6 شدت کا شدید زلزلہ آیا جس میں 87 ہزار افراد جاں بحق اور سینکڑوں افراد زخمی ہو گئے۔

زلزلے کی خصوصی تقریب آزاد جموں کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں منعقد کی گئی جس سے وزیر اعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر نے خصوصی خطاب کیا۔

8 اکتوبر کی صبح 8 بج کر 39 منٹ 50 سیکنڈ پر آزاد کشمیر اور خیبر پختون خوا کے کئی شہروں میں ایک ایسا زلزلہ آیا جس نے 87 افراد افراد کی جان لے لی۔

صرف آزاد کشمیر میں 46 ہزار سے زائد افراد اپنی ہی بنائی ہوئی عمارتوں کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گئے۔ اس سے کہیں زیادہ تعداد زخمیوں کی تھی جن آہ و بقا آج بھی کچھ لوگوں کو بے چین کئے رکھتی ہے۔

مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کے دوست ممالک سمیت عالمی برادری نے کھل کر مدد کی اور ہر طرح کی تکنیکی اور فنی مدد کے ساتھ مالی تعاون بھی کیا۔

زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.6 تھی اور زمین میں گہرائی محض 15 کلو میٹر تھی۔ زلزلے کے بعد 978 آفٹر شاکس نے آزاد کشمیر اور خیبر پختون خوا کے کئی علاقوں کو تباہ کر کے رکھ دیا۔

زلزلے کا دورانیہ محض 45 سیکنڈ رہا لیکن ان 45 سیکنڈوں میں بستیوں کی بستیاں الٹ گئیں۔ آزاد کشمیر میں 3 لاکھ 14 ہزار گھر اور عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔

صرف آزاد کشمیر کی تعمیر نو پر 125 ارب روپے خرچ ہوئے۔ پوری دنیا سے آنے والی امداد سے 50 ہیلی کاپٹرز کی 19 ہزار سے زائد پروازوں کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا ریسکیو اور ریلیف آپریشن کیا گیا اوربچ جانے والے متاثرین کو خوراک، ادویات، عارضی پناہ گاہیں فراہم کرکے آفت کے بعد بڑی آفت سے بچا کر بڑے انسانی المیہ سے بچا لیا گیا۔

شہدائے زلزلہ میں 18 ہزار تو صرف وہ طلبا تھے جو اسکولوں کے عمارتوں کے گرنے کی وجہ سے مارے گئے، ایک پوری نسل کو کھو کر آج زلزلہ متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو نے منظر ہی بدل دیے ہیں۔

Read Previous

ترکی میں ایئر انڈسٹری بتدریج معمول پر آ رہی ہے

Read Next

قطر نے بھی جدید امریکی جنگی طیارے ایف 35 خریدنے کی درخواست دے دی

Leave a Reply