اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے ایک انتہائی اہم ملاقات کی ہے۔ اس اعلیٰ سطحی بیٹھک میں خطے کی موجودہ حساس صورتحال، تیزی سے بدلتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں اور امن کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
خطے میں امن کے لیے سفارتکاری ناگزیر
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مسلسل مکالمہ اور سفارتی روابط وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔ گفتگو کے دوران درج ذیل اہم امور پر غور کیا گیا:
- خطے میں جاری موجودہ کشیدگی میں کمی لانے کے عملی اقدامات۔
- تمام فریقین کے درمیان باہمی اعتماد سازی (Confidence Building) کا فروغ۔
- تنازعات کو کم کرنے کے لیے ممکنہ اور مؤثر سفارتی حل کی تلاش۔
پاکستان کا مؤقف: "مسائل کا حل صرف پرامن مذاکرات ہیں”
وزیراعظم شہباز شریف نے علاقائی امن کے حوالے سے پاکستان کے دو ٹوک مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا:
"پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، مذاکرات اور مسائل کے پرامن حل کی بھرپور حمایت کی ہے۔ ہم آئندہ بھی اپنا تعمیری، مصالحتی اور متوازن سفارتی کردار ادا کرتے رہیں گے۔”
انہوں نے مزید زور دیا کہ خطے کے تمام فریقین کو موجودہ حالات میں انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مکالمے کا راستہ اپنانا چاہیے، تاکہ تنازعات کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔
ایرانی سفیر کی جانب سے پاکستانی کردار کی تعریف
ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے علاقائی امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت اور فعال کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کشیدہ صورتحال میں رابطوں اور مشاورت کا تسلسل انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ایرانی سفیر نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ علاقائی سطح پر جاری یہ سفارتی کوششیں جلد مثبت اور ٹھوس نتائج کی طرف لے کر جائیں گی۔
مستقبل کا لائحہ عمل
اس ملاقات کو خطے میں جاری تیز ترین سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں ایک بڑی اور اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس نوعیت کی ملاقاتیں علاقائی اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ:
- مستقبل میں بھی قریبی اور اعلیٰ سطحی رابطے برقرار رکھے جائیں گے۔
- خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی چینلز کو مزید متحرک اور فعال بنایا جائے گا۔
