fbpx
ozIstanbul

پاک افغان تعلقات کے منفی تاثر کو ختم کرنے میں میڈیا کا کردار کلیدی ہے، پاک افغان یورتھ فورم کی میڈیا کانفرنس میں اتفاق

پاکستان اور افغانستان کے میڈیا کے شعبہ سے وابستہ ماہرین نے اس بات سے اتقاق کیا ہے کہ دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے حوالہ سے قائم منفی تاثر کے خاتمہ میں میڈیا کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے اوراس ہدف کے حصول میں دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف میڈیا بلکہ عوامی سطح پربھی رابطوں کومزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہار پاک ۔ افغان یوتھ فورم، انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز اور وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے تعاون سے دوروزہ میڈیا کانکلیو کے پہلے روز منعقدہ مذاکرہ کے شرکا نے کیا۔ نادیہ نقی نے مذاکرہ کے ماڈریٹرکے فرائض سرانجام دیئے۔

پی ٹی وی ورلڈ کے سربراہ مسعود بیگ نے کہا کہ بدقسمتی سے میڈیا میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں افغان میڈیا کو بہت کم دیکھا جاتا ہے تاہم جو لوگ افغان میڈیا دیکھ رہے ہیں انہیں اس بات کا علم ہے کہ اس میں پاکستان کو منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے کئی ٹی وی چینلز کو امریکا اور بھارت سے سپانسر کیا جاتا ہے، افغانستان کی میڈیا پالیسی میں تبدیلی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کسی چینل پر بھی کبھی افغان عوام کو منفی انداز میں نہیں پیش کیا گیا، افغان میڈیا میں پاکستان کے حوالہ سے تاثر کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، ہم افغان عوام کی تکالیف کو سمجھتے ہیں لیکن افغان عوام کو ہماری تکالیف کا بھی احساس ہونا چاہئے۔

افغان وفد کی رکن رابعہ سادات نے کہا کہ دونوں ممالک کو مل کر کام کرنا ہو گا، میڈیا کے اداروں کو ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بطور میڈیا پرسن یہ بات بہت ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سیاسی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ حقائق کے مطابق رپورٹنگ کریں۔

افغان امور کے ماہر اور معروف صحافی حسن خان نے کہا کہ میڈیا عوام کی آواز ہوتا ہے، بدقسمتی سے دونوں اطراف کے میڈیا میں منفی رجحانات کو ابھارنے کا رجحان زیادہ ہے، افغانستان میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے پاکستانی صحافیوں کو سوشل میڈیا اور غیر ملکی میڈیا سے اس کے بارے میں معلومات ملتی ہیں، افغانستان میں اس وقت کئی پاکستانی چینلز دکھائے جا رہے ہیں تاہم پاکستان میں افغان چینلوں پر مکمل پابندی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی اور مغربی میڈیا ایسا تاثر دے رہے ہیں جیسے طالبان پورے افغانستان پر قبضہ کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حقائق سے آگاہی کیلئے دونوں ممالک کے میڈیا کو ایک دوسرے کے ممالک میں کام کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔ افغان ٹی وی چینل کی چیف ایگزیکٹو آفیسر شگوفہ صدیقی نے مذاکرے میں بتایا کہ افغانستان کا میڈیا بدستور پابندیوں سے آزاد ہو رہا ہے، افغانستان کے میڈیا میں خواتین کا کردار بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا کے اداروں پر دبائو بڑھا یا جا رہا ہے اور رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان میڈیا کی آزادی کیلئے صحافیوں نے قربانیاں دی ہیں اور ہم اپنی آزادی سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ شگوفہ صدیقی نے کہا کہ امن کے مقاصد کو آگے بڑھانا ہمارا ہدف ہے، پاکستان کے حوالہ سے جو بھی خبر ہوتی ہے ہم پاکستانی سفارتخانہ سے اس بارے میں رائے لیتے ہیں تاہم اس کے برعکس پاکستانی میڈیا میں سقوط کابل کی صورتحال پیش کی جاتی ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

میڈیا کے شعبہ سے وابستہ ماہر نفسیات افتخار فردوس نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ غلط تاثر صرف میڈیا نے قائم کئے ہیں، یہ تاثر صدیوں اور عشروں میں بنتا ہے ، افغانستان کے حوالہ سے جو اطلاعات ملتی ہیں اس میں خبر کے ذرائع نہیں ہوتے، یہی صورتحال افغان میڈیا میں بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غربت اور کم شرح خواندگی دونوں ممالک کے مسائل ہیں، غلط تاثر کے خاتمہ کیلئے عوامی رابطوں کا فروغ ضروری ہے، یہ کام صرف میڈیا نہیں کر سکتا۔ افغانستان کے معروف میڈیا کنسلٹنٹ اسد کھوشہ نے کہا کہ افغانستان علاقائی تجارت کے فروغ کے حوالہ سے اہم ترین ملک ہے اور ملک میں قیام امن سے خطہ کے ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی رابطے بڑھائے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے افغانستان میں ہر غلط کام کا ذمہ دار پاکستان کو اور اسی طرح پاکستان میں مسائل کی ذمہ داری افغانستان پر ڈالی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب حمد اﷲ محب نے پاکستان کے حوالہ سے منفی خیالات کا اظہار کیا تو ہم نے اس کے خلاف پروگرام کیا اور اس کی مذمت کی، اسی طرح کے طرز عمل کا مظاہرہ پاکستانی میڈیا کے اداروں کو بھی کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے حوالہ سے پاکستان اہم ملک ہے، ہمیں پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنا ہو گا، الزام تراشی میں دونوں ممالک کا میڈیا شامل ہے اور اس کے خاتمہ کیلئے ہمیں مل کر اقدامات کرنا ہوں گے۔ معروف افغان بزنس مین عرفان سنان نے کہا کہ ہمیں اچھے ہمسائیوں کی طرح رہنا ہو گا، میڈیا پر عدم استحکام کے حوالہ سے خبروں کا سب سے زیادہ نقصان تجارت اور اس سے وابستہ کمیونٹی کو ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے افغانستان میں تجارت کے بے انتہاءمواقع ہیں، بھارت ہم سے دور ہے، پاکستان کے ساتھ ہماری 2600 کلومیٹر طویل سرحد ہے، چند برس قبل افغانستان اپنی مشروبات اور پولٹری کا بہت بڑا حصہ پاکستان سے درآمد کر رہا تھا، اس وقت اس میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ادویہ سازی، کارٹن سازی، مشروب سازی سمیت مختلف شعبوں میں افغانستان میں تجارت و سرمایہ کاری کے موجود مواقع سے استفادہ کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کیلئے بھی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے، چین ایک بڑا علاقائی کھلاڑی ہے جس کے پاکستان کے ساتھ بہترین رابطے اور تعلقات ہیں، ہماری خواہش ہے کہ چین افغانستان میں معدنیات کے شعبہ میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری۔

مذاکرے کے شرکا نے اس بات سے اتفاق کیا کہ دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے حوالہ سے قائم منفی تاثر کے خاتمہ میں میڈیا کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے اوراس ہدف کے حصول میں دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف میڈیا بلکہ عوامی سطح پربھی رابطوں کومزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے

پچھلا پڑھیں

پاکستان پر سفری پابندیوں میں نرمی پر کام کررہے ہیں، سعودی وزیر خارجہ

اگلا پڑھیں

سعودی عرب کا ریڈ لسٹ میں شامل ممالک پر تین سال کی سفری پابندیاں عائد کرنے کا انتباہ

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے