Turkiya-Logo-top

پاکستانی سفارت خانے کی انقرہ میں یومِ استحصالِ کشمیر تقریب، ترکیہ نے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت دہرادی

انقرہ: ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں پاکستانی سفارت خانے کے زیرِ اہتمام یومِ استحصالِ کشمیر کی تقریب منعقد ہوئی جس میں ترک حکام، اراکینِ پارلیمنٹ، سفارتی برادری، ماہرینِ تعلیم، تھنک ٹینکس، میڈیا نمائندوں اور پاکستانی و ترک کمیونٹی نے شرکت کی۔ تقریب میں 5 اگست 2019 کو بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا جس کے بعد صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے خصوصی پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جیو پولیٹیکل فارسائٹ انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین میجر جنرل (ر) گورائے آلپار نے کہا کہ جموں و کشمیر خطے کی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت کا حامل ہے جبکہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی ہتھیار بنانے کی کوششیں جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

سیسرک کی ڈائریکٹر جنرل اور ترکیہ کی سابق وزیر زہرا زمرد سلجوق نے اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کشمیر اور فلسطین کی صورتحال میں مماثلت کا بھی ذکر کیا۔

ترک پارلیمنٹ کے رکن اور سعادت پارٹی کے نائب چیئرمین مصطفیٰ کایا نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی پالیسیوں کو "آبادیاتی دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبادی کا تناسب تبدیل کرنے، کشمیریوں کو زمین کے حقوق سے محروم کرنے اور مقبوضہ علاقوں میں نئی آبادکاری کی کوششیں کشمیری عوام کی جدوجہد کو نہیں روک سکتیں۔

تقریب کے اختتام پر ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نے حکومت اور عوامِ ترکیہ کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلی، لاکھوں غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کا اجرا، میڈیا پر پابندیاں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ قانونی اقدامات جموں و کشمیر کی متنازع بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے جبکہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے حقِ خودارادیت دیا جائے۔

Read Previous

5 اگست 2019: یومِ استحصال – وہ یکطرفہ اقدام جس نے کشمیر کے تنازعے کو نئی جہت دی

Leave a Reply