انقرہ / ایتھنز: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے دورہ یونان اور ترکیہ مخالف بیانات نے بحیرہ روم کے خطے میں سفارتی تناؤ کو ایک نئی اور خطرناک نہج پر پہنچا دیا ہے۔ یونان کے ساتھ دفاعی معاہدے کی آڑ میں ترکیہ کو عسکری طاقت کے استعمال کی براہِ راست دھمکی پر انقرہ کی جانب سے انتہائی سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں اسے فرانس کی افریقہ میں ناکامیوں کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے۔


یونان کے ساتھ دفاعی ڈیل اور میکرون کا اشتعال انگیز بیانیہ
صدر ایمانوئل میکرون نے گزشتہ ہفتے ایتھنز کا دو روزہ اہم دورہ کیا، جس کا بنیادی محور یونان کے ساتھ دفاعی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ اس موقع پر یونان کو رافیل (Rafale) لڑاکا طیاروں اور جدید فریگیٹس (Frigates) کی فراہمی کے بڑے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
تاہم، سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، میکرون نے یونانی وزیر اعظم کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں ترکیہ کو براہِ راست نشانہ بنایا اور دھمکی آمیز لہجے میں کہا:
"اگر یونان کی علاقائی خودمختاری کو ترکیہ سے کوئی خطرہ لاحق ہوا تو فرانس خاموش نہیں رہے گا، بلکہ عسکری طور پر یونان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔”
قبرص کے معاملے پر فرانس کا مؤقف
صدر میکرون نے مزید کہا کہ جزیرہ قبرص کے معاملے پر فرانس اپنے مؤقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا، اور ان پیچیدہ حالات میں یونان کا ساتھ دینا ہی ‘فرانسیسی اتحاد’ کا خاصہ ہے۔
مشرقی بحیرہ روم اور قبرص کا دیرینہ تنازع (پسِ منظر)
یاد رہے کہ ترکیہ اور یونان کے درمیان بحیرہ روم میں سمندری حدود کی تقسیم اور گیس کے ذخائر پر دیرینہ تنازع موجود ہے۔ اس کے علاوہ 1974 کی جنگ کے بعد سے جزیرہ قبرص دو حصوں میں تقسیم ہے:

- شمالی حصہ: 35 فیصد رقبے پر ‘ترک جمہوریہ شمالی قبرص’ قائم ہے جسے ترکیہ کی حمایت حاصل ہے۔
- جنوبی حصہ: بقیہ حصے پر یونانی انتظامیہ کا کنٹرول ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر فرانس، اسرائیل اور بھارت جیسے ممالک کی حمایت حاصل ہے۔
ترکیہ کا دوٹوک جواب: "میکرون اپنی سیاسی ناکامی چھپا رہے ہیں”
ترک وزارتِ خارجہ نے فرانسیسی صدر کے ان دھمکی آمیز بیانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں ‘غیر ضروری اور اشتعال انگیز’ قرار دیا ہے۔ ترک دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ سخت اعلامیے میں درج ذیل نکات اٹھائے گئے ہیں:

- عزم پر کوئی سمجھوتہ نہیں: مشرقی بحیرہ روم میں ترکیہ کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے حوالے سے ہمارا عزم کسی بھی بیرونی دھمکی سے ہرگز متاثر نہیں ہوگا۔
- نوآبادیاتی ماضی کا سایہ: فرانس کی جانب سے ترکیہ پر بلاجواز تنقید دراصل افریقہ میں اس کی حالیہ نوآبادیاتی ناکامیوں اور وہاں ترکیہ کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی خفت کا نتیجہ ہے۔
- سیاسی بے بسی: انقرہ نے واضح کیا کہ میکرون کا یہ تلخ لب و لہجہ ان کی اپنی داخلی سیاسی نااہلی اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی بے بسی کا عکاس ہے۔
ترک قیادت اور تجزیہ کاروں کا تجزیہ
ترک حکمران جماعت ‘آق پارٹی’ (AK Party) کے ترجمان عمر چیلِک نے بھی فرانسیسی مؤقف پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس کو ترکیہ جیسے خطے کے اہم ترین اتحادی کے ساتھ تعلقات بگاڑنے کے بجائے انہیں درست سمت میں لانے پر توجہ دینی چاہیے۔
خطے کے امن کو خطرہ: ترک سفارتی حکام اور سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ فرانس کی جانب سے یونان کی اس طرح کی اندھی پشت پناہی خطے میں امن قائم کرنے کی تمام کوششوں کو سبوتاژ کر رہی ہے۔ ترکیہ ماضی میں بھی فرانس کی علاقائی کشیدگی کو بھڑکانے کی پالیسیوں پر مسلسل تنقید کرتا رہا ہے۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر میکرون اس وقت اپنی گرتی ہوئی ملکی مقبولیت سے فرانسیسی رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک فرضی ‘خارجہ دشمن’ کا سہارا لے رہے ہیں۔ تاہم، ان کی اس خطرناک سیاسی بیان بازی سے مشرقی بحیرہ روم کے پہلے سے حساس خطے میں کشیدگی اور تصادم کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
