انقرہ: نیٹو (NATO) کے سیکرٹری جنرل مارک رُٹے نے ترکیہ کا ایک انتہائی اہم اور سٹریٹجک دورہ کیا ہے۔ اس دورے کے دوران انہوں نے ترکیہ کی دفاعی صلاحیتوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اسے نیٹو کا ایک مضبوط اور اہم دفاعی ستون قرار دیا ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے نازک وقت میں ہوا ہے جب دنیا بھر، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ اور یورپ میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔
اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور سفارتی مشاورت
اپنے دورے کے دوران مارک رُٹے نے ترکیہ کی اعلیٰ ترین قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں شامل ہیں:
- ترک صدر رجب طیب ایردوان
- وزیرِ دفاع یاشار گولر
- وزیرِ خارجہ حاقان فیدان
ان ملاقاتوں کا مرکزی ایجنڈا نیٹو اتحاد کے اندر دفاعی تعاون میں اضافہ، خطے میں استحکام لانا اور آئندہ ہونے والے نیٹو اجلاس کی حکمتِ عملی طے کرنا تھا۔
ترک دفاعی کمپنی (Aselsan) کی شاندار ترقی: ایک ‘انقلاب’
نیٹو سربراہ نے ترکیہ کی معروف دفاعی کمپنی Aselsan کے ہیڈکوارٹر کا خصوصی دورہ کیا اور وہاں ہونے والی پیش رفت کو ایک "انقلاب” قرار دیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیٹو کے دیگر رکن ممالک ترکیہ کی اس بے مثال ترقی سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر ڈرونز، جدید ریڈار سسٹمز اور دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں ترکیہ کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز دی۔
Aselsan کی عالمی سطح پر کامیابیاں (2026):
- کمپنی کی مارکیٹ ویلیو تیزی سے بڑھ کر 30 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
- پولینڈ کو جدید دفاعی سسٹمز کی فراہمی۔
- البانیہ اور رومانیہ میں نئے آپریشنز کا آغاز۔
- کروشیا کی بحریہ کے لیے دفاعی آلات کی اہم اپ گریڈز۔
زیرِ بحث آنے والے اہم عالمی اور علاقائی چیلنجز
اس دورے میں ان تمام سلگتے ہوئے مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی جو عالمی استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں:
- مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی۔
- علاقائی تنازعات: ترکیہ اور یونان کے درمیان سمندری تنازعہ اور قبرص کا دیرینہ مسئلہ۔
- عالمی خطرات: روس-یوکرین جنگ، چین کی عسکری ترقی، ایران کی علاقائی سرگرمیاں اور سائبر حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات۔
- دفاعی معاہدات: ترکیہ کو F-35 جنگی طیاروں کی فراہمی کا معاملہ۔
نیٹو کا مستقبل: جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی ضرورت
مارک رُٹے نے عالمی سلامتی کی غیر مستحکم صورتحال کے پیشِ نظر نیٹو کی حکمتِ عملی پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ:
"موجودہ دور میں صرف دفاعی بجٹ بڑھانا کافی نہیں ہے۔ ہمیں فضائی دفاع، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی اور خلائی ٹیکنالوجی میں بھی بھاری سرمایہ کاری کرنے کی اشد ضرورت ہے۔”
