اسلام آباد / نئی دہلی: مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے پہلگام حملے کی پہلی برسی کے موقع پر بھارتی اور پاکستانی قیادت کی جانب سے بیانات کا تبادلہ ہوا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بیان کے جواب میں پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے واقعے کو ایک بار پھر ‘فالس فلیگ آپریشن’ قرار دیتے ہوئے بھارت سے ٹھوس ثبوتوں کا مطالبہ کر دیا ہے۔
نریندر مودی کا بیان: "دہشت گردی کے سامنے نہیں جھکیں گے”

پہلگام حملے کی پہلی برسی کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (X) پر ایک پیغام جاری کیا۔
- انہوں نے حملے میں جان گنوانے والے افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی قوم اس سانحے کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
- ان کا مزید کہنا تھا: "بطور قوم ہم غم اور عزم کے ساتھ متحد ہیں اور بھارت کبھی بھی دہشت گردی اور ان کے عزائم کے سامنے نہیں جھکے گا۔”
پاکستان کا جوابی وار: "ایک سال بعد بھی بھارت کے پاس کوئی ثبوت نہیں”
نریندر مودی کے اس بیان پر وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے بھارتی دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت ایک سال گزرنے کے باوجود اپنے الزامات کے حق میں دنیا کو کوئی ایک بھی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکا۔
عطاء اللہ تارڑ نے چند اہم نکات کی نشاندہی کی:
- فالس فلیگ آپریشن: پہلگام واقعہ مکمل طور پر ایک ‘فالس فلیگ آپریشن’ (False Flag Operation) تھا۔
- غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش: وزیراعظم شہباز شریف نے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی، لیکن بھارت نے اس کا کوئی مؤثر جواب دینے سے گریز کیا۔
- پہلے سے تیار شدہ منصوبہ: واقعے کے چند ہی منٹوں کے اندر ایف آئی آر (FIR) کا اندراج اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ یہ معاملہ پہلے سے تیار شدہ اور سوچی سمجھی سازش تھا۔
عالمی میڈیا اور سول سوسائٹی کے سوالات
وزیر اطلاعات کے مطابق، صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ عالمی میڈیا، خود بھارتی سول سوسائٹی اور مختلف بین الاقوامی تھنک ٹینکس نے بھی اس واقعے پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں اور اس کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
"بھارت اپنے داخلی اور اندرونی مسائل پر پردہ ڈالنے کے لیے انہیں بیرونی رنگ دے کر پیش کرتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی بھارت کا اپنا اندرونی مسئلہ ہے۔” ## اقلیتوں کے حقوق اور بیرونِ ملک بھارتی ریاستی دہشت گردی عطاء اللہ تارڑ نے بھارت کے اندرونی حالات اور بین الاقوامی سطح پر اس کی کارروائیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا:
- ہندوتوا نظریہ: بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے اور ہندوتوا نظریہ ان کے بنیادی حقوق کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔
- سکھ رہنماؤں کا قتل: بیرون ممالک میں سکھ رہنماؤں کے قتل میں بھارتی ریاست کے ملوث ہونے کے ناقابلِ تردید شواہد پوری دنیا کے سامنے آ چکے ہیں۔
- پاکستان میں مداخلت: پاکستان میں ہونے والے بعض دہشت گردی کے واقعات میں بھی بھارتی کردار کے شواہد موجود ہیں، جنہیں وقتاً فوقتاً عالمی برادری کے ساتھ شیئر کیا جاتا رہا ہے۔
