fbpx
ozIstanbul

امریکہ کے ساتھ فضائی حدود کا کوئی معاہدہ زیر غور نہیں ، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان

پاکستانی دفتر خارجہ نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کو مسترد کردیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے مابین افغانستان میں ڈرون حملے سے متعلق معاہدہ ہونے والا ہے جس کے تحت واشنگٹن، اسلام آباد کی فضائی حدود استعمال کر سکے گا۔

اس ضمن میں دفتر خارجہ نے وضاحتی بیان جاری کیا کہ امریکا اور پاکستان کے مابین ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔

سی سی این کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی کانگریس کو دی جانے والی حساس بریفنگ سے متعلق واقف تین ذرائع نے بتایا کہ جو بائیڈن انتظامیہ نے امریکی قانون سازوں کو آگاہ کیا تھا کہ واشنگٹن اور پاکستان کے مابین جلد معاہدہ ہونے والا ہے جس کے تحت افغانستان میں ملٹری آپریشن کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال ہوسکے گی۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان نے بھی مذکورہ معاہدے پر دستخط ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی تاکہ اس کے بدلے میں انسداد دہشت گردی سے متعلق آپریشن اور بھارت کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں امریکی مدد حاصل ہوسکے۔

سی این این کی رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دے کر کہا گیا کہ معاہدے کی شرائط پر تاحال بات چیت جاری ہے اور اس میں تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے بعد دفترخارجہ نے ایک اعلامیہ جاری کیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے افغانستان میں امریکی ڈرون حملے کے لیے پاکستانی فضائی حدود کے استعمال سے متعلق معاہدے پر کہا کہ ایسا کوئی معاہدہ زیر غور نہیں ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے زور دیا کہ پاکستان اور امریکا کے مابین انسداد دہشت گردی اور خطے میں سیکیورٹی سے متعلق دوطرفہ تعلقات کی طویل تاریخ‘ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک روایتی انداز میں دیگر امور پر مذاکرات جاری رکھیں گے۔

پچھلا پڑھیں

ترکی اور آذربائیجان کے مشترکہ میڈیا پلیٹ فارم کا پہلا اجلاس

اگلا پڑھیں

سعودیہ نے 2060 تک صفر کاربن اخراج کا ہدف حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کردیا

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے