Turkiya-Logo-top

اسحاق ڈار کا القدس اجلاس میں دوٹوک مؤقف، آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور

اردن کے دارالحکومت عمان میں القدس وزارتی اجلاس کے دوران نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بالخصوص مشرقی القدس اور مغربی کنارے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر پاکستان کی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا

اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری کشیدگی نہ صرف خطے کے امن بلکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے مسجد اقصیٰ میں مبینہ خلاف ورزیوں، اسرائیلی بستیوں کی توسیع، آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کی سخت مذمت کی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے اقدامات خطے میں امن کے امکانات کو مزید کمزور کرتے ہیں اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

وزیر خارجہ نے القدس میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پراردن کی ہاشمی سرپرستی کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مقبوضہ مشرقی القدس پر اسرائیل کی کسی بھی قسم کی خودمختاری کو تسلیم نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ہر کوشش ناقابل قبول ہے اور عالمی برادری کو اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔

اسحاق ڈار نے غزہ کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے مستقل جنگ بندی برقرار رکھنے، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور شہری آبادی کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کو بنیادی انسانی سہولیات اور امداد کی فراہمی یقینی بنانا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے عرب اور اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ فلسطینی عوام کی حمایت اور سفارتی کوششوں کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ خطے میں امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے

وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے مسئلے کا پائیدار حل صرف عالمی قوانین کے احترام اور انصاف پر مبنی اقدامات سے ہی ممکن ہے۔

اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کا واحد راستہ ایک آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ ریاست جون 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ہو اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو کیونکہ یہی حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی اتفاق رائے کے مطابق ہے

پاکستان طویل عرصے سے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا آیا ہے اور اسحاق ڈار کے حالیہ خطاب نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل، القدس الشریف کی حیثیت اور بین الاقوامی قوانین پر مبنی منصفانہ امن کے مؤقف پر قائم ہے

Read Previous

پاکستان نے غیر ملکی میڈیا کے لیے نئی فیسلیٹیشن گائیڈ لائنز 2026 جاری کر دیں، رجسٹریشن اور سفری طریقۂ کار واضح

Read Next

انقرہ کے ضلع کیچی اورین بلدیہ میں یوم استحصالِ کشمیر کی یاد میں فوٹو نمائش کا انعقاد

Leave a Reply