خصوصی رپورٹ / تاریخ کے اوراق سے
تاریخ کے اوراق میں 29 اپریل 1916 کا دن ایک ایسے سنہرے باب کے طور پر درج ہے، جب میسوپوٹیمیا (موجودہ عراق) کی شدید گرمی میں برطانوی فوجی تاریخ کی سب سے بڑی شکست اور سلطنتِ عثمانیہ کی آخری عظیم فتوحات میں سے ایک پر مہر ثبت ہوئی۔
انگریز اپنی وسیع سلطنت کے بارے میں فخر سے کہا کرتے تھے کہ "اس سلطنت پر سورج کبھی غروب نہیں ہوتا”، لیکن کُوت الامارہ کے میدان میں سلطنتِ برطانیہ پر ایسا سورج غروب ہوا کہ ان کا غرور خاک میں مل گیا۔ آج اس شاندار فتح کو 110 سال مکمل ہو چکے ہیں۔
محاصرے کا پسِ منظر: ہدف بغداد تھا
پہلی جنگ عظیم کے دوران ایک اہم محاذ بصرہ میں جاری تھا، جہاں سے انگریزوں کی حکمت عملی عراق کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا اور بغداد پر قبضہ کر کے عثمانیوں کو خطے سے بے دخل کرنا تھی۔





- برطانوی فوج نے جنرل چارلس ٹاؤن شینڈ (Charles Townshend) کی کمان میں تیزی سے پیش قدمی کی، لیکن 1915 کے آخر میں سلمان پاک کی جنگ میں ترک فوج نے انہیں زبردست مزاحمت کا نشانہ بنایا۔
- پسپائی پر مجبور ہو کر برطانوی ڈویژن نے دریائے دجلہ کے کنارے واقع ایک تزویراتی شہر الکُوت میں پناہ لی، جو ان کی سب سے بڑی تاریخی بھول ثابت ہوئی۔
ہمت و عزم کے 147 دن کا کٹھن محاصرہ
ترک فوج نے کمانڈر خلیل پاشا اور نورالدین پاشا کی سربراہی میں 5 دسمبر 1915 کو الکُوت شہر کا مکمل محاصرہ کر لیا۔ یہ محاصرہ 147 دن تک جاری رہا اور آہستہ آہستہ ایک اعصاب شکن جنگ میں تبدیل ہو گیا۔
- بھوک اور بیماری: شہر میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہو گئی۔ برطانوی فوجی اپنے گھوڑوں کو ذبح کر کے کھانے پر مجبور ہو گئے۔ برطانوی فوج نے شہریوں کے ذخائر پر بھی زبردستی قبضہ کر لیا، جس سے مقامی آبادی کو بھوک اور بیماریوں کا سامنا کرنا پڑا۔
- فضائی امداد کی ناکامی: تاریخ میں پہلی بار انگریزوں نے اپنے محصور فوجیوں کو ہوائی جہاز کے ذریعے سامان (Airborne Logistics) پہنچانے کی کوشش کی، لیکن ترک فوج کی مستعدی کے باعث یہ کوششیں مکمل ناکام رہیں۔ امداد کے لیے آنے والے دیگر برطانوی دستوں کو بھی عثمانی فوج نے پسپا کر دیا۔
برطانوی فوج میں ہندوستانی مسلمان سپاہیوں کا کردار
اس محاصرے کے دوران برطانوی فوج کا ایک بڑا حصہ ہندوستانی مسلمان فوجیوں پر مشتمل تھا۔ یہ فوجی اپنے دینی بھائیوں اور خلافتِ عثمانیہ کے محافظوں کے خلاف لڑنے سے شدید بے چین تھے۔



