عرب ممالک نے مسئلہ فلسطین ایک طرف رکھتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کئے، موساد چیف

اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ یوسی کوہین نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان دوستانہ تعلقات جلد ہی قائم ہو جائیں گے۔

اسرائیلی نیوز چینل 12 کو انٹرویو دیتے ہوئے موساد کے سربراہ نے کہا کہ ان کی سعودی ولی عہد کے ساتھ ملاقات میں مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

یوسی کوہین نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو کے قریبی ساتھی ہیں وہ خلیجی ریاستوں میں اسرائیل کے خفیہ سفارتکار کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔

وہ اسرائیل کے ان اعلیٰ حکام میں شامل تھے جو وہائٹ ہاوٗس میں بحرین اور یو اے ای کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے معاہدے کی تقریب میں اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ موجود تھے۔

موساد کے سربراہ نے کہا کہ یو اے ای اور بحرین کے ساتھ تعلقات کا معاہدہ کئی سال کے رابطوں کے رابطوں کا تنیجہ ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ معاملات خوش اسلوبی کے ساتھ طے پا گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں ایرانی خطرات نے عرب ممالک کو دہائیوں کی اس پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا جس میں وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے تھے۔ گو کہ ابھی تک اسرائیل اور فلسطین کے درمیان معاملات طے نہیں ہو پائے ہیں لیکن اس کے باوجود عرب ممالک اپنی پالیسیاں بدل رہے ہیں۔

موساد کے سربراہ نے کہا کہ عرب ممالک نے فلسطین کا معاملہ ایک طرف رکھتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کئے ہیں کیونکہ ہر ملک کو اپنے طویل مدتی مفادات کو دیکھنا ہوتا ہے۔ یو اے ای اور بحرین نے طویل مدت کے لئے اپنے مفادات کو تحفظ دینے کی پالیسی اختیار کی ہے۔

Read Previous

اختلافات کے باوجود ترکی اور فرانس قریبی دوست ہیں، ترک سفیر

Read Next

سعودی عرب پر جنگی اسلحہ خریدنے پر پابندیاں عائد کی جائیں، یورپین یونین

Leave a Reply