ایران: پولیس حراست میں لڑکی کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے

ایران میں پولیس حراست کے دوران ایک نوجوان خاتون کی ہلاکت پر ملک بھر میں مسلسل چوتھے روز بھی مظاہرے جاری ہیں اس دوران بدامنی کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک بھی ہوگئے۔

22 سالہ مہسا امینی کو اخلاقی پولیس نے ‘غیر موزوں لباس’ کے باعث گرفتار کیا تھا، جن کی موت نے حقوق، سلامتی اور بین الاقوامی پابندیوں سے دوچار معیشت سمیت متعدد مسائل پر غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

پانی کی قلت پر گزشتہ سال سڑکوں پر جھڑپوں کے بعد سے یہ ایران میں ہونے والی بدترین بدامنی ہے جبکہ ایرانی حکومت غیر ملکی ایجنٹوں اور نامعلوم دہشت گردوں پر تشدد کو ہوا دینے کا الزام عائد کرتی ہے۔

بظاہر کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک معاون نے مہسا امینی کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ خامنہ ای ان کی موت سے متاثر اور دکھ میں ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای کے نمائندے عبدالرضا پورزہابی نے ایرانی صوبے کردستان میں مہسا امینی کے آبائی گھر کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘تمام ادارے ان حقوق کے دفاع کے لیے کارروائی کریں گے جن کی خلاف ورزی کی گئی’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘میں نے مہسا امینی کے خاندان سے وعدہ کیا ہے کہ میں حتمی نتیجے تک ان کی موت کے معاملے کی پیروی کروں گا۔’

خیال رہے کہ مہسا امینی کی موت اخلاقی پولیس کی حراست میں کوما میں جانے کے بعد ہوئی، یہ پولیس ایران میں سخت قوانین نافذ کرتی ہے جن کے تحت خواتین کو اپنے بال ڈھانپنے اور عوامی مقامات پر ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننا لازم ہوتا ہے۔

مہسا امینی کے والد نے بتایا کہ انہیں صحت کا کوئی مسئلہ نہیں تھا تاہم پولیس حراست کے دوران ان کی ٹانگوں پر زخم آئے، انہوں نے پولیس کو اپنی بیٹی کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

ان کی موت کے بعد کردستان میں شروع ہونے والے مظاہرے پیر اور منگل کو شمال مغربی ایران کے دیگر صوبوں تک بھی پھیل گئے۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے کئی شہروں میں ‘چھوٹے پیمانے پر نکالی گئی ریلیوں’ کی اطلاع دی جس میں مظاہرین نے حکومت مخالف نعرے لگائے، پولیس کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور عوامی املاک کو نقصان پہنچایا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں ایران بھر کے صوبوں میں مظاہرے دیکھے گئے جس میں کئی ایسے علاقے بھی شامل ہیں جو اب تک بدامنی سے متاثر نہیں تھے

سب سے زیادہ کشیدہ صورتحال کردستان کے علاقے میں دیکھنے میں آئی جہاں سرکاری عہدیداروں اور رضاکاروں کی ویب سائٹس نے کم از کم 3 افراد کی ہلاکت رپورٹ کی۔

کرد انسانی حقوق کے گروپ ہینگاو نے کہا کہ ہلاک ہونے والے 3 افراد سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مارے گئے۔

صوبہ کردستان کے گورنر نے کہا کہ ہلاکتیں مشتبہ ہیں اور اس کا الزام نامعلوم دہشت گرد گروپوں پر لگایا۔

اسمٰعیل زاری کوشا نے نیم سرکاری ’فارس‘ نیوز ایجنسی کے رپورٹ کردہ ایک بیان میں کہا کہ دیواندارہ شہر کے ایک شہری کو ایک ایسے ہتھیار سے مارا گیا جو مسلح افواج کے زیر استعمال نہیں، دہشت گرد گروہ قتل کرنے کے درپے ہیں۔

دوسری جانب تہران کے گورنر محسن منصوری نے ملک کے دارالحکومت میں تشدد کو ہوا دینے کا الزام غیر ملکی ایجنٹوں پر لگایا اور کہا کہ راتوں رات ہونے والے اجتماعات کے دوران 3 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔

کیتھم ہاؤس تھنک ٹینک کی صنم وکیل نے کہا کہ مہسا امینی کی موت سے شروع ہونے والے مظاہروں نے ‘سلامتی اور آزادی سے متعلق ان مسائل کی جڑ پر روشنی ڈالی ہے جن کا سامنا عام ایرانیوں کو ہر روز کرنا پڑتا ہے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘میرے خیال میں یہ حکومت کے لیے کوئی چیلنج نہیں کیونکہ ایرانی نظام میں طاقت کی اجارہ داری ہے، ایک اچھی سیکیورٹی حکمت عملی جس پر وہ پہلے سے ہی عمل درآمد کر رہا ہے’۔

مظاہرین نے تہران کے گرینڈ بازار میں ‘مہسا امینی ریسٹ اِن پیس’ کے نعرے لگاتے ہوئے مارچ کیا۔

اس کے علاوہ تہران کے دیگر مقامات پر بھی مظاہرین آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے جنہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے شیلز کا استعمال کیا۔

ایکٹوسٹ سوشل میڈیا اکاؤنٹس بشمول ’1500 تصویر‘ نے کہا کہ مظاہرے شمال مغربی اور وسطی ایران کے متعدد علاقوں مثلاً تبریز، اراک اور اصفہان تک پھیل چکے ہیں۔

دوسری جانب کرد انسانی حقوق کے گروپ ہینگاؤ نے رپورٹ کیا کہ پیر کو 13 شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور 250 افراد کو گرفتار کیا گیا، تاہم رائٹرز ان رپورٹس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

Read Previous

صدر ایردوان اقوام متحدہ اجلاس میں شرکت کے بعد وطن روانہ

Read Next

ترکیہ کا افغانستان کوامداد بھیجنے کا سلسلہ جاری

Leave a Reply