حکومتِ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ (EP Wing) نے فارن میڈیا فیسلیٹیشن گائیڈ لائنز 2026 جاری کر دی ہیں، جن کا مقصد پاکستان میں کام کرنے والے غیر ملکی میڈیا اداروں اور ان سے وابستہ صحافیوں، فری لانسرز، اسٹرنگرز، فکسرز اور دیگر میڈیا پروفیشنلز کے لیے رجسٹریشن، ایکریڈیشن اور پیشہ ورانہ امور سے متعلق ایک واضح اور منظم طریقۂ کار فراہم کرنا ہے۔
نئی گائیڈ لائنز کے مطابق پاکستان میں کسی بھی غیر ملکی ٹی وی چینل، اخبار، نیوز ویب سائٹ، ڈیجیٹل پلیٹ فارم یا سوشل میڈیا آؤٹ لیٹ کے لیے کام کرنے والے پاکستانی یا غیر ملکی میڈیا کارکنوں کو ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ میں رجسٹریشن کرانا ہوگی، جبکہ سرکاری تقریبات، پریس کانفرنسوں اور دیگر سرکاری سرگرمیوں کی کوریج کے لیے باقاعدہ میڈیا ایکریڈیشن بھی درکار ہوگی۔
دستاویز کے مطابق اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں میں غیر ملکی میڈیا کے لیے رپورٹنگ، ویڈیو، دستاویزی فلم یا دیگر صحافتی مواد تیار کرنے سے قبل ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ سے پیشگی این او سی حاصل کرنا ہوگا۔ گائیڈ لائنز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی صحافی یا میڈیا پروفیشنل اپنے غیر ملکی ادارے سے وابستگی تبدیل کرتا ہے یا اس سے علیحدہ ہوتا ہے تو اسے سات ورکنگ ڈیز کے اندر متعلقہ حکام کو آگاہ کرنا ہوگا۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ رہنما اصولوں میں رجسٹریشن اور ایکریڈیشن کے عمل، درخواستوں، ذمہ داریوں اور قواعد کی خلاف ورزی سے متعلق طریقۂ کار بھی درج کیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق جعلی دستاویزات کے استعمال، صحافتی ویزے کے غلط استعمال یا دیگر مقررہ ضوابط کی خلاف ورزی کی صورت میں رجسٹریشن یا ایکریڈیشن معطل یا منسوخ کی جا سکتی ہے۔
حکام کے مطابق نئی گائیڈ لائنز کا اطلاق پاکستان میں کام کرنے والے تمام غیر ملکی یا بین الاقوامی پرنٹ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل اور ویب بیسڈ میڈیا پلیٹ فارمز پر ہوگا۔ ان رہنما اصولوں میں میڈیا نمائندوں کی رجسٹریشن، سرکاری اداروں سے رابطہ کاری اور مختلف علاقوں میں پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے لیے ایک مربوط انتظامی نظام وضع کیا گیا ہے تاکہ متعلقہ امور کو ایک باقاعدہ فریم ورک کے تحت انجام دیا جا سکے۔
یہ گائیڈ لائنز وزارتِ اطلاعات و نشریات کے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کی جانب سے جاری کی گئی ہیں اور ان کا مقصد پاکستان میں غیر ملکی میڈیا سے وابستہ افراد کے لیے رجسٹریشن، ایکریڈیشن اور سرکاری رابطہ کاری کے طریقۂ کار کو باضابطہ اور یکساں بنانا ہے۔
