ترکی کے امام نے ثابت کردیا کہ انسانیت ابھی بھی زندہ ہے

شمال مغربی صوبے سکریہ میں یونیورسٹی  کے کیمپس میں واقع  ایک  مسجد کے امام  اور  دو مغززین نے کورونا وائرس  کے دنوں کے دوران وطن واپس نہ جانے والے طلبہ کو اپنے پاس رہنے کی جگہ دی۔

سکرولیا یونیورسٹی کے کیمپس مسجد میں امام کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ایرول دمیر نے طلباء کے لئے  عطیات کا اہتتام کیا تاکہ اس مشکل وقت میں  غیر ملکی طلبہ کی مدد کی جا سکے۔

یونیورسٹی میں موجود تقریبا 2،000 بین الاقوامی طلبہ نے اس  مدد سے فائدہ آٹھایا ۔

دیمر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کورونا وائرس کے باعث پروازیں منسوخ ہونے کی وجہ سے طلبہ اپنے اپنے  ملک واپس نہیں جا سکتے تھے اور نہ ہی انکے پاس یہاں رہنے کی کوئی جگہ میسر ہے ۔

انکا کہنا تھا کہ ہم نے ایسے بچوں کے لیے  ایک پرو جیکٹ شروع کیا  ہے  جس میں بچوں کو اس مشکل وقت میں مدد فراہم کی جائے گی۔

انکا مزید کہنا تھا کہ پروجیکٹ کے شروع ہونے کے بعد  ہمیں اس بعد کا اندازہ ہوا کہ ابھی بہت سے بچوں کو ہماری مدد کی ضرورت ہے جسکے لیے ہم نے مختلف  تنظیموں سے رابطے کرنے شروع کر دیے۔

دیمر کا مزید کہنا تھا کہ بچوں کو مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کی تعلیم اور انکی باقی ضروریات کو بھی ہم نے اس پروجیکٹ کے ذریعے مکمل کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔

Read Previous

ترک قبرص نے 46 سال سے بند ماراش ٹاوٗن تک رسائی کا راستہ کھول دیا

Read Next

اس سال کرسمس پر امریکہ افغانستان سے 2500 فوجی واپس بلا لے گا

Leave a Reply