رائٹرز کے مطابق پاکستان نے ایک باہمی دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں 8,000 فوجی، فائٹر جیٹس کا اسکواڈرن اور ایک فضائی دفاعی نظام تعینات کیا ہے، جس سے ریاض کے ساتھ فوجی تعاون میں اضافہ ہوا ہے
تین سیکیورٹی حکام اور دو حکومتی ذرائع نے رائٹرز کو تصدیق کی ہے یہ تعیناتی جس کا مکمل حجم پہلی مرتبہ رپورٹ کیا جا رہا ہے اسے ایک بڑی، جنگی صلاحیت رکھنے والی فورس قرار دیا گیا ہے جس کا مقصد سعودی عرب کی فوجی مدد کرنا ہے
رائٹرز کے مطابق پاکستان نے تقریباً 16 طیاروں پر مشتمل ایک مکمل اسکواڈرن تعینات کیا ہے، جن میں زیادہ تر JF-17 طیارے شامل ہیں جو چین کے ساتھ مشترکہ طور پر تیار کیے گئے ہیں، اور انہیں اپریل کے آغاز میں سعودی عرب بھیجا گیا تھا۔ دو سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ پاکستان نے دو ڈرون اسکواڈرن بھی بھیجے ہیں۔ تمام پانچ ذرائع کے مطابق اس تعیناتی میں تقریباً 8,000 فوجی شامل ہیں، اور ضرورت پڑنے پر مزید بھیجنے کا وعدہ کیا گیا ہے، ساتھ ہی ایک چینی HQ-9 فضائی دفاعی نظام بھی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ تمام سازوسامان پاکستانی اہلکار چلا رہے ہیں جبکہ اس کی مالی معاونت سعودی عرب کر رہا ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران تعینات ہونے والے فوجی اور فضائیہ کے اہلکار بنیادی طور پر مشاورتی اور تربیتی کردار ادا کر رہے ہیں، اور انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے تبادلوں اور فوجی اثاثوں کی تعیناتی کی دستاویزات دیکھی ہیں۔
یہ تعیناتی ان ہزاروں پاکستانی فوجیوں کے علاوہ ہے جو پہلے ہی مختلف معاہدوں کے تحت سعودی عرب میں جنگی کردار میں موجود تھے
ایک حکومتی ذرائع کے مطابق جس نے خفیہ دفاعی معاہدے کا متن دیکھا ہے، اس میں یہ امکان شامل ہے کہ ضرورت پڑنے پر 80,000 تک پاکستانی فوجی سعودی عرب میں تعینات کیے جا سکتے ہیں تاکہ سعودی افواج کے ساتھ مل کر مملکت کی سرحدوں کی حفاظت کی جا سکے۔
رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ دو سیکیورٹی حکام نے کہا کہ اس معاہدے میں پاکستانی جنگی بحری جہازوں کی تعیناتی بھی شامل ہے، تاہم رائٹرز یہ تصدیق نہیں کر سکا کہ آیا کوئی جہاز سعودی عرب پہنچا ہے یا نہیں۔
تاہم پاکستانی فوج، دفتر خارجہ اور سعودی حکومت کے میڈیا آفس نے اس تعیناتی پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے
پاکستان طویل عرصے سے سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کرتا آیا ہے، جس میں تربیتی اور مشاورتی تعیناتیاں شامل ہیں، جبکہ ریاض نے بھی کئی بار مالی مشکلات کے دوران پاکستان کی مدد کی ہے۔
