تحریر : محمد اسلم جگر بھٹی
تاریخ کے اوراق میں بعض تاریخیں محض واقعات کی نشان دہی نہیں کرتیں، بلکہ تہذیبوں کے زوال و عروج اور اقوام کے مقدر کا تعین کرتی ہیں۔ 5 اگست 2019ء بھی ایسی ہی ایک تاریخ ہے۔ اس روز بھارت نے اپنے آئین کی شق 370 کو یکطرفہ طور پر منسوخ کر کے ریاست جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی صریح پامالی تھا بلکہ اس نے اس بنیادی حقیقت کو بھی مجروح کیا کہ جموں و کشمیر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ایک حل طلب بین الاقوامی تنازعہ ہے۔
یہ کوئی داخلی آئینی ترمیم نہ تھی بلکہ یہ طاقت کے بل پر ایک متنازعہ خطے کی حیثیت بدلنے کی مذموم کوشش تھی۔ اس دن بھارت نے ثابت کیا کہ وہ سفارت کاری، مذاکرات اور عوامی امنگوں کے بجائے جبر اور قانون سازی کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا "حل” چاہتا ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جبر سے قوموں کی قسمت دبائی تو جا سکتی ہے، مٹائی نہیں جا سکتی۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
سات دہائیوں تک شق 370 اس حقیقت کی آئینی علامت رہی کہ ریاست جموں و کشمیر کا بھارت سے الحاق مشروط، عارضی اور ایک خاص تاریخی سیاق وسباق میں ہوا تھا۔ یہ شق کشمیری عوام کی منفرد شناخت، ان کے رسم و رواج اور ان کے سیاسی حقوق کی ضامن تھی۔ اس کے ساتھ منسلک شق 35A نے کشمیریوں کو ان کی زمینوں اور روزگار پر حقِ ملکیت عطا کیا تھا۔ ان دونوں شقوں کی منسوخی کا مطلب یہ تھا کہ بھارت کشمیر کو صرف ایک خطہ نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست سمجھتا ہے جس کی تاریخ، ثقافت اور سیاسی حیثیت کو یکسر مٹایا جا سکتا ہے۔ ریاست کو توڑ کر دو مرکزی زیرِ انتظام اکائیاں بنانا اسی نوآبادیاتی سوچ کا تسلسل تھا۔
اس اقدام کو نافذ کرنے کا طریقہ کار بھی اس کی نیت کو بے نقاب کرتا ہے۔ فیصلے سے قبل وادی کو دنیا سے کاٹ دیا گیا۔ انٹرنیٹ بند، ٹیلی فون بند، اخبارات بند۔ سیاسی قیادت کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ لاکھوں فوجی وادی میں اتار دیے گئے۔ کیا جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ کسی قوم سے اس کے مستقبل کا فیصلہ کرتے وقت اس کی رائے ہی نہ لی جائے؟ یہ عمل دراصل ایک مہذب دنیا کے سامنے جمہوریت کے نام پر استبداد کی بدترین مثال تھا۔ اس دوران انسانی حقوق کی جو پامالیاں ہوئیں، ان کی گواہی اقوامِ متحدہ کی رپورٹوں اور بین الاقوامی میڈیا میں موجود ہے۔
پاکستان کا مؤقف اس حوالے سے نہایت واضح اور اصولی ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ 5 اگست 2019ء کا اقدام اقوامِ متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں اور 1972ء کے شملہ معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ کہنا رہا ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اس کا حتمی فیصلہ کشمیری عوام کی آزادانہ رائے سے ہوگا۔ کوئی ایک فریق یکطرفہ طور پر اس کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔ آبادیاتی تبدیلیاں لانا، ڈومیسائل قوانین کے ذریعے غیر کشمیریوں کو وہاں بسانا، یہ سب جنیوا کنونشن کی بھی خلاف ورزی ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
اسی لیے پاکستان نے نہ صرف بھارت سے سفارتی تعلقات کو محدود کیا بلکہ ہر سال 5 اگست کو یومِ استحصال کے طور پر منا کر دنیا کو یاد دلایا کہ کشمیر کا زخم آج بھی تازہ ہے۔ پاکستان کا یہ موقف عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے ہے کہ طاقت سے حق کو غلط ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
عالمی سطح پر بھی اس اقدام کو وہ پذیرائی نہ مل سکی جس کی بھارت کو توقع تھی۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے تحمل اور انسانی حقوق کے احترام کی بات کی۔ چین نے لداخ کی نئی حیثیت پر اعتراض کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے وادی میں جاری کریک ڈاؤن کو رپورٹ کیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ مسئلہ کشمیر اب محض دو ملکوں کا دوطرفہ مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی امن و سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے۔
چھ سال گزر جانے کے بعد بھی وادی میں معمول کی زندگی بحال نہیں ہو سکی۔ سیاسی قیادت یا تو جیل میں ہے یا بے اختیار ہے۔ نوجوانوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ بھارت کا یہ بیانیہ کہ شق 370 کی منسوخی سے ترقی آئے گی، زمینی حقائق کے برعکس ہے۔
پاکستان نے ہر فورم پر کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
5 اگست 2019ء نے مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کیا، بلکہ اس کے دائرے کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ اس نے بحث کو "خودمختاری” سے ہٹا کر ” لا قانونیت اور نا انصافی” کے سوال پر لا کھڑا کیا ہے۔
آج دنیا کے سامنے سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ملک طاقت کے زور پر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو کالعدم قرار دے سکتا ہے؟ کیا کسی قوم کے حقِ خودارادیت کو لامحدود مدت تک معطل رکھا جا سکتا ہے؟
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
پاکستان کا مؤقف آج بھی وہی ہے جو 1947ء سے ہے۔ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے اور اس کا حل صرف اور صرف کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے میں ہے۔ جب تک اقوامِ متحدہ کی زیرِ نگرانی آزادانہ رائے شماری نہیں ہوتی، 5 اگست کا دن تاریخ میں "یومِ استحصال” کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ سیاہ دن تھا جب بھارت نے سمجھا کہ وہ بندوق اور قانون کے ذریعے تاریخ کا رخ موڑ دے گا، مگر وہ بھول گیا کہ تاریخ ہمیشہ مظلوموں کے صبر اور استقامت سے لکھی جاتی ہے۔
مصنف ایک معروف لکھاری اور محقق ہیں جنہوں نے تاریخ اور سماجیات کے موضوعات پر درجنوں کتب تصنیف کیں ہیں۔
