خانہ جنگی اور ریاستی: دنیا بھر میں ڈیڑھ کروڑ افراد بے گھر ہو گئے، اقوام متحدہ

دنیا کے مختلف ممالک میں جاری خانہ جنگی اور ریاستی تشدد کے باعث بے گھر افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا نے صورتحال کو بحران میں بدل دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انٹرنل ڈسپلیسمنٹ مانیٹرنگ سینٹر (آئی ڈی ایم سی) نے 127 ممالک کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں بے گھر افراد کی تعداد ایک کروڑ 46 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ آئی ڈی ایم سی کے ڈائریکٹر الیگزینڈر بیلاک نے کہا کہ دنیا بھر میں بے گھر افراد کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ایک بڑے بحران کی صورت اختیار کر گیا ہے۔

کورونا وائرس کی عالمی وبا، صحت عامہ تک محدود رسائی اور بدترین معاشی حالات نے صورتحال سنگین کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مختلف ممالک میں خانہ جنگی اور ریاستی تشدد کے باعث 48 لاکھ اور قدرتی آفات سے 98 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

سب سے زیادہ بے گھر ہونے والوں میں شام کے شہری شامل ہیں۔ اس سال جنوری سے جون تک صرف شام میں 15 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ دوسرے نمبر پر ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو (ڈی آر سی) ہے جہاں 14 لاکھ افراد خانہ جنگی اور قدرتی آفات کے باعث اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ برکینا فاسو کے 4 لاکھ 91 ہزار لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مغربی افریقہ کے ملک برکینا فاسو میں مسلح گروپ تیزی سے پھیل رہے ہیں اور ان کے زیر اثر علاقوں میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث یہاں آنے والے دنوں میں صورتحال سنگین ہو جائے گی۔

2019 کے مقابلے میں کیمرون، صومالیہ، موزمبیق اور نائیجر میں بھی صورتحال بگڑ رہی ہے۔ ان ممالک میں بھی بے گھر افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابھی رواں سال میں موسم سرما آ رہا ہے۔ ماہرین موسمیات موسم سرما میں سخت سردی کی پیشگوئی کر رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ اگلے چھ ماہ میں صورتحال ایک سنگین بحران کی صورت اختیار کر جائے گی۔

اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے فنڈز فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ موسم سرما کی سخت سردی سے بے گھر افراد کو بچایا جا سکے۔

Read Previous

یونان کے نام نہاد جارحانہ رویئے پر ترکی نے ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کیا، صدر ایردوان

Read Next

ڈرامہ سیریز ارطغرل غازی کے کردار عبدالرحمن غازی صدمے میں

Leave a Reply