fbpx
ozIstanbul

یورپ کے اعلیٰ عہدیداروں کی ذاتی چپقلش ترک صدر سے ملاقات میں نشستوں کے تنازعے کا باعث بنی، یورپی میڈیا

یورپین کونسل کے صدر چارلس مچل اور یورپین کمیشن کی پہلی خاتون صدر اُرسلا وون ڈیر کی ذاتی چپقلش صدر ایردوان کے ساتھ ملاقات میں نشستوں کا تنازعہ بنی۔

چارلس مچل نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے باعث تمام رات سو نہیں سکے۔ دوسری طرف اُرسلا وون ڈیر نے ملاقات شروع ہوتے ہی صدر ایردوان کے ساتھ والی کرسی پر نہ بٹھانے پر احتجاج بھی کیا لیکن اس وقت احتجاج کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا تھا۔

یورپی میڈیا نے اس واقعے کو "صوفہ گیٹ” کا نام دیا ہے۔ جرمنی کے ایک ہفت روزہ میگرین "ڈیر سپیجل” نے کہا ہے کہ یورپین کمیشن کی صدر اُرسلا وون ڈیر اور یورپین کونسل کے صدر چارلس مچل کے درمیان اقتدار اور طاقت کی ایک نہ نظر آنے والی جنگ جاری ہے۔ یہی جنگ صدر ایردوان کے ساتھ ملاقات میں نشستوں کی ترتیب کا تنازعہ بنی۔

جرمن میڈیا کے مطابق چارلس مچل کافی عرصے سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں یورپی بلاک میں مزید بڑا عہدہ دیا جائے کیونکہ ابھی صرف وہ یورپین یونین کی کانفرنسز کی میزبانی ہی کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف یورپین کمیشن کی صدر اُرسلا ووں ڈیر بھی مزید اختیارات چاہتی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ یورپین یونین کے تجارت اور مالیاتی نظم و نسق کی ریگولیٹری اتھارٹی کی سربراہی انہیں دی جائے۔

یورپی میڈیا کے مطابق حال ہی میں یورپین یونین کے سربراہ اجلاس کی جو تصاویر جاری کی گئیں تھیں اس میں یورپین کونسل کے صدر چارلس مچل کی تصاویر کی تعداد یورپین کمیشن کی صدر اُرسلا وون ڈیر کے مقابلے میں چار گنا زیادہ تھیں۔

صدر ایردوان کے ساتھ ملاقات سے پہلے جو عشائیہ دیا گیا تھا اس میں بھی یورپی بلاک کے دونوں اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان کشیدگی واضح نظر آ رہی تھی تاہم صدر ایردوان نے صورتحال کو کافی حد تک کنٹرول کر لیا تھا۔

فرانسیسی اخبار "ایل اوپینیئن” نے کہا ہے یورپی بلاک کے دونوں عہدیداروں کے ذاتی اختلافات سے ترکی کو خوامخواہ نشانہ بنایا گیا۔

پچھلا پڑھیں

پی ٹی وی نے رمضان میں ارطغرل غازی کے نئے شیڈول کا اعلان کر دیا

اگلا پڑھیں

ترکی کے یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ کی ڈاکومنٹری فلمز بنانے کی آن لائن تربیت آئندہ ہفتے شروع گی

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے