مشرقِ وسطیٰ میں بدلتے ہوئے تزویراتی منظرنامے اور علاقائی سلامتی کے نئے تقاضوں کے درمیان پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو وسعت دینے کا عندیہ دیا ہے۔ پاکستان کے مطابق ایران سمیت کوئی بھی ملک، جو خطے میں امن، استحکام اور اجتماعی دفاع کے مشترکہ وژن پر یقین رکھتا ہو، اس دفاعی معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی شقیں نئے ممالک کی شمولیت میں رکاوٹ نہیں ہیں۔ علاقائی امن اور اجتماعی دفاع کے مشترکہ وژن پر یقین رکھنے والے ممالک کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ تاہم نئے ملک کی شمولیت کا فیصلہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی سیاسی قیادت کرے گی۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرانے کی سفارتی کوششوں پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان ان کوششوں کے حوالے سے محتاط انداز میں پُرامید ہے۔ ان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایک ماہ کے دوران دو مرتبہ تہران کا دورہ مثبت پیشرفت کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مثبت پیشرفت نہ ہوتی تو فیلڈ مارشل دوبارہ تہران نہ جاتے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ بعض طاقتور عناصر امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کو نقصان پہنچانے اور ان پر بلاجواز تنقید کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کے بقول یہ عناصر سمجھتے ہیں کہ جاری تنازع اور جنگ ان کے مفادات کے لیے فائدہ مند ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اکتوبر کے دوران دو مرتبہ ایران کا دورہ کیا۔ تازہ ترین دورے میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کی قومی انٹیلی جنس تنظیم کے سربراہ ابراہیم قالن بھی ان کے ہمراہ تھے۔ یہ دورہ ایران اور مکہ دفاعی معاہدے کے تینوں رکن ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں کا حصہ تھا۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اس دورے کا مقصد خطے میں فوجی کشیدگی دوبارہ بڑھنے سے روکنے کے لیے مذاکراتی راستے کھولنا تھا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق تہران نے پاکستان کے ذریعے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی تھی، بشرطیکہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرے۔ ایرانی سفیر نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا جائزہ لینے اور اسے مثبت پانے کی صورت میں حمایت کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔
سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی مزید تعیناتی سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس کا انحصار صورتحال اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کے فیصلوں پر ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے مقدس مقامات کا تحفظ بھی پاکستان کے عزم کا حصہ ہے۔ یہ بیان سعودی عرب کے شہروں، ہوائی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات پر حوثی حملوں میں اضافے کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یمن کی صورتحال پر واضح کیا کہ پاکستان یمن کے اندرونی تنازع کا حصہ نہیں ہے اور یہ یمن کے داخلی فریقوں کے درمیان معاملہ ہے۔