- بھوک، نفسیاتی دباؤ اور مذہبی ہم آہنگی کے باعث کئی مسلمان سپاہیوں نے انگریزوں سے بغاوت کر کے ترکوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کر لی۔
- بغاوت کو کچلنے کے لیے جنرل ٹاؤن شینڈ نے پکڑے جانے والے 12 مسلمان قیدی سپاہیوں کو عبرت کے لیے پھانسی دے دی، لیکن اس سے ہندوستانی مسلمانوں کا جذبہ سرد نہ ہو سکا۔ انگریزوں نے انہیں سب سے آگے مورچوں پر رکھا، جہاں انہوں نے بدترین حالات کا سامنا کیا۔
مقامی شہریوں کا ردعمل اور مزاحمت
الکُوت کے شہری برطانوی قبضے اور خوراک کی بندش سے شدید طیش میں تھے۔ مقامی آبادی کی ہمدردیاں عثمانیوں کے ساتھ تھیں اور وہ جلد از جلد انگریزوں سے آزادی چاہتے تھے۔
معروف ترک مؤرخ پروفیسر ڈاکٹر اِلبر اورتائلی (مرحوم) اپنی کتاب میں اس صورتحال کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں:



"یہ کہا جا سکتا ہے کہ عثمانی فوج نے چاروں اطراف سے الکوُت کو گھیر لیا تھا، جبکہ پانچویں جانب سے اندر موجود مقامی شہریوں نے بھی انگریزوں کا محاصرہ کر رکھا تھا۔”
رشوت کی پیشکش اور خلیل پاشا کا تاریخی جواب
جب برطانوی جنرل ٹاؤن شینڈ کو اپنی شکست یقینی نظر آئی تو اس نے عثمانی کمانڈر خلیل پاشا کو پہلے 10 لاکھ برطانوی پاؤنڈز اور بعد ازاں 20 لاکھ پاؤنڈز کی بھاری رشوت پیش کی تاکہ ترک فوج محاصرہ ختم کر دے۔
اس پیشکش پر خلیل پاشا نے وہ تاریخی جواب دیا جو آج بھی تاریخ کا حصہ ہے:
"ہمیں آپ کی پیش کی گئی اس رقم کی کوئی ضرورت نہیں ہے؛ ہمیں صرف آپ کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کی ضرورت ہے۔”برطانوی غرور کا خاتمہ: فتح کے اہم اعداد و شمار
بالآخر 29 اپریل 1916 کو برطانوی فوج کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ یہ امریکہ کی جنگِ آزادی میں ‘یارک ٹاؤن’ (1781) کے بعد انگریزوں کی جانب سے اتنے بڑے پیمانے پر ہتھیار ڈالنے کا پہلا واقعہ تھا۔
- محاصرے کا دورانیہ: 147 دن
- ہتھیار ڈالنے والے برطانوی فوجی: 13,300
- قیدی بنائے گئے افسران: 481
- گرفتار جرنیلوں کی تعداد: 13
اس شاندار فتح کے بعد خلیل پاشا کو "کُوت” کا لقب دیا گیا اور آج تاریخ انہیں خلیل کُوت پاشا کے نام سے جانتی ہے۔"یہ ایک عظیم قوم کا ہتھیار ڈالنے سے انکار تھا”
فتح کے بعد خلیل کُوت پاشا نے اپنی فوج کے نام ایک ولولہ انگیز پیغام جاری کیا:
"میرے شیروں! آج یہ سُرخ سرزمین تمام ترکوں کے لیے باعثِ شرف و شان ہے، جبکہ انگریزوں کے لیے محض ایک سیاہ میدان۔ اس دھوپ سے بھرے آسمان میں جب ہمارے شہداء کی روحیں خوشی کے ساتھ بلند ہو رہی ہیں، میں آپ کی پاکیزہ پیشانیوں کو چومتا ہوں اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔”اگرچہ برسوں سے مغربی تاریخ دانوں نے اس عظیم فتح کو دبانے کی کوشش کی ہے، لیکن ‘کُوت الامارہ’ آج بھی اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ تکنیکی اور مادی برتری کے خلاف ایمان، عزم اور بہترین حکمتِ عملی ہمیشہ فتح یاب ہوتی ہے۔
