fbpx
ozIstanbul

سعودیہ نے 2060 تک صفر کاربن اخراج کا ہدف حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کردیا

سعودی عرب نے 2060 تک ’صفر کاربن اخراج کا ہدف حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کردیا۔

سعودی عرب خام تیل کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے اور ریاض کا کہنا تھا کہ وہ 2030 تک میتھین کے اخراج میں 30 فیصد کمی کی عالمی کوشش میں بھی شامل ہو جائے گا۔

اقوام متحدہ کے مطابق 130 سے زائد ممالک نے 2050 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو صفر پر لانے کا ہدف مقرر کیا ہے یا اس پر غور کر رہے ہیں۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی گرین انیشیویٹو فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں آج اعلان کرتا ہوں کہ سعودی عرب 2060 تک صفر کاربن کے اخراج کا ہدف حاصل کرلے گا۔

سعودی ولی عہد نے کہا کہ مجھے توانائی کے شعبے میں ایسے اقدامات شروع کرنے پر خوشی ہے جو 2030 تک کاربن کے اخراج کو سالانہ 278 ملین ٹن کم کردیں گے اس طرح رضاکارانہ طور پر اعلان کردہ ہدف کو دگنا کرنے سے کہیں زیادہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم میتھین گیس کو کم کرنے کے عالمی کوششوں کا حصہ بننے کا اعلان کرتے ہیں۔

ایک بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب 2030 تک عالمی میتھین کے اخراج کو 30 فیصد تک کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا کہ 2060 کا ہدف ہمیں معاشی یا سماجی اثرات کے خطرے کے بغیر ہموار اور قابل عمل منتقلی کے قابل بنائے گا۔

سی او پی 26 کے صدر آلوک شرما نے سعودی عرب کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

انہوں نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ مجھے اُمید ہے کہ یہ تاریخی اعلان سی او پی 26 کی پہلے سے جاری کوشش اور خواہش کو بڑھا دے گا۔

بعدازاں سعودی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو امین ناصر نے فورم سے خطاب میں کہا کہ سعودی آرامکو 2050 تک اپنے آپریشن سے صفر کاربن اخراج کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ حالات پیچیدہ ہوگئے ہیں، صفر کاربن اخراج کا ہدف چیلنجز پر مشتمل ہوگا لیکن ہمیں یقین ہے کہ ہم ہدف حاصل کرلیں گے۔

ایک اندازے کے مطابق سعودی عرب ہر سال تقریباً 60 کروڑ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کرتا ہے جو فرانس اور جرمنی کے برابر ہے۔

سال 2050 صفر کاربن اخراج کے اعتبار سے توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جیسے جیسے سی او پی 26 سمٹ قریب آرہا ہے کئی ممالک نے 2050 تک صفر کاربن اخراج کے ہدف سے متعلق وعدے کیے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے کہا کہ موجودہ آب و ہوا کی صورتحال تباہی کے لیے ایک طرف کا ٹکٹ ہے۔

31 اکتوبر اور 12 نومبر کے درمیان منعقد ہونے والے اس اجتماع کو گلوبل وارمنگ کو سست کرنے کے لیے دنیا بھر میں اخراج کے اہداف طے کرنے میں ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

پچھلا پڑھیں

امریکہ کے ساتھ فضائی حدود کا کوئی معاہدہ زیر غور نہیں ، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان

اگلا پڑھیں

سوڈان میں فوجی بغاوت،حکومت کا تختہ الٹ کر وزیراعظم کو نظر بند کر دیا

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے