ابوظہبی / عالمی ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ میں جاری ‘ایران جنگ’ اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والے شدید توانائی بحران کے عین وسط میں، متحدہ عرب امارات (UAE) نے ایک تہلکہ خیز اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ چند دنوں میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک (OPEC) اور اوپیک پلس (OPEC+) سے باقاعدہ طور پر علیحدہ ہو جائے گا۔
یو اے ای حکومت کے مطابق یہ غیر معمولی فیصلہ یکم مئی 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔
"یہ ہمارا خودمختار فیصلہ ہے” — یو اے ای کا مؤقف
سرکاری بیان کے مطابق یہ اقدام ملک کے طویل المدتی معاشی اور اسٹریٹجک وژن کا حصہ ہے۔ متحدہ عرب امارات اپنی توانائی پالیسی کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ازسرِنو ترتیب دے رہا ہے۔
یو اے ای کے وزیرِ توانائی سہیل محمد المزروعی نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اس فیصلے کی تفصیلات بتائیں:

- بغیر کسی مشاورت کے فیصلہ: انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم معاملے پر سعودی عرب یا کسی دوسرے خلیجی ملک سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ یہ مکمل طور پر یو اے ای کا ایک آزاد اور خودمختار پالیسی فیصلہ ہے۔
- مارکیٹ پر اثرات: ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے باوجود، یو اے ای کے اوپیک چھوڑنے سے عالمی مارکیٹ پر ‘فوری طور پر’ کوئی بڑا اثر پڑنے کا امکان کم ہے، تاہم وہ مقامی توانائی پیداوار اور متبادل توانائی منصوبوں میں سرمایہ کاری بڑھائیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سفارتی کامیابی؟
سیاسی اور معاشی مبصرین اس پیش رفت کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بہت بڑی سفارتی اور جیو پولیٹیکل کامیابی قرار دے رہے ہیں۔
- ٹرمپ ماضی میں اوپیک پر بارہا کڑی تنقید کرتے رہے ہیں کہ یہ تنظیم مصنوعی طور پر تیل کی پیداوار کم کر کے قیمتیں بڑھاتی ہے، جس سے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔
- انہوں نے کئی مواقع پر خلیجی ممالک کی امریکی سکیورٹی پر انحصار اور تیل کی بلند قیمتوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر وارننگز بھی دی تھیں۔
خلیجی ممالک پر یو اے ای کی کھلی تنقید
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یو اے ای نے خطے میں جاری کشیدگی پر اپنے قریبی اتحادیوں کے رویے پر بھی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ یو اے ای کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے "گلف انفلوئنسرز فورم” سے خطاب کرتے ہوئے خلیجی ممالک کو آڑے ہاتھوں لیا:
"ایران جنگ کے دوران خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ممالک نے صرف لاجسٹک سطح پر ایک دوسرے کی مدد کی ہے، جبکہ سیاسی اور عسکری سطح پر ان کا مشترکہ ردعمل انتہائی کمزور اور مایوس کن رہا ہے۔”
ماہرین کی رائے اور مستقبل کا منظرنامہ
اگرچہ وزیرِ توانائی نے فوری اثرات کو مسترد کیا ہے، لیکن عالمی توانائی ماہرین اس فیصلے کو مستقبل میں تیل کی قیمتوں اور پیداوار کی عالمی پالیسیوں کے لیے ایک بہت بڑا ‘گیم چینجر’ قرار دے رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات طویل عرصے سے اوپیک کا ایک اہم اور بااثر رکن رہا ہے۔ تاہم، اس کی اوپیک سے علیحدگی اس بات کا واضح اور دوٹوک اشارہ ہے کہ ابوظہبی اب مشرقِ وسطیٰ میں زیادہ آزاد، جارحانہ اور مکمل طور پر خودمختار خارجہ و معاشی پالیسی اختیار کرنے کی راہ پر چل پڑا ہے۔
