مسٹر میکرون آپ کو مستقبل میں مجھ سے بہت تکلیفیں پہنچیں گی، صدر ایردوان

صدر رجب طیب ایردوان نے فرانسیسی صدر کو خبردار کیا ہے کہ انہیں مستقبل میں مزید تکلیفیں پہنچنے والی ہیں۔ استنبول میں فوجی بغاوت کے چالیس سال مکمل ہونے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ فرانسیسی صدر ترکوں کی تاریخ کو اچھی طرح پڑھ لیں کیونکہ ترک فرانس کی تاریخ کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔

انہوں نے فرانسیسی صدر ایمانویل کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ سوڈان، نائیجریا اور روانڈا میں فرانس نے کیا کیا۔ فرانسیسی فوجیوں نے افریقہ کے ہزاروں افراد کو قتل کیا۔ سونے اور ہیرے کی کانوں پر قبضے کے لئے فرانس نے افریقی عوام کو خون بہایا۔

انہوں نے کہا کہ فرانس لیبیا کی باغی ملیشیا کو کیوں سپورٹ کر رہا ہے اس کی وجہ صرف اور صرف خام تیل ہے۔ فرانس قدرتی وسائل کے لئے انسانوں کو خون بہاتا آیا ہے اور اب بھی بہا رہا ہے۔

ترکی نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران جو کردار ادا کیا ساری دنیا تعریف کر رہی ہے۔ ترکی نے افریقی ممالک سمیت دنیا کے 150 سے زائد ممالک کو مفت طبی آلات اور کورونا وائرس سے لڑنے کی کٹس فراہم کیں۔ یہ تمام خدمات صرف انسانیت کے لئے تھیں۔

ترک صدر نے فرانسیسی صدر سے پوچھا کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران فرانس نے کیا کیا؟

صدر ایردوان نے یونان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ فرانس کے ہاتھوں کٹھ پتلی نہ بنے۔ یونان مشرقی بحیرہ روم اور آئجن میں فرانس کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔

صدر ایردوان نے واضح کیا کہ ترکی اپنے فیصلے خود کرے گا اور ترک عوام اپنے فیصلوں پر خود عمل کرے گی۔ ترکی ہمیشہ جمہوریت، انصاف اور مساوات پر یقین رکھتا ہے۔

Read Previous

12 ستمبر 1980 جب ترک فوج نے جمہوریت پر شب خون مارا

Read Next

ترکوں نے آج تک کسی فوجی بغاوت کو تسلیم نہیں کیا، صدر ایردوان

Leave a Reply